جمعرات, اگست 16, 2012

امریکہ: فوجی کی داڑھی پراعتراض، سماعت معطل ۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ شدت پسندی نہیں

میجر ندال حسن
امریکہ میں قتل کے ملزم ایک مسلم فوجی نفسیاتی ماہر میجر ندال حسن کے مقدمہ پر سماعت کے دوران ان کی داڑھی پر اعتراض ہوا ہے جس کے بعد عدالتی کارروائی معطل کردی گئی۔

میجر ندال حسن پر امریکہ کے ایک فوجی اڈے پر تیرہ افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کرنے کا الزام ہے۔

اس مقدمہ پر سماعت کے دوران عدالت نے یہ کہتے ہوئے کارروائی معطل کردی کہ آيا ان کی داڑھی کو ہٹانے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

میجر ندال کے وکلاء کا کہنا تھا کہ داڑھی ان کے اسلامی عقیدے کا ایک اظہار ہے لیکن فوجی اصول و ضوابط کے مطابق ایک فوجی کو کلین شیو ہونا ضروری ہے۔

فوج کی طرف سے یہ بھی دلیل پیش کی گئی کہ ’داڑھی بڑھنے کے سبب گواہوں کو اُن کی شناخت میں مشکل آتی ہے۔‘

میجر ندال حسن پر دو ہزار نو میں ٹیکساس کے فورڈ ہوڈ فوجی ہوائی اڈے پر فوجیوں پر فائرنگ کرنے کا الزام ہے۔

امریکی فوجی اڈے پر یہ اپنی نوعیت کا ایک بھیانک فائرنگ کا واقعہ تھا اور اگر ندال قصوار وار پائے گئے تو اکتالیس سالہ حسن ندال کو سزائے موت سنائي جاسکتی ہے۔

اس مقدمہ کی سماعت میں کئی بار پہلے بھی تاخیر ہوئی ہے۔ پہلی بار جون میں سماعت کے لیے میجر ندال کو ٹیکساس کے سینٹرل فوجی کامپلیکس میں داڑھی کے ساتھ پیش کیا گيا تھا۔

پیر کے روز ان کے کورٹ ماشل سے پہلے میجر ندال کو بدھ کے روز عدالت کے روبرو کچھ اعتراف کرنا تھا لیکن اب ان کی بڑھی ہوئی داڑھی کے تنازع پر فیصلے تک عدالتی کارروائی روک دی گئي ہے۔

چونکہ کلین شیو کے بغیر فوجی اصول کی خلاف ورزی ہوتی ہے اس لیے جج نے ابھی تک انہیں عدالت میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دی ہے۔

ان پر توہین عدالت کے جرم میں ایک ہزار ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کیا جاچکا ہے اور انہیں عدالتی کارروائي عدالت کے پاس ایک کمرے میں ٹی وی پر دیکھنا پڑتا ہے۔

لیکن جج کا کہنا ہے کہ کورٹ مارشل کے وقت انہیں موجود رہنا ضروری ہے کیونکہ اگر وہ قصوروار پائے جائیں تو اپیل کے لیے ان کے پاس وجوہات موجود ہوں۔

میجر ندال کے وکلاء کی دلیل ہے کہ ان کے ’موکل کو اپنی موت کا پہلے سے احساس ہے اور انہیں یقین ہے کہ داڑھی کے بغیر موت ایک گناہ ہوگا۔ ان کے مطابق زبردستی ان کی داڑھی منڈوانا ان کے حقوق کی پامالی ہوگي۔‘

فائرنگ کے واقعے میں پولیس کی جوابی کارروائی میں میجر ندال زخموں کے سبب وہ سینے کے جسم کے نچلے حصے سے مفلوج ہوگئے تھے۔ انہیں ہسپتال کے ایک خصوصی وارڈ میں رکھا گيا ہے۔

امریکہ: فوجی کی داڑھی پراعتراض، سماعت معطل

مصری اولمپک دستہ، عریاں فلمیں اور شیشہ

مصر کی ریسلنگ ٹیم کے دو کھلاڑی اپنے دوسرے راؤنڈ کے
 مقابلوں میں حاضر ہی نہ ہوئے
لندن اولمپکس میں دو نقرئی تمغے جیتنے والی مصری دستے کے وطن واپس پہنچنے پران کا استقبال کرنے والا تو کوئی نہ تھا لیکن ان سے پوچھ گچھ کے لیے اہلکار ضرور وہاں موجود تھے۔

دو ہزار بارہ کے مقابلوں کے دوران مصری دستے کے ساتھ کئی ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے ملک میں ایک بھرپور سکینڈل کا روپ دھار لیا اور اب اس سلسلے میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔

مصری ٹیم اولمپک مقابلوں میں شرکت کے لیے جس ہوٹل میں ٹھہری تھی اسے اچانک اس وقت مکمل طور پر خالی کرنا پڑا تھا جب مصری فٹبال ٹیم کے ارکان میں سے ایک کے کمرے سے دھواں نکلنے لگا۔

مصری فٹبالر جن کمروں میں قیام پذیر تھے انہیں میں سے ایک میں ’شیشہ‘ یعنی حقہ پیا جا رہا تھا جس کے سبب دھواں اٹھا اور پورے ہوٹل میں فائر الارم بج پڑے۔

مصر کی ریسلنگ ٹیم کے دو کھلاڑی اپنے دوسرے راؤنڈ کے مقابلوں میں حاضر ہی نہ ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنا نظام الاوقات یا شیڈول دیکھا اور نہ ہی کسی نے انہیں اس بارے میں بتایا۔

یہی نہیں مصری ٹیم کو ’نائیکی‘ کے نقلی جوتے اور دیگر سامان فراہم کیا گیا نتیجتاً ہنگامی بنیاد پر ’نائیکی‘ کو انہیں اصل ’کٹ‘ فراہم کرنا پڑی۔

سونے پر سہاگہ یہ کہ فٹبال ٹیم کے ایک کھلاڑی کی وجہ سے مصریوں کو سات سو پاؤنڈ کا اضافی بل بھرنا پڑا کیونکہ موصوف ’عریاں‘ فلمیں دکھانے والے کئی چینل مستقل دیکھتے رہے۔ مصر کی طرف سے اولمپک مقابلوں میں شرکت کرنے والا مصری تاریخ کا یہ سب سے بڑا دستہ تھا لیکن اسے چوروں کی طرح منہ چھپا کر واپس پہنچنا پڑا۔

مصری اولمپک دستہ، عریاں فلمیں اور شیشہ

امریکا کا آواز سے چھ گنا تیز سفر کا تجربہ ناکام

امریکی فضائیہ کا کہنا ہے کہ ’ویو رائیڈر‘ نامی ہائپر سونک جیٹ کے آواز کی رفتار سے چھ گنا زیادہ رفتار سے سفر کرنے کا تجربہ ایک مرتبہ پھر ناکام ہوگیا ہے۔

میک کسی شے کی رفتار کے آواز کی رفتار سے تناسب کا نام ہے اور درجۂ حرارت اور بلندی جیسے عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک میک اندازاً سات سو اڑسٹھ میل فی گھنٹہ کے برابر ہوتا ہے۔

’میک چھ‘ یا تین ہزار چھ سو میل فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے لندن سے نیویارک کا سفر ایک گھنٹے میں طے کرنا ممکن ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ویو رائیڈر کے تازہ تجربے کے دوران اسے ایک بی باون بمبار طیارے کی مدد سے بحرالکاہل کے اوپر پچاس ہزار فٹ کی بلندی سے چھوڑا گیا لیکن تکینکی خرابی کی وجہ سے اس کا سپرسانک انجن چل ہی نہیں سکا اور جہاز بحرالکاہل میں گر کر لاپتہ ہوگیا۔

امریکی فضائیہ کے ترجمان کے مطابق جیٹ کی پرواز کے سولہویں سیکنڈ میں ہی خرابی کا پتہ چل گیا تھا۔ امریکی فضائیہ کی تحقیقاتی تجربہ گاہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’بدقسمتی سے ثانوی نظام میں خرابی کی وجہ سے اس سے قبل کہ ہم سکریم جیٹ انجن چلا پاتے مشن ناکام ہوگیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تمام ڈیٹا کے مطابق ہم نے انجن چلانے کے لیے بہترین حالات پیدا کرلیے تھے اور ہم اپنے تجربے کے اہداف حاصل کرنے کے لیے پرامید تھے‘۔

یہ لگاتار دوسرا موقع ہے کہ اس جیٹ کا انجن چلنے میں ناکام رہا ہے۔ دو ہزار گیارہ کیے گئے ایک اور تجربے میں بھی جیٹ کا انجن چل نہیں سکا تھا تاہم جون دو ہزار دس میں کیے گئے ایک تجربے میں ویو رائیڈر نے آواز سے پانچ گنا زیادہ تیز رفتار سے سفر کیا تھا لیکن وہ اپنی مطلوبہ رفتار تک پہنچنے میں ناکام رہا تھا۔

اب امریکی فضائیہ کے پاس صرف ایک ایکس اکیاون اے تجرباتی جیٹ باقی بچا ہے اور ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ آیا فضائیہ چوتھی مرتبہ تجربہ کرے گی یا نہیں۔

یہ منصوبہ ایک ہائپرسونک طیارے کی تیاری کے لیے جاری کئی منصوبوں میں سے ایک ہے۔ اس منصوبے کے لیے امریکی محکمۂ دفاع اور امریکی خلائی ادارے ناسا نے رقم فراہم کی ہے اور یہ تیز رفتار میزائلوں کی تیاری کے منصوبے کا حصہ ہے۔

اس سلسلے میں کی جانے والی تحقیق کو ایسے مسافر طیاروں کی تیاری کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جو موجودہ زمانے کے جیٹ طیاروں سے کہیں تیز اڑ سکیں۔

ماضی میں کنکارڈ طیارے آواز سے دگنی رفتار سے سفر کرتے رہے ہیں اور وہ لندن سے نیویارک کا سفر تین گھنٹے میں طے کیا کرتے تھے۔ تاہم سنہ انیس سو ترانوے کے بعد سے ان کا استعمال ترک کردیا گیا تھا۔

یورپی ایروسپیس کمپنی اِیڈز کے نائب صدر پیٹر روبی کا کہنا ہے کہ ہائپر سونک مسافر طیارے مستقبل قریب میں سامنے آنے لگیں گے۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بحرِ اوقیانوس کے دونوں جانب سپر سانک سے ہائپر سونک پرواز تک کے سفر کے بارے میں دلچسپی پائی جاتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اس قسم کا جہاز نہایت مہنگا ہوگا کیونکہ اس قسم کی رفتار کے حصول کے لیے بےپناہ توانائی درکار ہوتی ہے۔ لیکن کاروباری اور سیاسی شخصیات کے لیے ڈھائی گھنٹے میں ٹوکیو سے پیرس پہنچنے کا خیال ہی بہت پرکشش ہے۔ میرے خیال میں دو ہزار پچاس تک مارکیٹ میں قابلِ عمل ہائپرسونک مسافر طیارہ آ جائے گا‘۔

آواز سے چھ گنا تیز سفر کا تجربہ ناکام

بدھ, اگست 15, 2012

آواز سے چھ گنا تیز رفتار طیارے کا تجربہ

امریکی فوج نے منگل کو بحرالکاہل پر سے پائلٹ کے بغیر چلنے والے ایک انتہائی تیز رفتار طیارہ اڑانے کا تجربہ کیا، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کی رفتار آواز کی سے چھ گنا زیادہ تھی۔

امریکی ایئر فورس نے کہاہے کہ تجرباتی طیارہ ویو رائیڈر کو 15000 ہزار میٹر کی بلندی پر بی 52 بمبار طیارے کے بازو سے سے فضا میں چھوڑا گیا۔

جس کے بعد ٹھوس راکٹ بوسٹر اور میزائل کی شکل کے انجن کے استعمال کرنے سے اس کی رفتار 7300 میل فی گھنٹہ بڑھ گئی۔

ویو رائیڈر اپنی پانچ منٹ کی تجرباتی پرواز کے دوران 21000 میٹر کی بلندی پر پہنچ گیا، جس کے بعد وہ غوطہ لگا کر سمندر میں ڈوب گیا۔ فوجی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ان کا طیارے کو سمندر سے نکالنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

اس سےپہلے مئی 2010ء میں ایک اور طیارے کی تجرباتی اڑان میں آواز سے پانچ گنا رفتار کا تجربہ کیا گیا تھا لیکن تکنیکی خرابی پیدا ہوجانے کے سبب اس تجربے کو ادھورا چھوڑنا پڑا تھا۔

امریکہ کے دفاعی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ہائیپرسونک طیارے کے کامیاب تجربوں سے ایک روز امریکی فضائیہ کی قوت کو نمایاں طور پر بڑھانے میں مدد ملے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے کمرشل طیاروںں کی رفتار میں بھی غیرمعمولی اضافہ کیا جاسکتا ہے، جس کے نتیجے میں لندن اور نیویارک کے درمیان پرواز کا دورانیہ سمٹ کر ایک گھنٹے سے بھی کم ہوجائے گا۔

آواز سے چھ گنا تیز رفتار طیارے کا تجربہ

برما: روہنگیا مسلمانوں کے لیے سکول کھولنے پر غور

برما کے صدر تھین سین نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اقلتی روہنگیا مسلمانوں میں تعلیم کی شرح بہتر بنانے کے لیے وہاں سکول کھولے گی۔

روہنگیا مسلمان، بودھ اکثریتی ریاست پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ ان پر مظالم ڈھا رہی ہے۔

وائس آف امریکہ کی برمی سروس کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں صدر تھین سین نے کہا کہ مختلف کمیونٹیز کے درمیان انسانی حقوق کے احترام اور ہم آہنگی کے فروغ میں مدد کے لیے تعلیم ایک اہم ذریعہ ہے۔

پیر کے روز برما کے دارلحکومت نے پیٹاؤ میں لیے گئے اس انٹرویو میں برما کے صدر نے روہنگیا مسلمانوں کے بنگالی کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ان کے علاقوں میں صرف دینی مدرسے ہیں اور بقول ان کے وہاں صحیح تعلیم کے لیے کوئی ادارہ موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت روہنگیا کے لیے سکول کھولے گی اور انہیں جدید تعلیم فراہم کرنے کے اقدامات کرے گی۔ اور جب وہ تعلیم حاصل کرلیں گے تو وہ اچھے اور برے میں صحیح تمیز کرسکیں گے۔

برما کی حکومت روہنگیا مسلمانوں کو، جن کی تعداد آٹھ لاکھ کے لگ بھگ ہے، اپنا شہری تسلیم کرنے اور شہریت دینے سے انکار کرتی ہے۔ اکثر برمی باشندوں کا خیال ہے کہ روہنگیا بنگلہ دیش سے آنے والے غیرقانونی تارکین وطن ہیں۔

مسٹر تھین سین نے یہ بھی کہا کہ وہ برما کے شہریت سے متعلق برما کے 1982 کے قانون کو تبدیل کرنا ضروری سمجھتے ہیں، جس کے تحت تارکین وطن کی تیسری نسل کو برما کی شہریت حاصل کرنے کا استحقاق حاصل ہوجاتا ہے۔ انہوں نے اس بارے میں مزید کچھ نہیں کہا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت حالیہ فسادات کے متاثرین کی مدد کررہی ہے اور انسانی حقوق سے متعلق برما کے آزاد کمشن سے شورش کی تحقیقات کرنے کے لیے کہا ہے۔

مئی میں پھوٹ پڑنے والے فسادات کے نتیجے میں دونوں کمیونیٹز کے 77 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے لیے کسی غیرملکی کمشن کی ضرورت نہیں ہے۔
 

وزیراعظم کے بچنے کا امکان نہیں، اعتزاز احسن

پیپلزپارٹی کے سینیٹر اور عدلیہ بحالی تحریک میں اہم کردار ادا کرنے والے معروف قانون داں چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ عدلیہ آئینی حدود سے تجاوز کررہی ہے، این آر او عملدرآمد کیس میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے بچاؤ کا بھی کوئی امکان نہیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ صدرآصف علی زرداری کو فوجداری مقدمات میں آئین نے استثنیٰ دیا ہے۔ ان کے خیال میں اگر وزیراعظم عدالت کے کہنے پر سوئس حکام کو خط لکھتے ہیں تو آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔ عدالت کے پاس آئین تبدیل کرنے کا اختیار نہیں ہے لیکن وہ ایک وزیراعظم کے بعد دوسرے کو گھر بھیج کر کریز سے باہر نکل رہی ہے اور آئینی حدود کے باہر قدم رکھ رہی ہے۔

اعتزاز احسن کے بقول بعض عناصر عدلیہ کو استعمال کررہے ہیں اور سیاسی میدانوں سے معاملات اٹھا کر عدالت میں لے جاتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ایسے سیاستدان بھی قصور وار ہیں۔
 
ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی درخواست پر عدالت ایک دن میں کمیشن قائم کردیتی ہے، عمران خان کی درخواست کے دوسرے ہفتے بعد وزیراعظم گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ اپوزیشن کے دیگر راہنماؤں کی درخواستوں کی فوری سماعت ہوجاتی ہے۔ عدلیہ کو سیاسی مقدمات کے بجائے لوگوں کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ این آر او عملدرآمد کیس میں یوسف رضا گیلانی کی نا اہلی کے بعد وہ نہیں سمجھتے کہ عدلیہ اور حکومت کے مابین کوئی درمیانی راستہ نکل سکتا ہے لہذا راجہ پرویز اشرف کے حوالے سے بھی کسی رعایت کا امکان نہیں۔
 
پارلیمنٹ کی مدت مکمل ہونے تک عدلیہ وزیراعظم کو نا اہل قرار دیتی رہے گی جبکہ پارلیما ن نیا وزیراعظم منتخب کرتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت پارلیمان کو تحلیل کرسکتی ہے اور نہ ہی فوج سیاسی معاملات میں مداخلت کرسکتی ہے۔
 

خاتون کے کان میں مکڑی

چین میں ایک خاتوں سر کے بائیں جانب کھجلی کی شکایت لے کر چنگشا سینٹرل اسپتا ل آئیں تو ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ ان کے کان کی نالی میں پچھلے پانچ دنوں سے ایک مکڑی رہائش پذیر ہے۔

خبروں کے مطابق ڈاکٹروں نے نمکین پانی کی مدد سے بہا کر اس مکڑی کو کان سے باہر نکالا۔ ڈاکٹروں نے پانی اس لئے استعمال کیا کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ کہیں مکڑی اور اندر نہ چلی جائے یا خاتون کو کاٹ نہ لے۔

پانی کے ذریعے بہا کر مکڑی کو باہر نکالنے کا طریقہ کامیاب رہا۔ خبروں کے مطابق جب ڈاکٹروں نے خاتون کو بتایا کہ مکڑی ان کے کان سے نکل گئی ہے تو اس کی آنکھیں تشکر کے آنسوؤں سے بھر گئیں۔ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ یہ مکڑی خاتون کے گھر مرمت کے کام کے دوران داخل ہوئی اور سوتے میں اس کے کان میں گھس گئی۔

سی این این کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں حدت اور خشک سالی کی وجہ سے مکڑیاں اور دوسرے حشرات پورے امریکہ میں بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔

امریکہ میں نیشنل پیسٹ مینجمنٹ میں کام کرنے والے ماہرِ حشرات جم فریڈرکس نے سی این این کو بتایا کہ’’حشرات سرد خون رکھتے ہیں، اس لئے گرمی میں تیزی سے بڑھتے ہیں جس سے اب ان کی زیادہ نسلیں پیدا ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برسوں کے موسم گرما کی نسبت اس بار زیادہ حشرات نظر آئے ہیں۔‘‘

خاتون کے کان میں مکڑی

روس میں اسلامی ٹی وی چینل کا افتتاح

روس میں پہلے اسلامی ٹی وی چینل کا افتتاح عیدالفطر کے روز انیس اگست کو ہوگا۔ یہ ٹی وی چینل کیبل ٹیلی ویژن کے اس پیکج میں شامل ہوں گی جس میں آرتھوڈکس عیسائیت سے منسوب دو ٹی وی چینل پہلے سے شامل ہیں۔ اسلامی ٹی وی چینل کا نام ”آل آر ٹی وی“ رکھا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اس کے ناظرین کی تعداد کروڑوں میں ہوگی، ٹی وی اور ریڈیو سے متعلق یویشین اکادمی کے صدر اور نئے اسلامی ٹی وی چینل کے مدیر اعلٰی رستم عارف جانوو نے کہا۔ روس میں مسلمانوں اور اسلام میں دلچسپی لینے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ مزید برآں اندازہ ہے کہ نئے ٹی وی چینل کی نشریات سی آئی ایس کے دیگر رکن ممالک بالخصوص قزاخستان، آذربائجان اور کرغیزستان میں بھی پیش کی جائیں گی جہاں کی آبادی کو روسی زبان پر عبور حاصل ہے۔ ”آل آر ٹی وی“ چینل کے پروگرام یوکرینی جزیرہ نما کرائیمہ میں بھی دکھائے جائیں گے جہاں مسلمان اقلیت آباد ہے۔

روس میں اسلامی ٹی وی چینل کا افتتاح

گوگل کے’ڈُوڈل‘ فن ہیں یا کاروبار؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ گوگل کے ویب صفحے پر کمپنی کے لوگو یا علامتی نشان کی جگہ ہر دن نظر آنے والے ایک نئے ڈیزائن کے پیچھے کس کا دماغ کارفرما ہوتا ہے۔

اس ڈیزائن کو ’ڈوڈل‘ بھی کہا جاتا ہے جسے ہر روز کروڑوں افراد دیکھتے ہیں۔

کبھی ماؤس کے ایک اشارے پر بجنے والا لیس پال گٹار، کبھی رابرٹ موگ کی یاد میں پیك مین گیم تو کبھی اولمپک کھیلوں سے متعلق کارٹون، یہ گوگل کے ہوم پیج پر اب تک کے دکھائی دینے والے کچھ بہترین ’ڈوڈلز‘ میں سے کچھ ہیں۔

جو چیز سنہ انیس سو اٹھانوے میں انگلش میں لکھے گئے گوگل کے لفظ ’او‘ سے بنی ایک شکل ہوا کرتی تھی اب وہ کسی کھیل، مقبول واقعے یا کسی شخصیت سے متعلق ایک فنی شے بن گئی ہے۔

اب تک تقریباً ایک ہزار سے زیادہ ڈوڈلز بن چکے ہیں جو مشہور کے ساتھ ساتھ کم جانی پہچانی شخصیات سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔

ان میں سے کچھ تو بہت دلچسپ اور کچھ بےتكے بھی ہوتے ہیں، لیکن انہیں کافی پسند کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے ہر روز گوگل کا استعمال کرنے والے کروڑوں لوگوں کی توجہ ان ڈوڈلز کی طرف جاتی ہے۔

لندن میں دو ہزار بارہ کے اولمپکس مقابلے جتنے دن جاری رہے ہر دن کسی ایک کھیل سے منسلک ایک نیا ڈوڈل گوگل کے ہوم پیچ پر نظر آتا رہا۔

کبھی یہاں تیراکی سے متعلق معلومات ہوتی تھیں تو کبھی نشانے بازي سے متعلق، اور ہر نئے ڈوڈل کے ساتھ انٹرنیٹ پر اس سے متعلق ان گنت مضمون پڑھے جاسکتے تھے۔

ہر دن ایک ایسی نئی چیز کے ساتھ لوگوں کو لبھانا کوئی آسان کام نہیں۔ مثلاً چارلي چپلن کے ڈوڈلز دیکھیں تو انہیں دیکھ کر آپ کو اس ٹیم کے بارے میں تھوڑا بہت سمجھ میں آئے گا جو اپنے آپ کو بھی ’ڈوڈلرز‘ کہتے ہیں اور اس کام کو سرانجام دیتے ہیں.

یہ وہ لوگ ہیں جو کیلیفورنیا کے ایک چھوٹے سے آفس میں بیٹھ کر ہر روز ایک نیا ڈوڈل بناتے ہیں۔ ان ڈوڈلز کا بنیادی مقصد دفاتر میں روزمرہ کا کام کررہے لوگوں کی دلچسپی بڑھانا اور انہیں ایک مختلف قسم کا احساس کرانا ہے۔

اس ٹیم کے تخلیقی لیڈر ريان جرمك کے مطابق ان کے دماغ پر کبھی بھی یہ بات حاوی نہیں ہوتی کی ان کے کام کو لاکھوں لوگ دیکھ یا پڑھ رہے ہیں.

جرمك کہتے ہیں، ’انسانی دماغ یہ سمجھ پانے میں ناکام ہے کہ کسی چیز کو لاکھوں لوگ کس طرح سے لیں گے۔ میرے لیے زیادہ معنی یہ رکھتا ہے کہ میں اپنے ساتھیوں اور دوستوں کو کتنا ہنسا سکتا ہوں یا کیسے کوئی نئی ٹیکنالوجی سیکھ سکتا ہوں۔ ہمیں فنکار یا ڈیزائنرز کے زمرے میں مت رکھیں۔ ہم بس یہ یقین کرنا چاہتے ہیں کہ ہم فن اور ٹیکنالوجی کو سب سے بہتر شکل میں دنیا کے سامنے پیش کرسکیں‘۔

ان کا ماننا ہے کہ وہ تفریح، فن، ٹیکنالوجی اور گرافک ڈیزائن کے درمیان ایک پل کا کام کرتے ہیں۔

ڈوڈل کا انتخاب اس ٹیم کے لیے روز ایک نیا چیلنج ہوتا ہے۔ گوگل کے صفحے پر کس چیز یا موضوع کو جگہ دینی ہے، اس کا فیصلہ کافی جمہوری طریقے سے کیا جاتا ہے۔

اس میں زیادہ توجہ اس چیز پر دی جاتی ہے کہ جو موضوع منتخب کیا گیا ہے، اس میں حیرت کا عنصر کتنا زیادہ ہے اور اس میں امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک میں واقع گوگل کے دفاتر سے ملنے والی معلومات کی بھی کافی اہمیت ہوتی ہے۔

اس تخلیقی عمل کو دیکھ کر یہ بھی سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا ڈوڈل بنانا ایک فن ہے یا اسے محض کاروباری نظر سے دیکھا جائے؟

فن کے بارے میں جو بات کہی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ فن کا کوئی کاروباری پہلو نہیں ہوتا لیکن دیکھا جائے تو ڈوڈل کے معاملے میں تجارتی فن کا ایک عملی پہلو بھی ہے۔

گرافک ڈیزائنر سی سکاٹ کے مطابق ڈوڈلز ایک طرح سے ماڈرن آرٹ کی ہی ایک شکل ہیں لیکن مارکیٹنگ کمپنی سیون براڈز کی چیف ایگزیکٹو آفیسر جیسمن منٹگمري اس سے اتفاق نہیں کرتیں۔

جیسمن کے مطابق، ’جب آپ کو آپ کی تخلیقی صلاحیت کے لیے پیسے دیے جانے لگتے ہیں تب آپ کا کام فن کے دائرے سے باہر ہوجاتا ہے کیونکہ تب آپ اپنے کاروباری كرتا دھرتا کی بات مانتے ہیں نہ کہ تخلیقی گرو کی‘۔

یہ فن ہے یا کاروبار یا پھر دونوں کا مرکب، اس بات پر بھلے ہی اختلاف ہو لیکن اس بات سے انكار نہیں کیا جاسکتا کہ ڈوڈلز کافی دلچسپ اور دلکش ہوتے ہیں اور جب تک گوگل کا انٹرنیٹ بازار پر تسلط برقرار رہے گا، اس وقت تک اس کے ہوم پیج پر نظر آنے والے ڈوڈلز انٹرنیٹ سرفنگ کا ایک اہم حصہ بنے رہیں گے۔

گوگل کے’ڈُوڈل‘ فن ہیں یا کاروبار؟

قبل از وقت پیدائش کا روزے سے کوئی تعلق نہیں

ایک نئی طبی تحقیق کے مطابق قبل از وقت پیدائش کا روزے سے کوئی تعلق نہیں البتہ روزہ دار حاملہ خواتین کے بچوں کا وزن کچھ کم ہوسکتا ہے۔

لبنانی محققین کی اس تحقیق کی رپورٹ ایک بین الاقوامی طبی جریدے BJOG میں شائع ہوئی ہے۔ اس تحقیق کے لیے لبنانی دارالحکومت بیروت کی چار سو حاملہ خواتین منتخب کی گئیں تھیں۔ ان میں سے نصف نے رمضان میں روزہ رکھا تھا اور بقیہ نے روزہ نہیں رکھا تھا۔ تحقیق سے ثابت ہوا کہ دونوں گروپس میں 37 ہفتے سے قبل کے بچے کی پیدائش پر روزہ رکھنے یا نا رکھنے سے فرق نہیں پڑا۔

تحقیقی ٹیم کے نگراں پروفیسر انور ناصر کے بقول نتائج نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کردیا ہے کہ روزہ رکھنے سے قبل از وقت بچے کی پیدائش کا کوئی تعلق نہیں تاہم یہ حقیقت ہے کہ روزہ رکھنے والی خواتین کے بچوں کا وزن خاصا کم ہوتا ہے، کیونکہ روزہ رکھنے والی ماؤں کے جسم میں کیلوریز کم پہنچتی ہیں اور ان کا وزن عام دنوں کے مقابلے میں کم بڑھتا ہے۔ اس کا براہ راست اثر بچے پر پڑتا ہے۔ واضح رہے کہ اسلامی اصولوں کے مطابق حاملہ خواتین کے پاس روزہ قضاء رکھنے کی سہولت موجود ہے۔ ناصر کے بقول اس کے باوجود روزہ رکھنے کی خواہشمند حاملہ خواتین ان سے پوچھتی ہیں کہ آیا وہ روزہ رکھ سکتی ہیں؟

روزے کے انسانی صحت پر پڑنے والے مختلف اثرات پر ماضی میں تحقیق ہوچکی ہے مگر حاملہ خواتین پر اس کے اثرات سے متعلق یہ کسی انگریزے جریدے میں چھپنے والی پہلی تحقیقی رپورٹ ہے۔ تحقیق کے مطابق اوسط بنیادوں پر روزہ دار حاملہ خواتین کے بچوں کا وزن تین کلو گرام جبکہ روزہ قضاء کرنے والی خواتین کے بچوں کا وزن تین اعشاریہ دو کلو گرام تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ روزہ رکھنے والی حاملہ خواتین کا وزن کم بڑھتا ہے۔ عمومی طور پر حاملہ خواتین کا وزن دو کلو تین سو گرام تک بڑھتا ہے جبکہ روزہ رکھنے والی حاملہ خواتین کا وزن ایک کلو چھ سو گرام تک بڑھا۔

قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی صحت پر مستقبل میں کیا اثرات پڑتے ہیں اس بارے میں کوئی ٹھوس بات نہیں کہی جاسکتی تاہم پروفیسر ناصر کے بقول یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایسے بچوں کو بڑے ہوکر عارضہ قلب ہوسکتا ہے۔ پروفیسر ناصر کے بقول حاملہ خواتین اور رمضان کے پہلو پر ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا کے مختلف علاقوں میں مختلف موسم اور روزے کا دورانیہ بھی مختلف ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ طبی سائنس کی اصطلاح میں حمل کے 37 ویں ہفتے سے قبل ہونے والی پیدائش کو بچے کی ’پری میچیور برتھ‘ یا قبل از وقت پیدائش کہا جاتا ہے۔

قبل از وقت پیدائش کا روزے سے کوئی تعلق نہیں

منگل, اگست 14, 2012

سعید اجمل کرکٹر آف دی ایئر کے لیے نامزد

سعید اجمل
پاکستانی آف سپنر سعید اجمل کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے دو ہزار بارہ کے ایوارڈز میں سال کے بہترین کرکٹر کے اعزاز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

اس ایوارڈ کے لیے ان کا مقابلہ جنوبی افریقہ کے ہاشم آملہ، آسٹریلیا کے کپتان مائیکل کلارک، سری لنکن بلے باز کمارا سنگاکارا، انگلش اوپنر الیسٹر کک اور ویسٹ انڈیز کی خاتون کرکٹ سٹیفنی ٹیلر سے ہوگا۔

سعید اجمل اس کے علاوہ ٹیسٹ اور ایک روزہ کرکٹ کے بہترین کھلاڑی کے ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیے گئے ہیں۔

ایک روزہ کرکٹ کے بہترین نامزد کھلاڑیوں کی فہرست میں ایک اور پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی کا نام بھی شامل ہے۔ ان دونوں کے علاوہ پاکستان کے کپتان محمد حفیظ کو ٹی ٹوئنٹی کی بہترین کارکردگی اور سپرٹ آف کرکٹ ایوارڈ کے لیے نامزدگی ملی ہے۔ پاکستان کے نوجوان فاسٹ بولر جنید خان کو سال کے بہترین ابھرتے ہوئے کھلاڑی کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

امپائرنگ کے شعبے میں پاکستان کے دو امپائر علیم ڈار اور اسد رؤف کو آئی سی سی کی فہرست میں جگہ ملی ہے۔ علیم ڈار تین مرتبہ سال کے بہترین امپائر کی ٹرافی جیت چکے ہیں۔

آئی سی سی ایوارڈز دو ہزار بارہ کی تقریب پندرہ ستمبر کو کولمبو میں منعقد ہوگی۔


سعید اجمل کرکٹر آف دی ایئر کے لیے نامزد

اولمپک میں ناکامی، ”سونا بھی کھوٹا اور سنار بھی“

لندن اولمپکس میں پاکستان کے جن اکیس ایتھلیٹس نے شرکت کی ان میں سے کوئی دوسرے راؤنڈ میں بھی قدم نہ رکھ سکا۔ اس طرح پاکستان دنیا کے ان ایک سو بیس بدقسمت ملک میں سے ایک رہا جن کے دستے لندن سے خالی ہاتھ واپس لوٹ رہے ہیں۔

پاکستان کو لندن کھیلوں میں سب سے زیادہ امیدیں حسب روایت ہاکی سے تھیں جن پر آسٹریلیا کے ہاتھوں گروپ میچ میں سات صفر کی شکست نے پانی پھیر دیا۔

سابق اولمپئنز نے اس سنگین ناکامی پر کھیلوں کے کرتا دھرتاؤں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ سابق اولمپئن قمرابراہیم نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ ہاکی ٹیم کی تیاری پر ہاکی فیڈریشن کی انتظامیہ نے ستر کروڑ خرچ کیے مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات رہا اور ٹیم گزشتہ اولمپکس کے مقابلے میں صرف ایک درجہ بہتری پا کر ساتویں نمبر پر آئی۔ جس کے بعد ہاکی فیڈریشن کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔

ایک اور اولمپئن ایاز محمود کا کہنا ہے کہ ہاکی فیڈریشن سمیت کھیلوں کی تنظیموں کی باگ ڈور ان لوگوں کے سپرد کرنی چاہیے جنکی کوئی سیاسی وابستگی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہاکی فیڈریشن کے صدر قاسم ضیاء اور کوچ اختر رسول وغیرہ سب سیاسی وابستگیوں کے سبب کھیل کے سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں اور انہوں نے ہاکی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ہاکی کے معاملات چلانا ان کے بس میں نہیں اورحکومت کو ان کو گھر بھیج دینا چاہیے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اولمپکس سے چارماہ پہلے ولندیزی کوچ مشعل وین ڈین کو اچانک برطرف کردیا تھا اور قمر ابراہیم کے مطابق آسٹریلیا اور برطانیہ جیسی ٹیموں کے خلاف دفاعی اور فاروڈ لائن کے جھاگ کی طرح بیٹھنے کا سبب پیشہ ور کوچ کی عدم موجودگی تھی۔ قمر کے بقول مشعل کے کام میں مداخلت ہورہی تھی جس کے بعد وہ دلبرداشتہ ہوکر چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اولمپکس میں ہر پینالٹی کارنر پر صرف ڈائریکٹ گول کرنے کی کوشش کی اور دوسری کوئی منصوبہ بندی نہ کی گئی جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیم کی تیاری نہ ہونے کے برابر تھی۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے لندن اولمپکس میں ٹیم کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیے جانے کو قمر ابراہیم نے شرمناک قرار دیا۔ 

پندرہ سالہ خاتون پیراک انعم بانڈے کو چار سو میٹر انفرادی میڈلے میں چوتھی پو زیشن ملی
لندن اولمپکس میں پاکستانی خاتون ایتھیلٹس رابعہ عاشق کی آٹھ سو میٹر اور لیاقت علی کی سو میٹر کی دوڑ کوالیفائنگ راؤنڈ میں شروع ہوکر وہیں اختتام کو پہنچ گئی۔ دونوں کچھ اس طرح سے پسپا ہوئے کہ اپنے قومی ریکارڈز کو بھی نہ چھوسکے۔

دستے میں شامل پندرہ سالہ خاتون پیراک انعم بانڈے کو چار سو میٹر انفرادی میڈلے میں چوتھی پوزیشن ملی مگر انہی کے ہم وطن اسرار حسین کو سو میٹر فری سٹائل میں آٹھویں اور آخری نمبر پر اکتفا کرنا پڑا۔ جبکہ واحد شُوٹر خرم انعام کے نشانے سڈنی اور ایتھنز کے بعد لندن میں بھی خطا ہوگئے۔

پاکستانی کھلاڑیوں کی اس ناقص کارکردگی کے بارے میں کھیلوں کے معروف تجزیہ کار وحید خان کہتے ہیں کہ ملک میں کرکٹ اور ہاکی کے علاوہ دیگر کھیلوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ حکومت کے علاوہ نجی ادارے بھی کرکٹ کے علاوہ کسی کھیل کو سپانسر نہیں کرتے جس کی وجہ سے کھلاڑی ان کھیلوں میں دلچسپی لینا چھوڑ رہے ہیں۔ وحید خان کے مطابق پاکستانی کھلاڑیوں میں اس شوق اور جنون کا بھی فقدان ہے جو اولمپک کی اصل روح ہے۔

پاکستان نے انیس سو چھپن سے انیس سو بانوے تک ہر اولمپک میں میڈل ضرور جیتا مگر اس کے بعد سے اٹھارہ کروڑ آبادی کے اس ملک کے لیے اولمپک پوڈیم اور طلائی تمغے تک رسائی دیوانے کا خواب بنتی جارہی ہے اور اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اب سونا بھی کھوٹا ہے اور سنار بھی۔

اولمپک میں ناکامی، ”سونا بھی کھوٹا اور سنار بھی“

مریخ کی پہلی مفصل رنگین تصویر

کیوروسٹی نے ایک اونچے مستول پر نصب وائیڈ اینگل کیمرے کی مدد سے متعدد تصاویر لی تھیں جن میں سے کم ریزولیوشن والی تصاویر کا پینوراما ابتدائی طور پر جاری کیا گیا تھا اور بہتر ریزولیوشن والی تصاویر کے زمین پر پہنچنے کے بعد اب یہ رنگین تصویر سامنے آئی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تصویر سے بظاہر مریخ کی سطح امریکہ کے جنوب مغربی علاقے کی سطح سے مشابہ معلوم ہوتی ہے۔

اس تصویر میں گیل نامی اس گڑھے کا ایک حصہ دکھایا گیا ہے جہاں کیوروسٹی اتری تھی۔ اس گڑھے کی دیوار میں وادیوں کا ایک جال دیکھا جا سکتا ہے جو ممکنہ طور پر باہر سے پانی داخل ہونے کے نتیجے میں بنا ہوگا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ زمین پر موجود سائنسدان مریخ کی سطح پر کسی دریا یا ندی کے آثار واضح طور پر دیکھ پائے ہیں۔

سائنسدان کیوروسٹی کے اترنے کی جگہ کے جنوبی علاقے کی تصاویر کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں واقع ’ماؤنٹ شارپ‘ کے نام سے معروف پہاڑ کی چوٹی کے دامن تک جا کر اس کی چٹانوں کا مطالعہ اس مشن کا کلیدی مقصد ہے۔

اس چوٹی کا دامن کیوروسٹی کے موجودہ مقام سے ساڑھے چھ کلومیٹر دور ہے اور وہاں پہنچنے میں ایک سال لگ سکتا ہے۔

یہ گاڑی اپنے آلات کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ ماؤنٹ شارپ پر موجود چٹانوں کے بنتے وقت مریخ پر کیا حالات تھے، اور آیا اس سیارے کی تاریخ میں ایسا کوئی دور گزرا ہے جب وہاں کسی قسم کی جراثیمی زندگی موجود ہو۔

کیوروسٹی میں دو کیمرے نصب ہیں جو مل کر سٹیریو یا تھری ڈی تصاویر بنا سکتے ہیں۔ یہ کیمرے مریخ گاڑی کے سائنسی مشن کی منصوبہ بندی اور اس بات کا فیصلہ کرنے میں بے حد اہم ثابت ہوں گے کہ گاڑی کس طرف لے جانی ہے اور کس چٹان پر تحقیق کرنی ہے۔

یہ روبوٹک گاڑی اس علاقے کا معائنہ بھی کرے گی جہاں اس کے اترنے کے عمل کے دوران چلنے والے راکٹ کی وجہ سے کچھ چٹانیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔

کیوروسٹی مریخ گاڑی کا مشن امریکی شہر پیسا ڈینا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری سے چلایا جارہا ہے اور سائنس دانوں کی ایک بڑی ٹیم گاڑی کے مستقبل میں کیے جانے والے کام کی منصوبہ بندی کررہی ہیں۔

اس ٹیم نے گاڑی کی لینڈنگ سائیٹ کے آس پاس کے علاقے کو ایک اعشاریہ تین ضرب ایک اعشاریہ تین کلومیٹر کے ٹکڑوں میں بانٹ رکھا ہے جن کا تفصیلی نقشہ، اور ان کے اندر موجود چٹانوں کے خدوخال مرتب کیے جارہے ہیں۔

سب کو ’یوم‘ ”قیام پاکستان“ مبارک





جیوے جیوے جیوے پاکستان
پاکستان پاکستان جیوے پاکستان

یا اللہ ہمارے پیارے ”پاکستان“ کو شاد آباد اور دشمنوں کی میلی آنکھوں سے محفوظ رکھنا۔  آمین ثم آمین۔ ہماری اللہ سے دعا ہے کہ ہمارے ملک میں امن، خوشحالی اور استحکام ہو!

راولپنڈی میں اس وقت رات کے تقریباً 11 بجے خوب گھما گھمی ہے، لوگ بچوں اور خواتین کے ساتھ مری روڈ یعنی بے نظیر شہید روڈ پر گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو سجائے اور قومی پرچم لئے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ 

پیر, اگست 13, 2012

27 ویں اولمپک ، رنگارنگ تقریب، امریکا کی برتری کے ساتھ اختتام پذیر

اختتامی تقریب کا منظر
27 ویں اولمپک گیمز اتوار کو رنگارنگ اور دلکش تقریب میں امریکا کی برتری کے ساتھ ختم ہوگئے ہیں۔ امریکا نے 46 گولڈ، 29 سلور اور 29 برانز میڈلز کے ساتھ مجموعی طور پر 104 تمغے حاصل کئے، چین 38 گولڈ، 27 سلور، 22 برانز میڈل کے ساتھ دوسرے نمبرپر رہا، میزبان برطانیہ 29 گولڈ، 17 سلور اور 19 برانز میڈل حاصل کرکے تیسرے نمبر پر رہا۔ ان کھیلوں میں پاکستان کوئی تمغہ حاصل نہیں کرسکا اور اس کے ارکان خالی ہاتھوں کے ساتھ 15 اگست کو وطن واپس آئیں گے۔ ہاکی میں پاکستان نے ساتویں پوزیشن حاصل کی۔ امریکا کے پیراک مائیکل فیلپس نے سب سے زیادہ 6 طلائی تمغے حاصل کئے۔ جمیکا کے ایتھلیٹ یوسین بولٹ نے 3 طلائی تمغے حاصل کئے۔ سونے کے تمغوں پر امریکا اور چین کی واضح برتری میں ہونے والی دلفریب اختتامی تقریب میں اگلے اولمپک گیمز 2016 کے میزبان شہر ری ڈی جینرو کے نیر ایڈورڈ وپاٹس کے حوالے کیا گیا۔ 

3 گھنٹے پر محیط خوب صورت اور دل لبھا تقریب میں برطانوی موسیقی کے 50 سالہ سفر پر روشنی ڈالی گئی۔ 36 ہزار فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ لندن اولمپک گیمز میں حصہ لینے والے ملکوں کے ایک ایک ایتھلیٹ اپنے ملکوں کے قومی پرچم تھامے اختتامی مارچ پاسٹ میں شریک ہوئے۔ پاکستان کا پرچم قومی ہاکی ٹیم کے کپتان سہیل عباس کے ہاتھ میں تھا۔ اختتامی تقریب میں آتش بازی کے دلکش مظاہرے نے سٹیڈیم میں موجود شائقین اور ٹی وی پر دیکھنے والے اربوں ناظرین کو دم بخود کردیا۔ اختتامی تقریب کے موقع پر سیکورٹی کے کڑے انتظامات کئے گئے تھے۔ ہزاروں تماشائی ہدایت کے مطابق تقریب کے آغاز سے 3 گھنٹے قبل سٹیڈیم پہنچ گئے تھے۔ 

لورا اسا دواس
کھیلوں کے آخری روز 15 گولڈ میڈلز کا فیصلہ ہوا۔ مجموعی طور پر 302 گولڈ میڈلزکا فیصلہ کیا گیا۔ لندن اولمپک کا پہلا تمغہ چین کی شوٹر ای سلنگ اور آخری تمغہ لیتھونیا کی لورا اسا دواس کینی کے حصے میں آیا۔ انہوں نے ماڈرن پینٹاتھلون میں حاصل کیا۔ لندن اولمپک کا پہلا اور آخری تمغہ خواتین کے حصے میں آیا، یہ واحد اولمپک گیمز تھے جس میں خواتین کی تعداد 40 فیصد سے زیادہ رہی۔ دنیا کے ہر ملک کی خواتین کھلاڑیوں نے پہلی بار اولمپک کھیلوں میں حصہ لیا۔

بھول سکتا ہے بھلا کون یہ پیاری آنکھیں


بھول سکتا ہے بھلا کون یہ پیاری آنکھیں
رنگ میں ڈوبی ہوئی ، نیند سے بھاری آنکھیں

میری ہر سوچ نے، ہر سانس نے چاہا ہے تمہیں
جب سے دیکھا ہے تمہیں، تب سے سراہا ہے تمہیں
بس گئی ہیں میری آنکھوں میں، تمہاری آنکھیں

تم جو نظروں کو اٹھاؤ تو ستارے جھک جائیں
تم جو پلکوں کو جھکاؤ تو زمانے رک جائیں
کیوں نہ بن جائیں ان آنکھوں کی پجاری آنکھیں

جاگتی راتوں کو سپنوں کا خزانہ مل جائے
تم جو مل جاؤ تو جینے کا بہانہ مل جائے
اپنی قسمت پہ کریں ناز ہماری آنکھیں


ساحر لدھیانوی

اتوار, اگست 12, 2012

عرب شہزادوں کو شکار کی اجازت ملنے پر اظہار تشویش

اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی نے عرب ممالک کے شاہی خاندانوں کو تلور کے شکار کی اجازت دینے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارت خارجہ سے تلور کے شکار کے لیے دیے گئے لائسنسوں پر جواب طلب کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی غلام میر سمیجھو کی زیر صدارت منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں اراکین کمیٹی سمیت وفاقی سیکرٹری، وزارت موسمیاتی تبدیلی محمود عالم، ڈی جی این ڈی ایم اے تار سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ 

آئی جی فارسٹ سید محمود ناصر نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں پودوں کی 10ہزار جبکہ جانوروں اور پرندوں کی 4 ہزار سے زائد اقسام کی حیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ شاہی خاندانوں کو پاکستان میں تلور کے شکار کے لائسنس جاری ہونے سے تلور کی نسل ناپید ہونے کا خطرہ ہے۔ آئی جی فاریسٹ نے بتایا کہ عرب شاہی خاندان کے پاکستان شکار کے لیے آنے والے ایک شخص کو 100 تلور شکار کرنے کی اجازت ہوتی ہے تاہم وہ اس سے کئی گنا زیادہ پرندے شکار کرتے ہیں۔ وزارت خارجہ نے شاہی خاندانوں کو یومیہ 700 جانوروں اور پرندوں تک کے شکارکرنے کے لائسنس جاری کیے ہیں۔

قائمہ کمیٹی کا عرب شہزادوں کو شکار کی اجازت ملنے پر اظہار تشویش