بدھ, ستمبر 26, 2012

A Math puzzle!

1. Grab a calculator. (you won't be able to do this one in your head)

2. Key in the first three digits of your phone number (NOT the area code like 0300 or 0333)

3. Multiply by 80
 

4. Add 1
 

5. Multiply by 250
 

6. Add the last 4 digits of your phone number

7. Add the last 4 digits of your phone number again.
 

8. Subtract 250
9. Divide number by 2
Do you recognize the answer????

بچے اگر خوف سے جاگ جائیں تو کیا کریں؟

کئی بچے سکول جانے سے پہلے کی عمر یا سکول کے ابتدائی دنوں میں رات کو نیند میں شدید خوف کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بچوں کی اس حالت کو Night Terror کہتے ہیں اور اب ماہر ڈاکٹروں نے اس سے نمٹنے کا صحیح طریقہ بھی دریافت کرلیا ہے۔

رات کو نیند میں اچانک خوف کا شکار ہونے والے چھوٹے بچے جاگنے کے بعد یک دم چیخنا شروع کردیتے ہیں۔ ماں باپ کے لیے ان کو چپ کرانا انتہائی مشکل ثابت ہوتا ہے۔ ایسے بچے جاگنے اور آنکھیں کھلی ہونے کے باوجود اپنے والدین کی بات نہیں سنتے اور چند واقعات میں تو یہ بچے خود کلامی بھی شروع کردیتے ہیں۔

بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسی حالت میں والدین کو بچے کو گود میں لے کر اس سے آہستہ آواز میں بات کرنی چاہیے۔ بچے کو یہ احساس دلانا چاہیے کہ وہ محفوظ ہے اور وہ خوف کی وجہ سے کسی طرح خود کو کوئی نقصان نہ پہنچا لے۔

جرمنی میں بچوں کی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹروں کی تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر اُلرِش فیگےلَیر Ulrich Fegeler بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسی حالت میں بچوں کو پوری طرح جگانے کی کوشش بھی زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ ’نائٹ ٹیرر‘ کے دوران بچے نیند اور جاگنے کی درمیانی حالت میں ہوتے ہیں۔ انہیں فوری طور پر یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ کہاں ہیں اور ان کے لیے دوبارہ سو جانا بھی مشکل ہوتا ہے۔

ڈاکٹر فیگے لَیر کے مطابق بچوں کی اس حالت کو طبی زبان میں پاوور نوکٹُرنس Pavor Nocturnus کہتے ہیں۔ یہ حالت عام طور پر پانچ اور پندرہ منٹ کے درمیان تک رہتی ہے۔ پھر متاثرہ بچہ خود بخود دوبارہ سو جاتا ہے۔ اس حالت کا شکار عام طور پر صرف تین سے لے کر چھ فیصد تک بچے ہوتے ہیں۔ چھوٹے بچوں کو رات کے وقت اچانک شدید خوف کا یہ تجربہ سونے کے بعد ایک گھنٹے سے لے کر چار گھنٹے تک کے عرصے کے درمیان کسی وقت ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ یہ صورتحال کوئی ڈراؤنا خواب دیکھنے کی حالت سے مختلف ہوتی ہے۔ نیند میں اچانک دہشت یا خوف کے شکار بچے صبح جب جاگتے ہیں تو انہیں کچھ یاد نہیں ہوتا۔ نیند میں خرابی کے اس عمل یا disorder کا کسی جسمانی یا نفسیاتی مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے کوئی لمبے عرصے تک باقی رہنے والے اثرات بھی نہیں ہوتے۔

جرمن ماہر Ulrich Fegeler کے بقول یہ حالت اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ بچوں کا اعصابی نظام ابھی نشو و نما کے عمل سے گزر رہا ہوتا ہے اور یہ نیند میں بھی بہت فعال ہوتا ہے۔ عام طور پر اس کی وجہ بچوں میں بہت زیادہ تھکاوٹ بھی ہوتی ہے۔ اس کا سبب کوئی نئی دوائی یا معمول سے ہٹ کر کسی مختلف جگہ یا ماحول میں سونا بھی ہو سکتا ہے۔

بچوں کی بیماریوں کے مشہور ڈاکٹر فیگے لَیر کہتے ہیں، ’’ایسی حالت میں بچوں کو پرسکون انداز میں تسلی دنیا اور انہیں کسی بھی خطرے میں نہ ہونے کا احساس دلانا سب سے زیادہ مددگار ثابت ہوتا ہے۔‘‘ جو بچے ایسے واقعات کا شکار ہوتے ہیں، انہیں ایک مقررہ وقت پر سلا دینا چاہیے اور سونے سے پہلے انہیں ہر قسم کے ذہنی دباؤ سے بچانا چاہیے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچوں میں ’نائٹ ٹیرر‘ کے واقعات پھر بھی کم نہ ہوں تو والدین کو کسی چائلڈ اسپیشلسٹ سے مشورہ کرنا چاہیے۔

بچے اگر خوف سے جاگ جائیں تو کیا کریں؟

برائلر مرغیوں کی خوراک میں مہلک اجزا ہیپاٹائٹس اور بانجھ پن کا باعث

چین: طیارہ بردار بحری جہاز بحریہ میں شامل

چین کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ملک کے پہلے طیارہ بردار بحری جہاز کو باقاعدہ طور پر بحریہ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ تین سو میٹر لمبے اس بحری جہاز کو لیاوننگ کا نام دیا گیا ہے اور صوبہ لیاوننگ میں ہی تیار کیا گیا۔ چین نے سابق سوویت یونین کے جنگی بحری جہاز کو یوکرائن سے خریدنے کے بعد دوبارہ کارآمد بنایا ہے۔ 

چین کا کہنا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز کو سخت سمندری آزمائش سے گزارا گیا ہے اور اس سے ملکی مفادات کے دفاع کے حوالے سے صلاحتیوں میں اضافہ ہوگا۔ لیاوننگ نامی بحری جہاز آپریشنل نہیں ہوگا اور اسے صرف تربیتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے زنہوا نیوز کے مطابق ڈالین کی بندرگاہ پر منعقد ہونے والی ایک تقریب میں سیاسی رہنماؤں کی موجودگی میں لیاوننگ کو بحریہ کے حوالے کیا گیا۔ ایک ایسے وقت لیاوننگ کو بحریہ کے حوالے کیا گیا ہے جب جاپان سمیت متعدد ہسمایہ ممالک نے چین کی بڑھتی ہوئی بحری طاقت پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

چینی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’طیارہ بردار بحری جہاز کی بحریہ میں شمولیت سے مجموعی طور پر بحریہ کی جدید پیمانے پر جنگی صلاحتیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگا‘۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’بحری جہاز کی شمولیت سے دفاعی صلاحتیوں میں اضافہ ہوگا، ملک کو کھلے سمندر میں غیر روایتی سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت حاصل ہوگی اور یہ ملکی خودمختاری کے تحفظ میں موثر ثابت ہوگا‘۔

چینی بحریہ میں شامل کیے جانے والے اس بحری جہاز کو سابق سوویت یونین نے سنہ 1980 میں اپنی بحریہ کے لیے تیار کرنا شروع کیا تھا اور اس کا نام وریاگ رکھا گیا تھا۔ لیکن اس وقت سوویت یونین اسے مکمل نہیں کر پایا اور سنہ 1991 میں یونین کے ٹوٹنے کے وقت نامکمل بحری جہاز یوکرائن کی بندرگاہ پر خستہ حالت میں کھڑا تھا۔ جب سابق سوویت یونین کے بحری جنگی جہازوں کو سکریپ کرنا شروع کیا گیا تو اس وقت وریاگ نامی بحری جہاز کو چین کی پیپلز لبریشن آرمی سے تعلق رکھنے والی ایک کمپنی نے یہ کہہ کر خرید لیا کہ وہ اس جہاز کو ماکویا میں ایک تیرتے ہوئے کسینو کے طور پر استعمال کرے گی۔ خریداری کے چند سال بعد یہ چینی کمپنی بحری جہاز کو کھینچ کر چین لے آئی اور پھر ڈالین کی بندرگاہ پر منتقل کردیا گیا۔ گزشتہ سال جون میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے پہلی بار تصدیق کی تھی کہ وہ بحریہ کا پہلا ائر کرافٹ کیرئیر تیار کررہا ہے۔

چین: طیارہ بردار بحری جہاز بحریہ میں شامل

خواتین ٹی ٹوئنٹی عالمی کرکٹ ٹورنامنٹ کا آج آغاز

اسلام آباد — تیسرے آئی سی سی ویمنز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا آغاز بدھ سے سری لنکا میں ہوگا جس میں آسٹریلوی ٹیم اپنے ٹائٹل کا دفاع کرے گی۔ 26 ستمبر سے 7 اکتوبر تک جاری رہنے والے اس میگا ایونٹ میں 8 ٹیمیں مد مقابل ہوں گی جن کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ 

گروپ اے میں دفاہی چیمپیئن آسٹریلیا، انگلینڈ، روائتی حریف پاکستان اور بھارت جبکہ گروپ بی میں نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز، سری لنکا اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ پاکستانی ٹیم اپنا پہلا گروپ میچ 27 ستمبر کو انگلینڈ کے خلاف گال میں کھیلے گی۔

ایونٹ کے افتتاحی روز دو میچ کھیلے جائیں گے، پہلے میچ میں سری لنکا کی ٹیم جنوبی افریقہ کے مدمقابل ہوگی جبکہ دوسرا میچ نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا، میگا ایونٹ کے تمام گروپ میچز انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم گال میں کھیلے جائیں گے جن میں شائقین کا داخلہ مفت ہوگا۔ سیمی فائنلز اور فائنل آر پریما داسا کرکٹ سٹیڈیم کولمبو میں کھیلا جائیں گے۔

دونوں گروپوں سے بہترین کار کردگی کا مظاہرہ کرنے والی 4 ٹیمیں سیمی فائنل میں پہنچیں گی جن کے درمیان پہلا سیمی فائنل 4 اکتوبر اور دوسرا 5 اکتوبر کو کھیلا جائیگا۔ میگا ایونٹ کا فائنل 7 اکتوبر کو کھیلا جائیگا۔

خواتین ٹی ٹوئنٹی عالمی کرکٹ ٹورنامنٹ کا آغاز

برمنگھم سے کشمیر تک بس سروس

پاکستانی کشمیر کی حکومت کے ایک اعلان کے مطابق 4000 میل لمبی سڑک کے ذریعے اب برمنگھم سے کشمیر ’میر پور‘ تک کا سفر خصوصی بس سروس کے ذریعے ممکن ہوگا۔

اس خصوصی بس کا آغازجلد ہی متوقع ہے، یہ اہم بات ہے کہ بس کا کرایہ صرف 130 پاؤنڈ ہوگا، جبکہ برمنگھم سے کشمیر تک کا یہ سفر 7 ملکوں پر محیط ہوگا، اور مسافروں کو 12 روزہ سفر کے بعد یہ ان کی منزل مقصود تک پہنچائے گا۔ اس خصوصی بس کے کو ئٹہ، افغان بارڈر ایجنسی ا یران کے شہر تہران میں سٹاپ ہیں۔

کشمیر کے وزیر ٹرانسپورٹ طاہر کوکب کا کہنا ہے، اس لمبے سفر کے دوران بس انتظامیہ کی جانب سے کیمپنگ، ریسٹورنٹ اور خوبصورت مناظر کی تصویر کشی کی سہولت بھی مسافروں کو فراہم کی جائے گی۔ جس سے یہ ایک دلچسپ اور یادگار سفر ثابت ہوگا۔

سیکیورٹی خدشات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کے کچھ مقامات اس ضمن میں حساس ہیں جبکہ مجموعی طور پر سفر کے لیے حالات ساز گار ہیں۔

لندن کے مقامی جریدے میں چھپنے والی خبر کے مطابق برمنگھم پارلیمنٹ کے ممبر خالد محمود نے کہا، ’یہ راستہ میر پور اور برمنگھم کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا ذریعے ثابت ہو گا‘۔ ان کے خیال میں یہ بس سروس جلد ہی مقبول ہوجائے گی کیونکہ برطانیہ سے پاکستان تک ہوائی سفر پر اوسطاً 600 پاؤنڈ خرچ ہوتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کی دنیا میں یہ اقدام انقلابی تصور کیا جارہا ہے۔

برمنگھم سے کشمیر تک بس سروس

ٹی 20 ورلڈ کپ: پاکستان ’سپر-8‘ مرحلے میں پہنچ گیا

واشنگٹن — سری لنکا میں کھیلے جانے والے ’ٹی20 ورلڈ کپ 2012ء‘ کے 12ویں میچ میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو 8 وکٹوں سے ہرا کر ’سپر -8‘ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا ہے۔

منگل کو پالی کیلے میں کھیلے گئے گروپ ڈی کے میچ میں بنگلہ دیش نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 175 رنز بنائے۔ جواباً پاکستان نے 176 رنز کا بظاہر مشکل ہدف 19 ویں اوور میں صرف دو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔ میچ میں پاکستان نے ٹی 20 کرکٹ فارمیٹ میں ہدف کے تعاقب کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا۔ اس سے قبل پاکستان نے 2007ء میں آسٹریلیا کے خلاف 164 رنز کا ہدف حاصل کیا تھا جو ایک ریکارڈ تھا۔

پاکستان کی فتح میں ابتدائی بلے بازوں کپتان محمد حفیظ اور عمران نذیر نے مرکزی کردار ادا کیا اور پہلی وکٹ کی شراکت میں پاکستان کو 124 رنز کی مضبوط بنیاد فراہم کی۔ عمران نذیر 36 گیندوں پر 72 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے اپنا یہ سکور 3 چھکوں اور 9 چوکوں کی مدد سے بنایا اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ کپتان محمد حفیظ نے 45 رنز بنائے۔ ناصر جمشید 29 اور کامران اکمل 22 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔

'سپر-8' مرحلے میں پاکستان کا مقابلہ 28 ستمبر کو جنوبی افریقہ، 30 ستمبر کو روایتی حریف بھارت اور 2 اکتوبر کو آسٹریلیا سے ہوگا۔

منگل کے میچ میں بنگلہ دیش کے بلے بازوں نے پاکستانی بالروں کو ناکوں چنے چبوائے اور پاکستانی بالنگ اور فیلڈنگ بنگال ٹائیگرز کے سامنے بے بس نظر آئی۔ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی جارحانہ بیٹنگ اور 175 رنز کے بڑے ہدف کے پیشِ نظر پاکستان کا جیتنا مشکل لگ رہا تھا لیکن قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن نے اس ہدف کا حصول ممکن بنا دیا۔

بنگلہ دیش کی جانب سے اتنا بڑا ہدف دینے میں شکیب الحسن نے اہم کردار ادا کیا جنہوں نے 54 گیندوں پر 84 رنز بنائے اور ٹاپ سکورر رہے۔ پاکستان کی جانب سے یاسر عرفات نے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جب کہ سہیل تنویر اور شاہد آفریدی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

یاد رہے کہ عالمی کپ کے اپنے پہلے گروپ میچ میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو 13 رنز سے شکست دی تھی۔

ٹی 20 ورلڈ کپ: پاکستان ’سپر-8‘ مرحلے میں پہنچ گیا