بھارت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بھارت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار, اکتوبر 20, 2013

ہندو ۔ مسلم فسادت میں جنسی زیادتی کے واقعات

بھارتی ریاست اتر پردیش میں گزشتہ ماہ کے ہندو ۔ مسلم فسادات میں قتل اور لُوٹ مار کے علاوہ جنسی زیادتی کے واقعات بھی پیش آئے۔ ایسے صرف پانچ واقعات رپورٹ کیے گئے تاہم خدشہ ہے کہ ان کی تعداد کہیں زیادہ رہی ہے۔

جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی بعض خواتین اور ان کے خاندان بد نامی کے خوف سے خاموش رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ فاطمہ کا تعلق بھی ایسے ہی ایک متاثرہ خاندان سے ہے جو اس وقت ضلع مظفر نگر کے علاقے مَلک پور میں ایک امدادی کیمپ میں رہائش پذیر ہے۔

فاطمہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں بتایا کہ سات ستمبر کو شروع ہونے والے تین روزہ فسادات کے دوران چھ افراد ان کے گھر میں گھُس گئے تھے۔ وہ درانتیاں اور تلواریں لیے ہوئے تھے۔ فاطمہ کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے انہیں ایک کرسی پر باندھ دیا اور ان کے سامنے ان کی 17 سالہ بیٹی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

وہ کہتی ہیں کہ اگر ان کی بیٹی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے کی بات پھیل گئی تو کون اس سے شادی کرے گا۔ انہوں نے کہا: ’’اسے بد چلن قرار دے دیا جائے گا اور ہماری اپنی برادری ہمیں باہر نکال پھینکے گی‘‘۔

ایک 19 سالہ لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ سکوٹر پر اپنے دادا کے ساتھ فساد زدہ علاقے سے فرار ہو رہی تھی جب چھ افراد نے انہیں روکا۔ اس لڑکی نے بتایا کہ وہ اسے قریبی گنے کے کھیت میں لے گئے اور چھ گھنٹے تک زیادتی کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں گشت پر مامور فوج کے ایک دستے نے اس کی جان بچائی۔

مَلک پور کے کیمپ میں رہائش پذیر فاطمہ اور دیگر لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ کبھی اپنے گھروں کو نہیں لوٹیں گے۔ اے ایف پی کے مطابق مظفر نگر کے فسادات میں ایسے کئی واقعات پیش آئے۔ تاہم پولیس نے ان فسادات کے نتیجے میں مجرمانہ نوعیت کے جو 280 مقدمات درج کیے ان میں محض پانچ جنسی تشدد سے متعلق تھے۔

ایک وکیل نوشاد احمد خان کا کہنا ہے کہ خواتین انتقامی کارروائیوں کے خوف کے ساتھ ساتھ پولیس اور عدلیہ پر بھروسہ نہ ہونے کی وجہ سے بھی ایسے معاملات رپورٹ کرنے سے ہچکچاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا: ’’انتہائی محتاط اندازے کے باوجود، صرف اجتماعی جنسی زیادتی کے کم از کم 50 واقعات پیش آئے ہوں گے۔‘‘

انسانی حقوق کے ایک گروپ آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنز ایسوسی ایشن کی صہبا فاروقی کہتی ہیں: ’’جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی بعض خواتین نے جرأت کا مظاہرہ کیا اور پولیس تک پہنچیں لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ حملہ آوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو اس سے دیگر خواتین کے حوصلے بھی ٹوٹے‘‘۔

جنوبی ایشیا کے لیے ہیومن رائٹس واچ کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی کہتی ہیں: ’’اتر پردیش کی حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ایسا ماحول پیدا کرے جس میں زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین انصاف کے لیے سامنے آ سکیں۔‘‘

مظفر نگر کے فسادات کے حوالے سے پولیس نے اب تک تقریباً ڈیڑھ سو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں چار سیاستدان بھی شامل ہیں جن پر مشتعل ہجوم کو اکسانے کا الزام ہے۔

ہفتہ, اکتوبر 19, 2013

مظفر نگر فسادات: رنگ برنگے خیموں تلے امید دم توڑ رہی ہے

سہیل حلیم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

تشدد میں پچاس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور تقریباً پچاس ہزار لوگوں نے
بھاگ کر ریلیف کیمپوں میں پناہ لی
 پانی پت کے تاریخی میدان جنگ سے صرف تقریباً تیس کلومیٹر دور مغربی اترپردیش کے کچھ دیہی علاقوں میں آپ کو جگہ جگہ رنگ برنگے خیموں کی بستیاں نظر آئیں گی۔

یہ خیمے رنگین ضرور ہیں لیکن ان کے نیچے بقا کی جنگ لڑنے والوں کی زندگی میں کوئی رنگ نہیں۔ ستمبر میں مظفر نگر کے دیہی علاقے جب مذہبی فسادات کی آگ میں جل رہے تھے تو یہ لوگ جان بچانے کے لئے اپنے گھر بار چھوڑ کر بھاگے تھے اور ایک مہینے بعد بھی واپس لوٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

سلمیٰ اور ان کے شوہر بھی ہزاروں مسلمانوں کے اس ہجوم میں شامل ہیں جس نے کیرانا کے قریب ملک پور کے کیمپ میں پناہ لے رکھی ہے۔

’سات ستمبر کی شام مندر سے اعلان کیا گیا کہ گاؤں کے مسلمانوں پر حملہ کرو لیکن کچھ جاٹوں نے ہم سے آ کر کہا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، آپ کو کچھ نہیں ہوگا، ہم آپ کی حفاظت کریں گے ۔۔۔ لیکن اگلے دن صبح مار کاٹ شروع ہوگئی۔ ہمارا گھر جلا دیا گیا، ہم جان بچانے کے لئے کھیتوں میں بھاگے ۔۔۔ نفسا نفسی کے اس عالم میں میری چار مہینے کی بچی گھر میں ہی رہ گئی ۔۔۔ اسے زندہ جلا دیا گیا۔‘

مذہبی تشدد میں ایک طرف جاٹ تھے اور دوسری طرف مسلمان۔ اس علاقے میں جاٹوں کی اکثریت ہے اور مسلمان زیادہ تر ان کے کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ تشدد میں پچاس سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے اور تقریباً پچاس ہزار لوگوں نے بھاگ کر ریلیف کیمپوں میں پناہ لی۔ پانچ عورتوں نے اجتماعی ریپ کے مقدمے قائم کرائے ہیں۔

جمیلہ خاتون (اصلی نام نہیں) کی بیٹی ان میں شامل نہیں ہے۔ جب جمیلہ اور ان کے شوہر بچوں کو لے کر بھاگ رہے تھے تو ان کی ایک بیٹی کو حملہ آوروں نے پکڑ لیا۔ اس بچی کی لاش برآمد نہیں کی جاسکی ہے۔

’ہم نے مڑ کر دیکھا تو انہوں نے ہماری بیٹی کو پکڑ رکھا تھا ۔۔۔ ہم واپس نہیں گئے کیونکہ وہ ہمیں بھی مار ڈالتے۔۔۔‘

فسادات کے دوران جنسی زیادتی کے بہت سے الزامات تو سامنے آئے ہیں لیکن سماجی کارکن شبنم ہاشمی کہتی ہیں کہ ان کی صحیح تعداد کا کسی کو اندازہ نہیں کیونکہ دیہی علاقوں میں عورتیں بدنامی کے ڈر سے خاموش ہی رہ جاتی ہیں۔

بنیادی سہولیات سے محروم ان گندے کیمپوں میں اب
امداد کا سلسلہ بھی ختم ہوتا جارہا ہے
تشدد تو اب ختم ہوگیا ہے لیکن خوف کا ماحول نہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ اب ان عارضی کیمپوں میں ایک نئی زندگی شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ زیادہ تر محنت مزدوری کرنے والے غریب لوگ ہیں۔ جس سے بھی بات کریں، زبان پر ایک ہی بات ہے۔

’ہم تو انہیں کی غلامی کرتے تھے، انہوں نے ہمارے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ ہم کسی بھی حالت میں واپس نہیں جائیں گے ۔۔۔ حکومت ہم سے کہہ رہی ہے کہ تمہارے پکے گھر بنوا دیں گے ۔۔۔ لیکن ان لوگوں کا کیا بھروسہ جنہوں نے ہم پر حملہ کیا تھا۔ ہم سڑک پر زندگی گزار لیں گے لیکن واپس نہیں جائیں گا ہماری کوئی مدد کرے یا نہ کرے‘۔

گجرات میں 2002ء کے مذہبی فسادات کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر پہلی مرتبہ جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ ریاستی حکومت اور ضلع انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ تمام ملزمان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ دو ارکان اسمبلی سمیت درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ایک رکن پارلیمان کو گرفتار کرنے کی کوشش جاری ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے مرنے والوں کے لواحقین کے لئے سرکاری  نوکریوں اور تمام متاثرین کے لئے معاوضہ کا اعلان کیا ہے۔

مقامی لوگ بھی مانتے ہیں کہ متاثرین کے لئے اب اپنے گھروں کو لوٹنا آسان نہیں ہوگا ’کیونکہ دیہی علاقوں میں دشمنی آسانی سے ختم نہیں ہوتی ۔۔۔ سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں، سب کو معلوم ہوتا ہے کہ ان پر حملہ کرنے والے لوگ کون تھے ۔۔۔ یہ غریب لوگ ہیں یہ حملہ آوروں کے سامنے کھڑے نہیں ہوسکتے۔‘

بنیادی سہولیات سے محروم ان گندے کیمپوں میں اب امداد کا سلسلہ بھی ختم ہوتا جارہا ہے اور پلاسٹک کے ان رنگ برنگے خیموں کے نیچے امید دم توڑ رہی ہے۔ یہاں نئی زندگیوں کا آغاز بھی ہے اور تاریک مستقبل کا خوف بھی۔

ان لوگوں کے گھر تو قریب ہیں لیکن منزل بہت دور۔

پیر, اکتوبر 14, 2013

بھارتی مسلمانوں پر مظالم کی داستان

بھارت میں کروڑوں مسلمان آباد ہیں اور ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہونے کے باوجود دہشت گرد ہندئوں کے خوف سے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کے باوجود کہ بھارت کی مرکزی حکومت میں کئی مسلمان وزیر کے عہدہ پر فائز ہیں وہ بھی مسلمان شہریوں پر ہندو انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے منظم حملوں اور مظالم سے اپنے مسلم بھائیوں کو بچانے سے قاصر ہیں۔ اس کی وجہ شاید مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری اتحاد کا فقدان ہوسکتا ہے۔ مسلمانوں پر مظالم کی دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بھارتی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کچھ بھی ہو مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیتے چاہے وہ حق پر ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ ان اداروں میں بھی ہندئوں کی اکثریت ہے۔

بھارت میں ستمبر 2013 میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کا واقع پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ سازش کے تحت مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا گیا اور منصوبہ بندی کے تحت بچوں اور خواتین سمیت ہر عمر کے افراد کا نہ صرف قتل عام کیا گیا بلکہ ان کے گھروں، دکانوں میں لوٹ مار کی گئی، مساجد کی بے حرمتی کی گئی، ان کی املاک جلا دی گئیں، مسلمان خواتین کی عزتیں پامال کی گئیں اور مسلمانوں کو ہی گرفتار بھی کیا گیا۔ اور تو اور ان واقعات کی وجہ مسلمانوں کو قرار دیا گیا۔ ستمبر میں جو کچھ ہوا وہ 1980 میں مراد آباد، 1993 میں ممبئی اور 2000 میں گجرات میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کا تسلسل ہے۔ 

ان خوف زدہ معصوم چہروں اور عمر رسیدہ روتا چہرہ تو دیکھو اور بین کرتی خواتین کو دیکھو ۔ ۔ایک سوال ۔ ۔ ۔ ہمارا کیا قصور ہے؟
ایسے واقعات سن کر مجھے ان لوگوں کی باتیں یاد آتی ہیں جو یہ سب کچھ جاننے کے باوجود قیام پاکستان کو ایک انگریز کے ایجنٹ کی غلطی قرار دیتے ہیں اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کو گالیاں دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ بھارتی مسلمانوں کے ساتھ ہندئوں کا یہ ظالمانہ سلوک دیکھ کر یہ یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ پاک وطن کسی سازش کے تحت نہیں بلکہ محض اللہ کے حکم سے وجود میں آیا۔ علامہ محمد اقبالؒ نے جو خواب دیکھا تھا وہ اللہ کی حکمت تھی جس کے بعد قیام پاکستان کی جد و جہد رنگ لائی اور آج ہم کسی بھی ایسے خوف کے بغیر چین کی نیند سوتے ہیں جو ہمارے بھارتی مسلمان بھائیوں کو ہر وقت دامن گیر رہتا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی قائداعظم کو برا بھلا اور انگریز کا ایجنٹ کہنے والے اگر پاکستان سے خوش نہیں ہیں تو بھارت کیوں جا کر بسیرا نہیں کر لیتے؟ پاکستان کو برا کہنے والو کیا کبھی تم نے سوچا ہے کہ تم نے اس ملک کو کیا دیا ہے؟ اس ملک کے لئے تم نے کیا کیا ہے؟ اس کے بدلے میں جو تم نے اس ملک سے حاصل کیا ہے۔ اس ملک کی آزاد فضا میں لی ایک ایک سانس کا بدلہ نہیں دے سکتے، یقیناً نہیں دے سکتے۔ یقیناً وہ ایسا نہیں کریں گے کیوں کہ جو سکون انہیں اس پاک سر زمین پر میسر ہے بھارت میں تو کیا دنیا کے کسی ملک میں نہیں ملے گا۔ اللہ کا شکر ادا نہ کرنے والو یہ تفصیل پڑھو اور پھر شکر ادا کرو اس اللہ کا جس نے ہمیں اپنا وطن عطا کیا۔
اب اس کی تفصیل پڑھیں جو ستمبر میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے شہر مظفر نگر میں مسلمانوں پر بیتی ہے تاکہ آپ کو حقیقت میں اندازہ ہو کہ یہ آزاد وطن کتنی بڑی اللہ کی نعمت ہے؛ 
پڑھتا جا اور شرماتا جا؛


پڑھنے میں دشواری کی صورت میں یہاں کلک کریں اور دوسری صورت میں آپ صفحہ کمپیوٹر میں محفوظ (save) کرکے با آسانی پڑھ سکتے ہیں۔

جمعہ, مارچ 01, 2013

کاش! یہ بیماری پاکستانیوں کو بھی لگ جائے

واشنگٹن — امریکہ میں روز مرہ سفر کے دوران محسوس ہوا کہ لوگ ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے اور لوگوں کی اکثریت دوران سفر سمارٹ فون یا اسی نوعیت کی دوسری ڈیوائسز پر نظریں جمائے رکھتی ہے یا کتابوں میں کھوئی رہتی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات میرے مشاہدے میں آئی کہ سمارٹ فون یا اس طرح کی ڈیوائسز پر بھی اکثر لوگ کسی کتاب کی سافٹ کاپی کا مطالعہ کر رہے ہوتے ہیں۔

چونکہ، پاکستان میں دورانِ سفر مطالعہ کرتے شاذ و نادر ہی کسی کو دیکھا تھا، اس لیے مجھے عجیب لگا کہ یہ بسوں اور ٹرینوں میں ہی کیوں پڑھائی میں لگے رہتے ہیں۔ ​​میں نے انٹرنیٹ پر تلاش شروع کی تو معلوم ہوا کہ امریکہ کی پچاس ریاستوں اور دارالحکومت میں ایک لاکھ اکیس ہزار ایک سو ستر عوامی لائبریریاں ہیں اور حیران کن طور پر تقریباً ایک لاکھ کے قریب سکولز کی ملکیت ہیں۔


ایک ریسرچ کے مطابق 75,76,278 نفوس پر مشتمل ریاست ورجینیا میں سالانہ تین کروڑ پچاس لاکھ افراد لائبریریوں میں جاتے ہیں، جو تقریباً چار وزٹ فی کس کے برابر ہے۔ اور ہر سال یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگوں کی اتنی تعداد کا لائبریریوں کا رخ کرنے کی ایک وجہ یہاں ہر سکول، کالج اور یونیورسٹی میں لائبریری کی موجودگی بھی ہے، جبکہ مقامی سطح پر عوامی لائبریری بنیادی ضروریات زندگی کا حصہ ہے اور حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

پاکستان میں بڑی یونیورسٹیوں کے ساتھ تو لائبریریاں ہوتی ہیں، لیکن سکولز کی سطح پر یا عوامی سطح پر ان کا کوئی خاص رحجان نہیں۔ لیکن، سوال یہ بھی ہے کہ لوگوں میں پڑھنے کا شوق کتنا ہے؟ میں نے پاکستان میں گزارے کئی سالوں کے دوران اسلام آباد، لاہور، پشاور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، کراچی اور ایبٹ آباد سمیت متعدد شہروں کا سفر کیا۔ لیکن، یہ تجربہ نہیں ہوا کہ لوگ بس سٹاپ پر کھڑے یا بس میں سفر کرتے کتاب کے مطالعہ میں مصروف ہوں.

​​ہمارے نظام تعلیم میں سکول کی سطح سے ہی نصابی کتب کے علاوہ کسی دوسری کتاب کے مطالعہ کو وقت کا ضیاع قرار دیا جاتا ہے اور ہر سطح پر اس کی مخالفت کی جاتی ہے، جبکہ امریکی سکول کی سطح پر ہی بچوں کو غیر نصابی کتب کے مطالعہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ سہولت فراہم کرتے ہیں۔
میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ تعلیم بطور قوم ہماری ترجیح نہیں، لیکن ہماری کسی بھی حکومت کی ترجیح نہیں رہی۔ امریکہ اپنی کل آمدنی کا 5.7 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے جبکہ پاکستان صفر 1.8 فیصد۔ جبکہ ہمارا پڑوسی بھارت اپنی کل آمدنی کا 4.1 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔

ہر جگہ مطالعے میں گم امریکیوں کو دیکھ کر میں نے اپنے ایک پاکستانی دوست سے کہا کہ ان کو پڑھنے کی بیماری ہے، میرے دوست کا جواب تھا کہ، کاش یہ بیماری پاکستانیوں کو بھی لگ جائے۔ ۔!

کاش! یہ بیماری پاکستانیوں کو بھی لگ جائے

پیر, دسمبر 31, 2012

ہندوؤں اور مسلمانوں سے نفرت ہے، امریکی خاتون

نیویارک پولیس کے حکام نے ایریکا میننڈز کو حراست میں لے لیا
امریکہ میں نیویارک پولیس نے ایک مقامی خاتون کو حراست میں لیا ہے، جس پر ایک بھارتی تارک وطن کو چلتی ہوئی ریل گاڑی کے سامنے دھکا دے کر قتل کرنے کا الزام ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ 31 سالہ ایریکا میننڈز پر رواں ہفتے نفرت کی بنیاد پر قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ملزمہ نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ 2001ء میں امریکہ پر دہشت گرد حملوں کے بعد سے اسے ہندوؤں اور مسلمانوں سے نفرت ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ 46 سالہ بھارتی شہری سنیڈو سین کوئینز ریلوے سٹیشن پر موجود تھا جب اسے امریکی خاتون نے ایک چلتی ریل گاڑی کے سامنے دھکا دے دیا۔ مسٹر سین کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ کوئینز کے علاقے ہی کے رہائشی تھے اور وہ ’پرنٹنگ بزنس‘ سے وابستہ تھے۔ امریکی عہدیداروں نے کہا ہے کہ اس واقعہ کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
امریکی خاتون قتل کے الزام میں گرفتار

اتوار, دسمبر 30, 2012

زیادتی کا نشانہ بننے والی بھارتی طالبہ چل بسی

سنگاپور کے ماؤنٹ الزبتھ ہسپتال کے چیف ایگزیکیٹیو آفیسر کیلون لوح کی جانب سے ایک اعلان میں بتایا گیا کہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی 23 سالہ بھارتی طالبہ سنگاپور میں ہفتے کے روز صبح کے وقت چل بسی۔ 

جمعرات کو اسے بہتر علاج کےلئے سنگاپور کے ماؤنٹ الزبتھ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ آج صبح دل کا دورہ پڑنے اور جسم کے کئی اعضا کے کام چھوڑنے کے باعث چل  بسی، ماؤنٹ الزبتھ اسپتال کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ لڑکی کے جسم کو پہنچنے والے زخم بہت شدید تھے، 8 سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی ٹیم نے اس کا علاج کیا لیکن اس کی حالت بگڑتی چلی گئی۔

میڈیکل کالج کی طالبہ کو 16 دسمبر کی رات نئی دہلی میں ایک چارٹرڈ بس میں سوار ہونے کے بعد چھ افراد نے لوہے کی سلاخوں سے بری طرح مارا پیٹا اور جنسی زیادتی کرنے کے بعد اسے چلتی بس سے نیچے دھکا دے دیا تھا۔ پولیس نے اس واقعہ میں ملوث تمام چھ افراد کو گرفتار کرکے ان پر اقدام قتل اور اجتماعی جنسی زیادتی کے الزامات عائد کیے ہیں۔



جمعہ, دسمبر 28, 2012

پاکستان بھارت کو شکست دے کر ایشین ہاکی چیمپیئن بن گیا

دوحہ: پاکستان نے ایشین ہاکی چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کو ہرا کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کھیلے گئے ایونٹ کے فائنل میں پاکستان اور روایتی حریف بھارت کے درمیان مقابلے کا آغاز سنسنی خیز انداز میں ہوا، میچ کے ابتدا میں ہی پاکستان نے گول کرکے بھارت کے خلاف برتری حاصل کرلی لیکن بھارت نے جلد ہی یکے بعد دیگرے 2 گول کر کے ناصرف پاکستان کی برتری کا خاتمہ کر دیا بلکہ قومی ٹیم پر سبقت بھی حاصل کرلی جو پہلے ہاف کے اختتام تک برقرار رہی۔

دوسرے ہاف میں پاکستان نے بھارت کے خلاف جارحانہ انداز اپنایا اور بھارت کے خلاف 3-2 سے برتری حاصل کرلی۔ پاکستان کی جانب سے وقاص نے چوتھا گول کیا۔ میچ نے اس وقت دلچسپ صورتحال اختیار کر لی جب بھارت نے مزید 2 گول کر کے مقابلہ برابر کر دیا۔ کچھ ہی دیر میں پاکستان نے پانچواں اور فتح کن گول کر کے ایک بار پھر برتری حاصل کر لی جو کھیل کے آخر تک برقرار رہی۔ پاکستان کی جانب سے وقاص شریف نے دو راشد ، شفقت رسول اور عرفان نے ایک ایک گول کیا۔
 

ہفتہ, دسمبر 15, 2012

ودیا بالن، پیا کی ہو گئیں

ودیا بالن اور سدھارتھ رائے کپور
بالی ووڈ کی ممتاز اداکارہ ودیا بالن نے ممبئی میں اپنے بوائے فرینڈ سدھارتھ رائے کپور سے شادی کر لی ہے۔ شادی تامل اور پنجابی روایات کا اتصال اور ملن تھی اور اس میں دولھا اور دلھن کے عزیزوں نے شرکت کی۔ رائے کپور انڈیا میں فلموں اور ٹیلی وژن پروگراموں کی پروڈکشن کرنے والی ایک بڑی کمپنی یو ٹی وی موشن پکچرز کے سی ای او ہیں۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق شادی کی تقریبات کا آغاز 11 دسمبر کو ایک نجی عشائیے سے ہوا، جس کے بعد 12 دسمبر کو مہندی کی رسم ہوئی۔ جوڑا چنائی میں بھی ایک ضیافت دینے والا ہے۔

34 سالہ بالن نے اب تک متعدد ہندی، بنگالی اور ملیالم فلموں میں مرکزی کردار نبھائے ہیں اور اپنی اداکاری پر متعدد ایوارڈ حاصل کیے ہیں۔ انھوں نے 2005 میں ’پرینیتا‘ سے فلموں میں اداکاری کی ابتدا کی۔ 

ان کی پہلی سپر ہٹ فلم ’لگے رہو منا بھائی‘ تھی۔ انھوں نے پا 2009، عشقیہ 2010، نو ون کِلڈ جیسیکا2011، دی ڈرٹی پکچر 2011 اور کہانی 2012 میں عمدہ اداکاری پر ایوارڈ حاصل کیے ہیں۔

ودیا بالن، پیا کی ہو گئیں

ودیا بالن صبح سویرے 4 بج کر 45 منٹ پر ایک مندر میں سدھارتھ رائے کپور کی بیوی بن گئیں

جمعہ, دسمبر 14, 2012

بھارت بلائینڈ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا عالمی چیمپیئن

بلائینڈ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں بھارت نے پاکستان کو 30 رنز سے شکست دے کر عالمی چیمپیئن ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ بھارت کے شہر بنگلور میں جمعرات کو کھیلے گئے فائنل میں پاکستان نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی جس نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 258 رنز بنائے۔ بلے باز چیتن نے 98 رنز کی اننگز کھیلی۔ پاکستان کی طرف سے محمد جمیل، محمد اکرم اور ادریس سلیم نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستانی ٹیم ہدف کے تعاقب میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 228 رنز بنا سکی۔ فائنل سے قبل ٹورنامنٹ کے تمام میچوں میں پاکستانی ٹیم ناقابل تسخیر رہی تھی۔

بھارت بلائینڈ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا عالمی چیمپیئن

ہفتہ, دسمبر 08, 2012

پولیس اہلکار نے چودہ برس سے چھٹی نہیں کی

بھارت کے دارالحکومت دلی میں تعینات پولیس سب انسپکٹر گزشتہ چودہ برسوں سے ایک روز کی چھٹی لیے بغیر اپنی ڈیوٹی کررہے ہیں۔ بلجیت سنگھ رانا کی عمر اس وقت ساٹھ برس ہے اور وہ گزشتہ چالیس برسوں سے پولیس کی ملازمت میں ہیں۔ پولیس کی حاضری سے متعلق گزشتہ چودہ برسوں کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اس مدت میں ایک دن بھی چھٹی نہیں کی۔ ان کے اہل خانے کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ان کے تین بیٹوں کی جب شادی ہوئي تب بھی بلجیت سنگھ نے چھٹی نہیں لی۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ بلجیت سنگھ رانا اپنے اہل و عیال کا پورا خيال رکھتے ہیں اور انہوں نے ان کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا ہے۔

بلجیت سنگھ رانا کی اہلیہ سوشیلا سنگھ نے بی بی سی کو بتایا ’انہوں نے ہماری ضروریات یا گھر سے متعلق کسی کام کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ ہاں شروع میں جب وہ چھٹی نہیں لیتے تھے تو ہم ان سے ناراض ہوجاتے تھے کیونکہ ہمیں یہ لگتا تھا کہ ان کے علاوہ سب کو ایک روز کی چھٹی ملتی ہے لیکن ان کو نہیں ملتی ہے۔‘ سوشیلا سنگھ نے مزید کہا ’لیکن پھر ہمیں بعد میں لگا کہ یہ تو ان کا اپنا انداز ہے اور انہوں نے اپنے اہل و عیال کو کبھی تنہا بھی تو نہیں چھوڑا۔ جب ہمیں ضرورت پڑی وہ پاس میں ہوتے ہیں تو پھر ہم نے بھی اس سے مصلحت سمجھ کر قبول کر لیا۔‘

سب انسپکٹر بلجیت سنگھ رانا سبزي خور ہیں اور یوگا بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کبھی بیمار نہیں ہوئے اس لیے انہوں نے کبھی بیماری کی چھٹی بھی نہیں لی۔ سخت محنت اور کام کے لیے لگن کی وجہ سے انہیں دو بار صدارتی میڈل سے بھی نوازا گيا ہے۔ رانا اکتیس اگست کو ریٹائر ہوگئے تھے لیکن پولیس نے انہیں صلاح و مشورہ کے لیے دوبارہ بھرتی کر لیا ہے۔ ان کے ساتھی کہتے ہیں کہ وہ کام کے حوالے سے رانا کی لگن پر فخر کرتے ہیں۔ ان کے سپروائزر اور ایڈشنل ڈپٹی کمشنر آ‌ف پولیس منگيش کشیپ کہتے ہیں ’چھٹی ضرور لینی چاہیے، خاص طور پر پولیس کی نوکری میں جو بہت مشکل کام ہے۔ بلجیت سنگھ نے گزشتہ چودہ برسوں میں کوئي چھٹی نہیں لی۔ ہمارے محکمہ میں ایسا دوسرا شخص تلاش کرنے سے بھی نہیں ملے گا۔‘

پولیس اہلکار چودہ برس سے بغیر چھٹی کے کام پر

اتوار, دسمبر 02, 2012

ممبئی: ایک دن میں 30 ہزار شادیوں کا ریکارڈ

بھارتی فلم نگری اور کاروباری مرکز ممبئی میں جمعہ کے دن تیس ہزار شادیاں ہوئیں۔ بھارت میں موسم اچھا ہوتے ہی شادیوں کا سیزن شروع ہو گیا ہے۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ روز ممبئی میں 30 ہزار جوڑے شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ ہندو عقیدے کے مطابق نومبر کی آخری تاریخوں میں شادی ایک اچھا شگون سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بھارتی شہر ممبئی میں گذشتہ روز 30 ہزار شادیاں ریکارڈ کی گئیں۔ موسم ٹھنڈا ہونے کے باعث مہمان شادی کی تقریب سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان دنوں ہالز اور ہوٹلز کی بکنگ بھی کئی گنا مہنگی ہو جاتی ہے جس کے لیے انہیں کم از کم دو ماہ پہلے بکنگ کرانا پڑتی ہے۔

ایک دن میں اتنی زیادہ تعداد میں شادیاں ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ ہندو کیلنڈر کے مطابق آئندہ برس 7 فروری سے 29 اپریل تک کا وقت شادی کے لئے مناسب نہیں ہے اور جمعہ کا دن شادی کے لئے مبارک قرار دیا گیا تھا۔ ہندو مذہب کے ماننے والے شادی کے لئے وقت کا بہت خیال رکھتے ہیں۔

جمعرات, نومبر 29, 2012

عامر خان ’مسڑ پرفیکٹ‘ کیوں ہیں؟

کراچی — بالی وڈ کے مسڑ پرفیکشنسٹ۔۔ یعنی عامر خان جو کام کرنے کی ٹھان لیں اس کو بہتر سے بہترین کرنے کے لئے سب کچھ کر گزرتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر وہ فلم جس سے عامر خان کا نام جڑا ہو، ایک شاہکار بن کر سامنے آتی ہے۔ اور اس میں کافی کچھ ’ہٹ‘ کے ہوتا ہے۔ فلم سے متعلق چھوٹی سے چھوٹی بات کا خیال رکھنے والے عامر خان اپنے کردار میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے وہ کام بھی خوشی خوشی سیکھ لیتے ہیں جو ان کو نہیں آتے۔ مثال کے طور پر ان کی آنے والی فلم ”تلاش “کو ہی لے لیجئے۔ فلم میں عامر خان کا کردار ایک ایسے پولیس انسپکٹر کا ہے جو اصولوں پر سودے بازی کرنا تو دور کی بات۔ نہایت سخت گیر بھی ہے۔

ایسا پولیس افسر جو اپنی فٹنس کا خیال بھی رکھتا ہو اور ’ہر فن مولا‘ بھی ہو، اسے سوئمنگ نہ آتی ہو ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا اور چونکہ عامر خان نے کبھی سوئمنگ پول کا رخ بھی نہیں کیا تھا، لہذا وہ اس کردار میں جان ڈالنے کی خاطر سوئمنگ سیکھنے پر بھی تیار ہو گئے اور اتنی جلدی سوئمنگ سیکھی کہ ان کا انسٹرکٹر اور فلم کی ڈائریکٹر بھی حیران رہ گئیں۔

بھارتی خبر رساں ادارے آئی اے این ایس کو اپنے خیالات سے آگا ہ کرتے ہوئے فلم کی ڈائریکٹر ریما کاگتی کہتی ہیں: ’سوئمنگ‘ ایسی چیز ہے جس کے لئے بہت سا وقت اور پریکٹس چاہئے لیکن بہت کم وقت میں عامر کو سوئمنگ کرتا دیکھ کر میں تو حیران رہ گئی۔۔ بلکہ میں ہی کیا فلم کا پورا یونٹ ہی عامر کی سوئمنگ کا ’فین‘ ہو گیا۔ عامر خان کا ’انڈر واٹر‘ سوئمنگ سین خاص طور پر لند ن میں پکچرائز کیا گیا ہے۔“

فلم یونٹ کے ایک ممبر نے اخبار ’مڈ ڈے‘ کو بتایا ’پرفیکٹ خان‘ جو انسپکٹر سرجن سنگھ شیخاوت کا کردار نبھا رہے ہیں راتوں کو گلیوں میں گشت کرنے والے پولیس والوں سے بھی ملتے رہے اور ان سے کردار کی باریکیاں سمجھیں۔ ”تلاش“ میں زیادہ تر سین رات کے وقت فلمائے گئے ہیں وہ بھی آؤٹ ڈور۔ سو عامر خان نکل پڑے گلی کوچوں میں پیٹرولنگ کرتے پولیس والوں سے ملاقات کرنے اور ان سے بات چیت کر کے کام اور ان جگہوں کے بارے میں، جہاں وہ زیادہ جاتے ہیں، معلومات حاصل کیں۔“

ہر شعبے کی طرح فلم کی پروموشن میں بھی عامر کی دلچسپی کچھ کم نہیں۔ لہذا انہوں نے ”سونی“ ٹی وی پر دکھائے جانے والے مقبول شو ”سی آئی ڈی“ کی خصوصی ایپی سوڈز میں حصہ لیا اور شو کی ریٹنگ میں اضافہ کیا۔ کسی کامیاب شو میں اس انداز سے پروموشن غالباً پہلا تجربہ ہے۔

ہماری طرف سے دی گئی ان معلومات سے آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ آخر عامر خان ’مسٹر پرفیکٹ‘ کیوں ہیں۔ یہ ان کی کام سے لگن، دلچسپی یا یوں کہہ لیجئے کہ کام سے محبت ہی تو ہے جس نے عامر خان کو ’مسٹر پرفیکٹ ‘ بنایا ہے۔ ریما کاگتی کی ڈائرکٹ کی ہوئی فلم ’تلاش‘ جس کی کاسٹ میں عامر خان کے علاوہ رانی مکھر جی اور کرینہ کپور شامل ہیں، اگلے جمعہ یعنی 30 نومبر کو نمائش کے لئے پیش کی جائے گی۔

عامر خان ’مسڑ پرفیکٹ‘ کیوں ہیں؟

چار ملکی ٹورنامنٹ: آسٹریلیا پہلے پاکستان تیسرے نمبر پر

چار ملکی ہاکی ٹورنامنٹ میں تیسری پوزیشن کے لیے کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے بھارت کو دو کے مقابلے میں پانچ گول سے ہرا دیا۔ ایک روز قبل ہونے والے میچ میں بھارت نے پاکستان کو تین، پانچ سے شکست دی تھی جو کہ ٹورنامنٹ میں پاکستان کی تیسری مسلسل شکست تھی۔

پرتھ میں کھیلے جانے والے نائن اے سائیڈ سپر سیریز کی فاتح آسٹریلیا کی ٹیم رہی جس نے انگلینڈ کو پانچ، دو سے شکست دی۔ یہ چاروں ٹیمیں اب یکم دسمبر سے آسٹریلیا میں ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ شرکت کریں گی۔

چار ملکی ٹورنامنٹ: آسٹریلیا پہلے پاکستان تیسرے نمبر پر

اتوار, نومبر 25, 2012

لٹل ماسٹر اہلیہ کی باؤلنگ سے گھبراتے ہیں

سچن ٹنڈولکر اور ان کی اہلیہ انجلی ایک تقریب کے دوران
نئی دہلی: کرکٹ کے میدان میں باؤلرز کے چھکے چھڑانے والے لٹل ماسٹر سچن ٹنڈولکر اہلیہ کی فاسٹ باؤلنگ سے گھبرا جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ناراض بیوی کا سامنا باؤنسر کھیلنے سے زیادہ مشکل ہے۔

بھارت کے ماسٹر بلاسٹر بلے باز سچن ٹنڈولکر میدان میں تو باؤلرز کی پٹائی کرتے نہیں تھکتے لیکن کرکٹ کا یہ شیر بھی دیگر مردوں کی طرح گھر میں بھیگی بلی ہے جس کا اعتراف سچن ٹنڈولکر نے نئی دہلی میں ایک تقریب کے دوران کیا۔

لٹل ماسٹر نے بتایا کہ وہ باؤنسر سے تو بچ سکتے ہیں لیکن بيوی کے غصے سے نہيں۔ کیونکہ فاسٹ باؤلرز کو کھیلنا ناراض بیوی کو منانے سے زیادہ آسان ہے۔ 

سچن ٹنڈولکر نے اپنی اہلیہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انجلی نے کيريئر کے اتار چڑھاؤ ميں ان کا بھرپور ساتھ ديا ہے۔

سپر ہاکی سیریز: پاکستان کو بھارت سے شکست

چار ملکی ہاکی ٹورنامنٹ میں بھارت نے پاکستان کو دو کے مقابلے میں پانچ گول سے شکست دے دی۔ آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں جاری نائن اے سائیڈ سپر سیریز میں بھارت کھیل کے آغاز ہی سے پاکستان پر حاوی رہا اور دوسرے ہی منٹ میں پہلا گول کے برتری حاصل کرنے کے کچھ ہی دیر بعد دوسرا گول بھی کردیا۔

پاکستان کی طرف سے پہلا گول پہلے ہاف میں کیا گیا لیکن اس وقت تک بھارت تین گول کرچکا تھا۔ دوسرے ہاف میں بھی بھارتی ٹیم پوری طرح کھیل پر چھائی رہی اور مخالف ٹیم کو صرف ایک گول ہی کرنے دیا جب کہ خود اس نے دو مزید گول داغ دیے۔ ٹورنامنٹ میں یہ پاکستان کی تیسری مسلسل ناکامی ہے۔ اس سے قبل گرین شرٹس کو آسٹریلیا اور انگلینڈ بھی کو شکست دے چکے ہیں۔ پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم اس ٹورنامنٹ کے بعد یکم دسمبر سے چیمپیئنز ٹرافی میں شرکت کرے گی۔
 

جمعرات, نومبر 22, 2012

اجمل قصاب کو پھانسی دے دی گئی

بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق ممبئی حملوں میں ملوث زندہ بچ جانے والے واحد مجرم اجمل قصاب کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ اجمل قصاب نے بھارتی صدر سے رحم کی اپیل کر رکھی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ بھارتی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان کے ایس دھتوالی K. S. Dhatwali کے مطابق اجمل قصاب کو بھارتی شہر پونے کی Yerawada جیل میں مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے پھانسی دی گئی۔ اجمل قصاب کو پھانسی بھارتی صدر پرنب مکھرجی کی طرف سے رحم کی اپیل مسترد کیے جانے کے بعد دی گئی ہے۔ صدر کی جانب سے یہ اپیل 6 نومبر کو مسترد کی گئی تھی۔

اجمل قصاب کو موت کی سزا دینے کی تصدیق وزیر داخلہ سوشیل کمار شینڈے نے بھی کی ہے۔ سوشیل کمار شینڈے کے مطابق 8 نومبر کو قصاب کو پھانسی کی سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اجمل قصاب کا ڈیتھ وارنٹ بھی 8 نومبر کو جاری کیا گیا تھا۔ پھانسی دینے کے لیے اجمل قصاب کو ممبئی کی آرتھر روڈ جیل سے پونے کی یراواڈا جیل منتقل کیا گیا تھا۔

رواں برس اگست میں بھارتی سپریم کورٹ نے قصاب کی سزائے موت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ قبل ازیں سن 2010ء میں ممبئی حملوں کے اس مرکزی مجرم کو سزائے موت سنا دی گئی تھی۔ بھارت کی ایک عدالت نے اجمل قصاب کو یہ سزا اس پرعائد کل 86 میں سے چار بڑے الزامات کی بنیاد پر سنائی تھی۔ 22 سالہ قصاب پر عائد الزامات میں بھارت پر جنگ مسلط کرنا، قتل، اقدام قتل، سازش اور دہشت گردی کے الزامات بھی شامل تھے۔

نومبر2008ء میں ممبئی کے مختلف مقامات پر دہشت گردانہ حملوں میں کم از کم 166 افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ان دہشت گردانہ حملوں میں اجمل واحد حملہ آور تھا، جسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ بھارتی حکومت کے مطابق پاکستانی شہری اجمل قصاب کا تعلق عسکری گروپ لشکر طیبہ سے تھا۔

26 نومبر سن 2008 کو ممبئی میں مختلف مقامات پر دس حملہ آوروں نے اچانک حملہ کر دیا تھا۔ بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں سے کوئی ساٹھ گھنٹے تک جاری رہنے والے مقابلے میں 9 حملہ آور ہلاک کر دئے گئے تھے۔

بھارت میں حکومتی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد اجمل قصاب کو سزائے موت سنائے جانے کے حق میں تھی۔ بھارت میں سزائے موت دی جانے کی شرح بہت ہی کم ہے۔ آخری مرتبہ سزائے موت پر عمل سن 2004 میں کیا گیا تھا۔ جبکہ اس سے قبل سن 1998 میں دو مجرمان کو پھانسی دی گئی تھی۔ ممبئی حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے رشتہ داروں نے بھی مطالبہ کر رکھا تھا کہ مجرم کو موت کی سزا دی جائے۔

اجمل قصاب کو پھانسی دے دی گئی، بھارتی وزارت داخلہ

جمعہ, نومبر 16, 2012

ایشیائی خواتین میں بریسٹ کینسر میں اضافہ

برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ملک میں رہائش پذیر ایشیائی نسل کی خواتین میں چھاتی کے کینسر کے مرض میں دیگر نسلی گروپوں کی خواتین کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے سفید فام خواتین کے مقابلے میں ایشیائی خواتین میں چھاتی کے کینسر کی بیماری کم پائی جاتی تھی۔ یہ نئی تحقیق کینسر ریسرچ یو کے نامی تنظیم کی مدد سے کی گئی ہے۔

برطانیہ میں رہائش پذیر مدھو کو 43 برس کی عمر میں پتہ چلا کہ انہیں چھاتی کا کینسر ہے۔ وہ کہتی ہیں ’میری چھاتی کا سائز تبدیل ہو رہا تھا اور عام طور پر پستان چھونے پر نرم ہوتے ہیں لیکن مجھے وہ سخت لگے۔ اس کے بعد میں نے ڈاکٹر کو دکھانے کا فیصلہ کیا اور ڈاکٹر نے مجھے براہ راست ہسپتال جانے کو کہا‘۔

مدھو کے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر رہنے والی رجنا بھی چھاتی کے کینسر کی مریض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جب مجھے اپنے بائیں پستان سے کچھ رساؤ ہوتا ہوا دکھائی دیا تو میں نے ڈاکٹر کے پاس جانے کا سوچا۔ انہوں نے مجھے فوری طور پر ہسپتال جانے کو کہا جہاں مجھے بتایا گیا کہ مجھے کینسر ہے‘۔

برطانیہ میں چھاتی کا کینسر ایک عام بیماری کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اور یہ دیکھا گیا ہے کہ ہر تین میں سے ایک خاتون اس سے متاثر ہے لیکن پہلے برطانیہ میں رہنے والی ایشیائی خواتین میں اس کے مریضوں کی تعداد کم پائی جاتی تھی۔ لیکن ایک نئی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں ایشیائی خواتین میں چھاتی کے کینسر کے مزید کیس سامنے آ رہے ہیں۔

اس تحقیق میں شریک ڈاکٹر پونم مگتاني کا کہنا ہے،’چھاتی کے کینسر کی وجہ سے خواتین کی اموات میں اضافے کے اعداد و شمار تو سامنے نہیں آئے ہیں لیکن جس طرح سے مریض سامنے آ رہے ہیں اس سے یہ ضرور معلوم ہوا ہے کہ پہلے کے مقابلے خواتین میں چھاتی کے کینسر میں اضافہ ہوا ہے‘۔


رجنا کے مطابق وہ وقت دور نہیں ہے جب زیادہ ایشیائی خواتین کو یہ پتہ چلے گا کہ انہیں چھاتی کینسر ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’میں اپنے خاندان میں پہلی عورت ہوں جسے چھاتی کا کینسر ہوا ہے اس لیے تعجب کی بات نہیں ہے کہ چھاتی کے کینسر کے معاملات کی تعداد بڑھ رہی ہے‘۔

مدھو کہتی ہیں۔’اپنے آس پاس میں جن لوگوں کو جانتی ہوں، میں نے محسوس کیا ہے کہ یہاں رہنے والی ایشیائی خواتین میں چھاتی کا کینسر ہے اور یہ دیکھ کر مجھے فکر ہوتی ہے۔ مجھے یہ پتہ نہیں ہے کہ یہ بیماری کہاں سے آ رہی ہے‘۔ 

اس تحقیق کی بنیاد سنہ 1991 اور 2001 میں کی گئی مردم شماری ہے۔ اس تحقیق میں الگ الگ نسلی گروپوں کی خواتین میں کینسر کے حوالے سے مطالعہ کیا گیا لیکن ڈاکٹر مگتاني کا کہنا ہے کہ اس کے نتائج ابھی بھی حتمی نہیں ہیں۔ وہ کہتی ہیں،’یہ تحقیق چھاتی کے کینسر کے بارے میں ایک الگ طرح کا رجحان سامنے لائی ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے کام کرنے کے ساتھ ساتھ سكریننگ ہو اور یہ یقین ہونا چاہیے کہ سب کو سكریننگ کی سہولت ملے‘۔

روایتی طور پر دیکھیں تو ایشیائی خواتین ابھی بھی چھاتی کینسر پر بات کرنا پسند نہیں کرتی ہیں. لیکن اب لوگوں کا نظریہ بدل رہا ہے اور کینسر پر کام کرنے والے اس گروپ میں فی الحال 50 خواتین شامل ہیں۔ حالانکہ یہ گروپ چھاتی کے کینسر سے متاثرہ خواتین کی مدد کر رہا ہے لیکن ڈاکٹر مگتاني کا کہنا ہے کہ ایشیائی خواتین کو اس مہلک مرض کے خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے مزید کام کی ضرورت ہے۔

ایشیائی خواتین میں بریسٹ کینسر میں اضافہ

سہواگ کا بیٹ پھر رنز اگلنے لگا

احمد آباد: بھارتی بیٹسمین وریندر سہواگ کا بیٹ ایک بار پھر رنز اگلنے لگا، انگلینڈ کے خلاف احمد آباد ٹیسٹ میں انھوں نے117 رنز بنا دیے۔

یہ 2 سال میں ان کی پہلی سنچری ہے، چتیشور پجارا نے بھی عمدہ اننگز کھیلی، پہلے دن وہ 98 پر ناقابل شکست پویلین لوٹے، میزبان نے4 وکٹ پر 323 رنز سکور کیے، چاروں وکٹیں سپنر گریم سوان کو ملیں۔ موتیرا میں میزبان کپتان مہندرا سنگھ دھونی نے ٹاس جیت کر آسان وکٹ پر پہلے اپنے بیٹسمینوں کو رنز کے انبار لگانے کا موقع دیا، گوتم گمبھیر اور وریندر سہواگ کی اوپننگ جوڑی نے انگلش بولرز کو احساس دلا دیا کہ اپنے گراؤنڈز پر بھارتی بیٹسمینوں کو قابو کرنا آسان نہیں، دونوں عمدگی سے حریف بولنگ کا سامنا کرتے رہے۔

رنز بنانے میں زیادہ کردار سہواگ کا رہا جن کے پاورفل سٹروکس پر بیشتر اوقات فیلڈرز کو گیند باؤنڈری کے باہر سے اٹھا کر لانا پڑتی، 134 رنز پر مہمان سائیڈ کو سکون کا سانس لینے کا کچھ موقع میسر آیا، سپنر گریم سوان کی گیند کو گمبھیر (45) نہ سمجھ پائے اور بیلز اڑ گئیں، انگلینڈ کا یہ عارضی اطمینان جلد ختم ہو گیا، سہواگ نے جارحانہ بیٹنگ جاری رکھتے ہوئے چتیشور پجارا کے ساتھ 90 رنز جوڑ دیے، دو سال بعد پہلی سنچری بنانے والے اوپنر کو جب سوان نے بولڈ کیا تو وہ 117 رنز سکور کر چکے تھے، انھوں نے اس کے لیے اتنی ہی گیندیں کھیلیں اور 15 چوکے و ایک چھکا لگایا، سچن ٹنڈولکر توقعات پر پورا نہ اتر پائے۔

سوان نے جب انھیں پٹیل کا کیچ بنوایا تو وہ صرف 13 رنز ہی بنا سکے تھے، مستقبل کا ٹنڈولکر قرار دیے جانے والے ویرت کوہلی بھی صرف 19 رنز تک محدود رہے، سوان نے انھیں بھی بولڈ کیا، پجارا ایک اینڈ پر ڈٹے رہے، کینسر کو شکست دے کر ایک سال بعد ٹیسٹ ٹیم میں واپس آنے والے یوراج سنگھ بھی پُراعتماد دکھائی دیے، جس وقت پہلے دن کے 90 اوورز مکمل ہوئے بھارتی ٹیم 4 وکٹ پر 323 رنز بنا چکی تھی، پجارا کیریئر کی پہلی سنچری سے صرف 2 رنز کے فاصلے پر ہیں، یوراج نے 24 رنز سکور کیے، سوان نے 4 وکٹوں کے لیے 85 رنز دیے، دیگر تمام بولرز وکٹ کے لیے ترستے رہے۔
 

بدھ, نومبر 14, 2012

بھارت کے لئے تمغے جیتنے والی خاتون مرد نکلا

بھارتی فلموں ميں تو ہيرؤئن مرد بن کر کرکٹ ٹيم ميں شامل ہو جاتی ہے اور چوکے چھکے بھی لگا ديتی ہے ليکن گنگا کے ديس ميں سچ مچ يہ بنگالی جادو چل جاتا ہے آج ثابت ہو ہی گيا۔  

نئی دہلی : ایشین گولڈ میڈلسٹ بھارتی خاتون ایتھلیٹ مرد نکلا۔ میڈیکل ٹیسٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا۔ ساتھی کھلاڑی سے زيادتی کے الزام پر ملزم کو گرفتار کيا گيا تھا۔

کلکتہ سے تعلق رکھنے والی ايشين گولڈ ميڈليسٹ اتھيليٹ پنکی پرامانک ليکن ٹہريے يہ پنکی نہيں بلکہ پنکا ہے جی ہاں ميڈيکل رپورٹ سے اس کے مرد ہونے کا ثبوت مل گيا۔ عورت بن کر سب کو دھوکا دينے والے ايتھيليٹ نے ميلبورن کامن ويلتھ گيمز میں چاندی، انڈور ايشين گيمز دو ہزار پانچ ميں سونے، ايشين گيمز دو ہزار چھ ميں سونے، جب کہ جنوبی ايشين گیمز دو ہزار چھ میں تين سونے کے تمغے حاصل کیے۔

دو ہزار سات میں کھیلوں سے ریٹائرمنٹ بھی لے لی تھی ليکن ڈھول کا پول کھل ہی جاتا ہے۔ چودہ جون دو ہزار بارہ کو چھبیس سالہ پنکی پر بتیس سالہ خاتون نے جنسی زیادتی کا الزام لگایا جس پر اسے گرفتار کر کے چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ تیرہ جولائی کو پنکی کو ضمانت پر رہا کردیا گیا ليکن انکوائری چلتی رہی اور آخرکار ميڈيکل رپورٹ سے اس کا مرد ہونا ثابت ہوگيا۔ پنکی عورت کی حيثيت سے ملنے والے تمام ايوارڈ سے ممکنہ طور پر محروم ہوجائے گی ليکن ابھی تک اس بارے ميں کوئی فيصلہ نہيں ہوا۔ بنگال کی اس جادوگرنی بلکہ جادوگر نے بہت دن تک عوام اور خواص کو بے وقوف بنائے رکھا ليکن بکرے کی ماں کب تک خير منائے گی۔ 

بھارت: ٹيبلٹ کمپيوٹر محض بيس ڈالر ميں

بھارت ميں آکاش نامی انتہائی کم قيمت والے ٹيبلٹ کمپيوٹر کا ايک نيا ورژن متعارف کروا ديا گيا ہے، جس ميں پچھلے ورژن کے مقابلے ميں زيادہ تيز پروسيسر اور زيادہ ديرپا بيٹری نصب ہے۔

خبر رساں ادارے اے ايف پی کے مطابق دنيا ميں سب سے کم قيمت ٹيبلٹ کمپيوٹر مانے جانے والے ’آکاش ٹو‘ کو نجی و سرکاری کمپنيوں کے اشتراک سے بھارت ميں طلباء کے ليے صرف بيس ڈالر کے برابر مقامی کرنسی ميں فروخت کيا جائے گا۔ اگرچہ اس کمپيوٹر کی اصل قيمت چونسٹھ ڈالر يا مقامی کرنسی ميں ساڑھے تين ہزار روپے کے قريب ہے تاہم ملک ميں انجينئرنگ کے طالب علموں کے ليے قريب ايک لاکھ کمپيوٹرز کو صرف 1130 بھارتی روپے ميں دستياب بنايا جائے گا۔ آکاش ٹو کو بھارت کی يونيورسٹيوں ميں قائم بُک سٹورز پر فروخت کيا جائے گا۔

بھارت ميں آکاش ٹو کی افتتاحی تقريب ميں ملکی صدر پرنب مکھرجی کا کہنا تھا کہ ٹيکنالوجی کی مدد سے سکھانا تعليمی مرحلے کا ايک انتہائی اہم حصہ ہے۔

نيوز ايجنسی اے ايف پی کے مطابق آکاش ٹو بھارت ميں انفارميشن ٹيکنالوجی کی چوٹی کی يونيورسٹيوں ميں تعليم حاصل کرنے والے ملکی انجينئرز نے بنايا ہے۔ البتہ کمپيوٹر کی پيداوار ’ڈيٹا ونڈ‘ نامی ایک برطانوی کمپنی کے سپرد کی گئی ہے۔

اس کمپيوٹر کی سکرين کا سائز سات انچ ہے اور اس ميں گوگل آپريٹنگ سسٹم Android 4.0 کا استعمال کيا گيا ہے۔ آکاش ٹو کی بيٹری کا دورانيہ قريب تين گھنٹے بتايا جا رہا ہے جبکہ اس کے پروسيسر کی اسپيڈ پچھلے ورژن کے مقابلے ميں تين گنا زيادہ ہے۔

واضح رہے کہ بھارت ميں آکاش ٹو کا پچھلا ورژن يعنی آکاش گزشتہ سال اکتوبر ميں متعارف کروايا گيا تھا ليکن اس ٹيبلٹ کمپيوٹر کے حوالے سے چند تکنيکی مسائل سامنے آئے تھے اور اس کی ڈسٹری بيوشن ميں بھی دشواری پيش آئی تھی۔

بھارت ميں ہيومن ريسورس ڈيویلپمنٹ منسٹری کے مطابق ملک بھر کے قريب دو سو پچاس کالجوں ميں پندرہ سو سے زائد اساتذہ کو آکاش کے استعمال کے حوالے سے تربيت فراہم کی جا چکی ہے تاکہ وہ تعليم کے فروغ کے ليے اس کمپيوٹر کو استعمال کر سکيں۔

انٹرنيٹ اينڈ موبائل ايسوسی ايشن آف انڈيا کے مطابق بھارت ميں انٹرنيٹ استعمال کرنے والوں کی کل تعداد ايک سو پندرہ ملين کے لگ بھگ ہے۔ اس طرح انٹرنيٹ صارفین کی تعداد کے لحاظ سے چين اور امريکا کے بعد بھارت دنيا کا تيسرا بڑا ملک ہے۔

بھارت: ٹيبلٹ کمپيوٹر محض بيس ڈالر ميں