اتوار, دسمبر 02, 2012

ملالہ یوسف زئی پاپولر چوائس

ملالہ یوسف زئی
لندن — معروف ہفت روزہ جریدہ ٹائم نے ’پرسن آف دا ائیر‘ منتخب کرنے کے لیے چالیس شخصیات اور خیالات پر مشتمل ایک فہرست شائع کی ہے۔ جس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی پندرہ سالہ ملالہ یوسف زئی کا نام بھی شامل ہے۔ برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کے مطابق سال 2012 کے لیے میگزین نے ایسی شخصیات اور خیالات کو منتخب کیا ہے جو بارہ مہینوں کے دوران اچھے یا برے حوالے سے سب سے زیادہ خبروں کا حصہ بنے ہوں۔ ملالہ کے علاوہ اس فہرست کی دیگر شخصیات میں امریکی صدر باراک اباما، مصر کے صدر محمد مرسی، شام کے صدر بشارالاسد، امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن، مٹ رومنی، سابق امریکی صدر بل کلنٹن، گنگم سٹائل پی ایس وائی اور کئی اہم نام شامل ہیں۔

ٹائم میگزین ہر سال کے اختتام پر پرسن آف دا ائیر کا انتخاب ایک عوامی پولنگ یا رائے عامہ کے ذریعے کرتا ہے، تاہم آخری فیصلے کا اختیار میگزین کے ایڈیٹر کے پاس ہوتا ہے۔ اب تک مصر کے صدر محمد مرسی کو ڈیفینٹلی اور نو وے دونوں ہی کالموں میں تقریباً ایک ہی تعداد میں ووٹ ملے ہیں شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے ڈکٹیٹر کم جونگ اون نےسب سے زیادہ ووٹ ڈیفینٹلی کے کالم میں حاصل کیے، جب کہ لڑکیوں کے لیے تعلیم کا حق مانگنے پر سوات میں طالبان کی گولی کا نشانہ بننے والی بہادر ملالہ کو تقریباً 70 فیصد لوگ سال 2012 کے لیے پرسن آف دا ائیر دیکھنا چاہتے ہیں۔ نا قدین کی رائے میں بھی ملالہ یوسف زئی پاپولر چوائس کے طور پر سامنے آئی ہے۔

سال 1928ء سے شائع ہونے والے میگزین کی روایت ہے کہ سال کے آخری شمارے کا سرورق ’پرسن آف دا ائیر‘ کی تصویر سے سجا ہوتا ہے اور اندر سپیشل کور سٹوری اس جریدے کی اہمیت میں اضافہ کرتی ہے۔ ٹائم میگزین کے سرورق پر تین مرتبہ پرسن آف دا ائیر بننے والی شخصیت امریکی صدر بل کلنٹن کی ہے۔ پولنگ کا اختتام 12 دسمبر رات بارہ بجے ہو جائے گا جبکہ 14 دسمبر کو میگزین کے ایڈیٹر کی جانب سے منتخب پرسن آف دا ائیر کے نام کا اعلان کیا جائے گا ۔

کیا ملالہ بنے گی ٹائم میگزین کی پرسن آف دا ائیر

امریکہ میں سام سنگ سرفہرست

سام سنگ گیلیکسی۔ فائل فوٹو اے ایف پی۔۔۔
سام سنگ نے امریکی موبائل مارکیٹ میں اپنی پہلی پوزیشن مزید مستحکم کر لی ہے جبکہ ایپل کمپنی اس درجے میں دوسرے نمبر پر آ گئی ہے۔ کام سکور کے سروے کے مطابق اکتوبر میں ختم ہونے والے تین ماہ کے عرصے تک جنوبی کوریا کی کمپنی ٹاپ مینوفیکچرر بن گئی ہے جبکہ اس مدت میں کمپنی کا مارکیٹ شیئر بھی 25.6 سے بڑھ کر 26.3 فیصد پر پہنچ گیا ہے۔ ایپل، جو صرف سمارٹ فروخت کرتی ہے، وہ پہلی دفعہ امریکی مارکیٹ میں دوسرے نمبر پر آگئی ہے جبکہ اس کا مارکیٹ شیئر 1.5 فیصد اضافے کے ساتھ 17.8 فیصد پر پہنچ گیا ہے۔ جنوبی کوریا کی ہی ایک اور کمپنی ایل جی 17.6 فیصد شیئر کے ساتھ تیسرے جبکہ موٹورولا 11 فیصد کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔

سروے کے مطابق سمارٹ فون کی مارکیٹ میں گوگل اینڈرائیڈ سرفہرست ہے جس کا مارکیٹ شیئر 52.2 فیصد سے بڑھ کر 53.6 فیصد ہو گیا۔ سمارٹ فون میں بھی ایپل دوسرے نمبر پر براجمان ہے اور اس کا مارکیٹ شیئر 0.9 فیصد اضافے سے 34.3 فیصد ہو گیا ہے۔ دوسری جانب بلیک بیری کی فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس کا مارکیٹ شیئر 9.5 فیصد سے 7.8 فیصد تک گر گیا ہے جبکہ اکتوبر کے آخر میں مائیکروسافٹ کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے ونڈوز فون 8 کے شیئر میں بھی کمی آئی اور اس کا شیئر 3.6 فیصد سے گر کر 3.2 فیصد پر پہنچ گیا ہے۔
 

ممبئی: ایک دن میں 30 ہزار شادیوں کا ریکارڈ

بھارتی فلم نگری اور کاروباری مرکز ممبئی میں جمعہ کے دن تیس ہزار شادیاں ہوئیں۔ بھارت میں موسم اچھا ہوتے ہی شادیوں کا سیزن شروع ہو گیا ہے۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ روز ممبئی میں 30 ہزار جوڑے شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ ہندو عقیدے کے مطابق نومبر کی آخری تاریخوں میں شادی ایک اچھا شگون سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بھارتی شہر ممبئی میں گذشتہ روز 30 ہزار شادیاں ریکارڈ کی گئیں۔ موسم ٹھنڈا ہونے کے باعث مہمان شادی کی تقریب سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان دنوں ہالز اور ہوٹلز کی بکنگ بھی کئی گنا مہنگی ہو جاتی ہے جس کے لیے انہیں کم از کم دو ماہ پہلے بکنگ کرانا پڑتی ہے۔

ایک دن میں اتنی زیادہ تعداد میں شادیاں ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ ہندو کیلنڈر کے مطابق آئندہ برس 7 فروری سے 29 اپریل تک کا وقت شادی کے لئے مناسب نہیں ہے اور جمعہ کا دن شادی کے لئے مبارک قرار دیا گیا تھا۔ ہندو مذہب کے ماننے والے شادی کے لئے وقت کا بہت خیال رکھتے ہیں۔

بادام سپر فوڈ

نئی تحقیق کے بعد ماہرین نے بادام کو سپر فوڈ کا نام دیا ہے۔ یہ وٹامنز، معدنیات، فیٹی ایسڈ اور ریشوں سے بھرپور ہے۔ بادام نہ صرف دماغ کے لئے مفید ہے بلکہ یہ خون میں موجود ”بیڈ کولیسٹرول“ کو ختم کرتا ہے۔  

بادام شوگر کے مریضوں کے لئے بھی مفید ہے یہ خون میں موجود اضافی شوگر کو حل کر دیتا ہے۔ اس میں موجود تیل جلد کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے اور ریشے معدے کے افعال کو بہتر کر کے قبض جیسی بیماری کو دور کرتے ہیں ۔
 

زیادہ وزن پر تنقید۔۔۔۔۔۔ مجھے فرق نہیں پڑتا، سوناکشی

بھارتی اداکارہ سوناکشی سنہا کا کہنا ہے کہ ان کے وزن سے متعلق کچھ بھی کہا جائے اس سے اُنہیں فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس کے باوجود انہیں فلمیں آفر ہو رہی ہیں، اور اُن کی ایکٹنگ کو سراہا جا رہا ہے۔ 

بالی ووڈ اداکارہ سوناکشی سنہا کا بڑھتا وزن شدید تنقید کا نشانہ بننے لگا ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بڑھے ہوئے وزن کے باوجود مطمئن ہیں کیونکہ سائز زیرو ریس میں اُنہیں پڑنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ سوناکشی کے مطابق وہ ایک اچھی ایکٹریس ہیں اور وزن میں اتار چڑھاؤ کے باوجود اُنہیں باقائدگی سے بالی ووڈ کے ٹاپ ہیروز کے مدمقابل فلمز آفر ہو رہی ہیں، تو ایسے میں میڈیا میں ان کے اوور ویٹ ہونے کے بارے میں کچھ بھی کہا جائے انہیں کوئی فکر نہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ ایسے کہانیاں شائع کرنے والے ان سے ری اکشن چاہتے ہیں لیکن سکینڈلز سے بچنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ خود سے متعلق خبروں کو زیادہ گھاس ہی نہ ڈالی جائے۔

وزن سے متعلق کچھ بھی کہا جائے، فرق نہیں پڑتا، سوناکشی سنہا

ماسکو میں برف باری کا 50 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

روس کے مختلف شہروں میں شدید برفباری کا سلسلہ جاری ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق ماسکو میں برفباری کا 50 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا جبکہ روس کے بیشتر شہروں نےبرف کی سفید چادر اوڑھ لی ہے۔ شدید برف باری کے باعث اہم شاہراہیں بند ہوگئی ہیں جبکہ پروازوں کا شیڈول بھی بری طرح متاثر ہوا ہے، حکام نے سکولوں اور دفاترمیں چھٹیاں کردی ہیں۔

 ماسکو: روس کے دارالحکومت میں برف باری کا 50 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

جمعہ, نومبر 30, 2012

کار 600 ڈالر کی، جرمانہ ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ

شاید آپ کو یقین نہ آئے لیکن یہ سچ ہے کہ امریکی شہر شکاگو میں ایک کار پر پارکنگ قواعد کی خلاف ورزی کے الزمات میں ایک لاکھ پانچ ہزار سات سو اکسٹھ ڈالر اور 80 سینٹ جرمانہ کیا گیا ہے اور عدم ادائیگی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کا نوٹس دیا گیا ہے۔ ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ جرمانے کا اعزاز حاصل کرنے والی کار کی مالیت اب تو شاید صفر ہو گی کیونکہ 2008 میں اس کے موجودہ مالک نے اسے صرف 600 ڈالر میں خریدا تھا۔

کرسچین پوسٹ اور سی بی این نیوز کی رپورٹس کے مطابق کار پر جب جرمانے کے ٹکٹ لگنے شروع ہوئے تو وہ شکاگو ایئرپورٹ کے اس حصے میں کھڑی تھی جو ہوائی اڈے کے کارکنوں کے لیے مختص ہے اور وہاں کسی عام شخص کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ قواعد کے مطابق اس جگہ زیادہ سے زیادہ 30 دن تک گاڑی کھڑی کی جاسکتی ہے۔ جس کے بعد روزانہ کی بنیاد پر جرمانہ عائد ہونے لگتا ہے۔ ایئرپورٹ پولیس کے مطابق مذکورہ کار کو آخری بار 17 نومبر 2009 کو پارکنگ لاٹ میں کھڑا کیے جانے کے بعد وہاں سے ہٹایا نہیں گیا۔ اس عرصے کے دوران کار پر 678 بار جرمانہ عائد کیا گیا، مگر کوئی اسے ہٹانے کے لیے نہیں آیا۔ کار کی مالکہ کا نام جینیفر فٹز گیرلڈ ہے۔ اس کی عمر 31 سال ہے اور وہ ایک بچے کی ماں ہے۔ جب کہ بچے کا باپ تین سال پہلے ان دونوں کو چھوڑ کر جا چکا ہے۔ جینیفر کا کہنا ہے کہ یہ کار اس کے بوائے فرینڈ پریویو نے 2008 میں 600 ڈالر کی خریدی تھی، لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ کار اس کے نام پر کیسے رجسٹر ہوئی۔ پریویو نے اسے کار کی رجسٹریشن کے بارے میں کبھی کچھ نہیں بتایا۔ جینیفر کے مطابق کار پریویو ہی کے استعمال میں رہی۔ وہ ایئرپورٹ پر ملازم تھا اور کام پر آنے جانے کے لیے یہی کار استعمال کرتا تھا۔ 2009 میں دونوں میں علیحدگی ہوگئی اور پریویو جاتے ہوئے کار اپنے ساتھ لے گیا۔ اس کے بعد کیا ہوا، جینیفر کو کچھ معلوم نہیں۔ اسے اپنے نام کار کے رجسٹر ہونے کا پتا اس وقت چلا، جب اس کے ایڈریس پر جرمانے کے نوٹس آنے شروع ہوئے۔

جینیفر نے گاڑیوں کی رجسٹریشن کے دفتر میں جاکر انہیں بتایا کہ اس کا کار سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے سابقہ بوائے فرینڈ پریویو کے نام پر ٹرانسفر کیا جائے۔ مگر دفتر نے انکار کردیا کیونکہ وہ مستند دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہی تھی۔ جینیفر نے جرمانے کی خط و کتابت سے چھٹکارہ پانے کے لیے متعلقہ دفتر سے رابطہ کرکے انہیں بتایا کہ وہ ایئرپورٹ کی پارکنگ سے کار باہر نہیں نکال سکتی کیونکہ اس حصے میں ایئرلائنز کے کارکنوں کے سوا کسی بھی شخص کا داخلہ ممنوع ہے اور دوسرا یہ کہ اس کے پاس گاڑی کی چابی نہیں ہے۔ لیکن دفتر نے یہ کہتے ہوئے رعایت دینے سے انکار کر دیا کہ سرکاری دستاویزات میں کار کی مالکہ وہی ہے اور اسے وہاں سے ہٹانا اور جرمانے ادا کرنا اس کی قانونی ذمہ داری ہے۔ جینیفر نے اس مشکل سے نکلنے کے لیے مختلف محکموں کے عہدے داروں اور وکیلوں سے رابطے شروع کیے، مگر لاحاصل۔ دن گذرتے رہے اور جرمانہ بڑھتا رہا۔

کار پر جرمانے کا آخری ٹکٹ 30 اپریل 2012 کو لگا، جس کے بعد محکمے نے اسے لاوارث گاڑیوں کے شعبے میں منتقل کر کے جینیفر کو نوٹس بھیجا کہ وہ 105761 ڈالر اور 80 سینٹ دے کر اپنی گاڑی لے جائے، یا پھر عدالت کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔ کسی کو یہ علم نہیں ہے کہ جینیفر کا سابقہ بوائے فرینڈ پریویو پارکنگ لاٹ میں کار چھوڑنے کے بعد کہاں چلا گیا، اگر پتا چل بھی جائے تو بھی اس کہانی میں اس کا کوئی کردار نہیں ہے، کیونکہ ملکیت کی دستاویزات میں کہیں بھی اس کا نام نہیں، اور گاڑی کی تمام تر ذمہ داری جینیفر پر عائد ہوتی ہے۔ تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ شکاگو کا پارکنگ جرمانوں کا شعبہ جینیفر کے خلاف قانونی کارروائی کر رہا ہے جب کہ جینیفر نے اس کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے جس کی سماعت مئی 2013 میں متوقع ہے۔ چھ سو ڈالر میں خریدی جانے والی گاڑی کے ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ جرمانے کا مستقبل کیا ہوگا؟ کسی کو معلوم نہیں۔
 

سرینا ولیمز سال کی بہترین کھلاڑی

سرینا ولیمز
کراچی — ’ویمن ٹینس ایسوسی ایشن‘ (ڈبلیو ٹی اے) نے امریکہ کی سرینا ولیمز کو 2012ء کی بہترین ٹینس پلیئر قرار دیا ہے۔ اس اعزاز کے لیے 31 سالہ سرینا ولیمز کا انتخاب اس سیزن میں ان کی بہترین کارکردگی کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ رواں سیزن میں سرینا نے ’ومبلڈن‘ اور ’یو ایس اوپن‘ جیت کر نہ صرف اپنے 15 ’گرینڈ سلیم‘ ٹائٹل مکمل کیے بلکہ لندن اولمپکس میں سنگل اور ڈبل مقابلوں میں گولڈ میڈل بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔

ماہِ اپریل سے اکتوبر کے دوران میں سرینا ویمن ٹینس مقابلوں پر چھائی رہیں اور انہوں نے اس عرصے کے دوران کھیلے جانے والے 50 میں سے 48 میچوں میں کامیابی حاصل کی۔

یہ چوتھا موقع ہے کہ سرینا ولیمز ’ڈبلیو ٹی اے‘ کی جانب سے ’پلیئر آف دی ایئر‘ قرار پائی ہیں۔ اس سے قبل اس اعزاز کے لیے 2002ء، 2008ء اور 2009ء میں بھی ان کا انتخاب ہوچکا ہے۔

رکی پونٹنگ انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر

رکی پونٹنگ
آسٹریلوی کھلاڑی رکی پونٹنگ نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ کے بعد وہ انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر باد کہہ دیں گے۔ انہوں نے یہ اعلان جمعرات کو پرتھ میں پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا ’چند گھنٹے قبل ہی میں اپنے ساتھیوں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا ہے کہ یہ میرا آخری ٹیسٹ میچ ہو گا۔ اس بارے میں میں نے بہت سوچا اور پھر اس نتیجے پر پہنچا۔‘ سترہ سال کے کیریئر کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہنے پر انہوں نے مزید کہا ’اس فیصلے پر میں موجودہ سیریز میں اپنی پرفارمنس کو دیکھ کر پہنچا ہوں کیونکہ میری پرفارمنس وہ نہیں ہے جو ہونی چاہیے تھی۔‘

رکی پونٹنگ نے 167 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں اور 13366 رنز سکور کیے۔ اس سے قبل فروری میں انہوں نے ایک روزہ میچز سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ جنوبی افریقہ کے خلاف جاری سیریز میں رکی پونٹنگ نے تین اننگز میں صفر، چار اور سولہ رنز سکور کیے ہیں۔

پونٹنگ نے کہا ’میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ میں اس وقت تک کھیلوں گا جب تک میں ٹیم کی جیت کا حصہ بن سکوں لیکن پچھلے چند ہفتوں میں جو میری کارکردگی رہی ہے وہ اطمینان بخش نہیں تھی۔‘


اکتالیس سنچریاں
ٹیسٹ: 167
رنز: 13366
سب سے زیادہ سکور: 257
اوسط: 52.21
سنچریاں: 41
سٹرائیک ریٹ: 58.74

انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کو پرتھ میں ہونے والے میچ میں ہرانا ضروری ہے کیونکہ اس سے آسٹریلیا دوبارہ ٹیسٹ میچ کی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر آجائے گی۔

پونٹنگ نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز سترہ سال قبل سری لنکا کے خلاف کیا۔ انہوں نے اپنی پہلی اننگ میں 96 رنز بنائے تھے۔ آسٹریلیا کے کپتان مائیکل کلارک نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پونٹنگ نے جب یہ اعلان کیا تو ٹیم کے لیے ایک دھچکا تھا۔ اپنے جذبات پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کلارک نے کہا ’آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔‘

رکی پونٹنگ کا انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد

فلسطین اقوام متحدہ کا غیر مبصر رکن بن گیا

اقوام متحدہ نے فلسطینی کو غیر رکن مبصر ملک کا درجہ دے دیا ہے۔ جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی اتھارٹی کا درجہ بڑھائے جانے کی تجویز پر ہونی والی ووٹنگ میں 193 ممالک میں سے 138 ممالک نے قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا۔ اسرايل، امریکہ اور کینیڈا سمیت نو ممالک نے اس تجویز کے خلاف ووٹ ڈالا جب کہ 41 ممالک نے اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کیا۔

ووٹنگ سے پہلے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب میں فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا، ’آج اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ فلسطین کے پیدائش کا سرٹیفکیٹ جاری کرے۔‘ انہوں نے مزید کہا ’پیسنٹھ سال پہلے آج ہی کے دن اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی نے قرارداد 181 کو منظوری دے کر فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا اور اسرائيل کو پیدائش کا سرٹیفکیٹ دے دیا تھا۔‘


اقوام متحدہ میں قرارداد منظور ہونے کے بعد غزہ اور مغربی کنارے پر جشن کا ماحول تھا۔ لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر نغمے گائے، آتش بازی کی اور گاڑیوں کے ہارن بجا كر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ اسرائيل کے سفیر نے ووٹنگ سے پہلے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’اس تجویز سے امن کو کوئی فروغ نہیں ملے گا بلکہ اس سے امن کو دھچكا ہی لگے گا اسرائيلي لوگوں کا اسرائيل سے چار ہزار سال پرانا تعلق اقوام متحدہ کے کسی فیصلے سے ٹوٹنے والا نہیں ہے۔‘ امریکہ کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو اسرائيل کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنی چاہیے اور اس طرح اقوام متحدہ میں یک طرفہ اقدامات کے ذریعے ریاست کا درجہ حاصل نہیں کرنا چاہیے۔ برطانیہ اور جرمنی نے اس تجویز کے لیے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، لیکن دونوں ملک فلسطینیوں کی اس تجویز کے لائے جانے سے خوش نہیں تھے۔ لیکن اقوام متحدہ میں اس تجویز کو بھارت سمیت فرانس، روس، چین اور جنوبی افریقہ جیسے کئی ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ گزشتہ سال فلسطینی اتھارٹی نے مکمل رکنیت حاصل کرنے کے لئے اقوام متحدہ میں درخواست دی تھی لیکن سلامتی کونسل میں امریکہ نے اس تجویز کو ویٹو کر دیا تھا اور فلسطینیوں کی کوشش ناکام ہو گئی تھی۔ اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے رکن ممالک سے کہا کہ وہ فلسطینی انتظامیہ کی کامیابیوں کو تسلیم کریں۔


غیر مبصر رکن کی حیثیت حاصل کرنے کے بعد اب فلسطین کو اقوامِ متحدہ کے اداروں میں شمولیت حاصل ہو جائے گی جن میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف بھی شامل ہے۔ فلسطینی چاہتے ہیں کہ مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی بیت المقدس کے علاقوں کو فلسطینی ریاست کے طور پر تسلیم کیا جائے جن علاقوں پر اسرائیل نے سنہ 1967 میں قبضہ کر لیا تھا۔

فلسطین اقوام متحدہ کا غیر مبصر رکن بن گیا

بالی وڈ کی جڑیں اور پشاور

شاہ رخ خان اپنی کزن نورجہاں کے ساتھ
کون ہے جس نے دلیپ کمار اور شاہ رخ خان کا نام نہیں سنا۔ لیکن بہت سے لوگ شاید یہ نہیں جانتے کہ بالی وڈ کے ان سپر سٹارز کی جڑیں اسی شہر میں تلاش کی جا سکتی ہیں آج جس کی پہچان عسکریت پسندی اور قدامت پرستی بن کر رہ گئی ہیں۔ پشاور میں ایک جگہ ڈھکی کہلاتی ہے۔ تنگ و پرپیچ گلیوں پر مشتمل یہ علاقہ پشاور کے قدیم ترین اور مشہور ترین بازار قصہ خوانی کے پہلو میں واقع ایک پہاڑی پر قائم ہے (پشاور کی زبان ہندکو میں ڈھکی کا مطلب ہی پہاڑی ہے)۔ اس علاقے میں چار سو میٹر کے دائرے کے اندر اندر بالی وڈ کے تین عظیم ترین ستاروں کے گھر پائے جاتے ہیں: دلیپ کمار، راج کپور اور شاہ رخ خان۔

ڈھکی کے اندر پہنچنے کے لیے میں قصہ خوانی بازار کے بائیں طرف ایک تاریک گلی میں داخل ہو گیا جس نے مجھے دوسری طرف ایک چھوٹے سے کھلے میدان میں پہنچا دیا۔ دائیں طرف کی بھول بھلیاں گلیوں نے مجھے پہاڑی کے اوپر راج کپور کے گھر تک پہنچا دیا جو 1950 کے عشرے میں بالی وڈ کے میگا سٹار تھے۔

راج کپور کے والد پرتھوی راج (جنھوں نے ’مغلِ اعظم‘ میں اکبر کا کردار ادا کیا تھا) اپنے آپ کو پہلا ہندو پٹھان کہتے تھے۔ وہ بالی وڈ میں اداکاروں کے پہلے خاندان کے بانی تھے جو اب چار نسلوں پر محیط ہے۔

پشاور: فنکاروں، ہنرمندوں کا شہر
تصویر محل سینما شاہ رخ خان کے گھر سے بہت قریب ہے۔ طالبان نے 2009 کے بعد سے اس سینما کو دوبار بم سے اڑایا ہے، جو فلموں کو فحش اور غیر اسلامی سمجھتے ہیں۔ ایک فلم بین نے بتایا کہ فلم دیکھتے وقت ہم سکرین سے زیادہ گیٹ کو دیکھتے رہتے ہیں جس سی فلم کا مزا کرکرہ ہو جاتا ہے۔ اس ماحول میں بالی وڈ کے ورثے کو محفوظ رکھنے کی خواہش بے تکی سی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن پشاور میں موسیقی، شاعری اور تھیئٹر کی روایت بہت توانا رہی ہیں۔ 1936 میں پشاور کا شمار برصغیر کے ان گنے چنے شہروں میں ہونے لگا تھا جہاں ریڈیو سٹیشن قائم تھے۔ یہاں کئی تھیٹر گروپ تھے جن میں پیشہ ور اور غیر پیشہ ور افراد حصہ لیتے تھے۔ یہ سلسلہ 1980 کی دہائی تک جاری و ساری رہا۔ دلیپ کمار کی طرح بعض اداکاروں کے خاندان اس لیے بھارت منتقل ہو گئے کہ ان کے خاندانوں کا وہاں کاروبار تھا۔ ہندو، خاص طور کپور خاندان، تقسیم کے بعد بھارت ہجرت کر گئے۔ شاہ رخ خان کے والد کی طرح کے لوگ بھارت ہی میں رہے کیوں کہ وہ تقسیم کے خلاف تھے۔

ان کی تین منزلہ حویلی کے سامنے کا حصہ محرابی کھڑکیوں اور باہر کو نکلی ہوئی بالکونیوں پر مشتمل ہے، لیکن اب یہ عمارت یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ یہاں اب کوئی نہیں رہتا لیکن کپور خاندان کی یادیں اب بھی زندہ ہیں۔ 



گلی ڈنڈا کپور
ڈھکی کے ایک نوے سالہ باسی محمد یعقوب ہیں جو راج کپور کو اب بھی یاد کرتے ہیں۔ ’وہ 1920 کے عشرے میں میرا دوست تھا۔ وہ مجھ سے ایک سال چھوٹا تھا۔ ہم گلی ڈنڈا کھیلا کرتے تھے۔ ہم ایک ہی سکول جایا کرتے تھے۔‘ راج کپور کا خاندان 1930 کے عشرے میں ممبئی منتقل ہو گیا، البتہ وہ کبھی کبھی پشاور آتے جاتے رہے۔ محمد یعقوب کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ بھی 1947 میں ملک کی تقسیم کے بعد ٹھپ ہو گیا۔ کپور خاندان کی حویلی سے تین منٹ کے راستے پر ایک تنگ گلی سے گزر کر بالی وڈ کے ایک اور بڑے کا شکست و ریـخت کا شکار گھر ہے۔

دلیپ کمار کو ہندوستانی سینما کا شہنشاہِ جذبات کہا جاتا ہے۔ ان کے اعزازات کی فہرست بہت طویل ہے، اور اس میں آٹھ فلم فیئر ایوارڈ بھی شامل ہیں جو بھارت کے آسکر ایوارڈ سمجھے جا سکتے ہیں۔ ان کا آبائی گھر لرزتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے کہ اب گرا کہ تب گرا۔ کھڑکیوں اور دروازوں پرلکڑی کا عمدہ کام ہوا ہے لیکن سب کچھ چٹخ گیا ہے اور جگہ جگہ مکڑی کے جالے پھیلے ہوئے ہیں۔ گھر کے اندر پشاوری طرز کا لکڑی کا نفیس کام پایا جاتا ہے لیکن یہ بھی بوسیدہ ہو چلا ہے۔ چھت سے پلاسٹر اکھڑ گیا ہے۔ یہ مکان اب کپڑوں کے گودام کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

اس عمارت میں میری ملاقات مالیار سے ہوئی جنھوں نے مجھے اس مکان کے بارے میں بتایا: ’یہ ان کے فخر کی بات ہے جنھوں نے اس چھوٹی سے جگہ سے اٹھ کر ساری دنیا میں نام کمایا، لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے لیے یہ ایک تاریخی مکان ہے، جو اب گودام ہے، اور میں یہاں کام کرتا ہوں۔‘

دلیپ کمار اور راج کپور تو ماضی کے درخشاں ستارے تھے، بالی وڈ کے چند حالیہ چوٹی کے اداکاروں کا شجرہ تقسیم کے 66 برس بعد بھی پشاور سے جا ملتا ہے۔

مدھوبالا
شاہ رخ پشاور میں
تین منٹ اور آگے چلیں تو بالی وڈ کے سب سے بڑے اور سب سے مہنگے سپر سٹار کا آبائی گھر آتا ہے۔ شاہ رخ خان کے والد تاج محمد خان اس مکان میں پیدا ہوئِے اور پلے بڑھے۔ خود شاہ رخ نے اپنے لڑکپن میں یہاں کئی دن گزارے ہیں جب وہ دہلی سے اپنے رشتے داروں سے ملنے کے لیے یہاں آئے تھے۔ ان کی کزن نورجہان اس مکان میں رہتی ہیں۔ وہ دو بار ممبئی جا کر شاہ رخ سے مل چکی ہیں۔ انھوں نے 1978 اور 1979 میں شاہ رخ کے یہاں گزارے ہوئے دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’وہ اسی کمرے میں سوئے تھے جس میں ہم بیٹھے ہوئے ہیں۔ ’وہ یہاں پہ بہت خوش تھے کیوں کہ وہ پہلی بار اپنے ددھیال سے ملے تھے۔ بھارت میں ان کا صرف ننھیال ہے۔‘ نورجہاں کے 12 سالہ بیٹے کا نام بھی شاہ رخ ہے، اور وہ اپنے آپ کو شاہ رخ خان ثانی کہتا ہے۔ ’انکل نے وعدہ کیا ہے کہ اگر میں کرکٹ کا اچھا کھلاڑی بن گیا تو وہ مجھے اپنی ٹیم میں شامل کریں گے۔‘ شاہ رخ خان انڈین پریمیئر لیگ میں کھیلنے والی کولکتہ نائٹ رائیڈرز ٹیم کے ملک ہیں۔

یہی نہیں بلکہ پشاور بالی وڈ کے کئی اور مشہور و معروف ستاروں کا گھر بھی ہے۔ ان میں مدھوبالا بھی شامل ہیں جنھیں بالی وڈ کی تاریخ کی حسین ترین ہیرؤین کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ 1975 کی ریکارڈ توڑ فلم شعلے کے مشہور ویلن امجد خان کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے۔ 1970 کی دہائی میں بالی وڈ کے سب سے مقبول ترین اداکاروں میں سے ایک ونود کھنہ ہیں۔ وہ بھی پشاور ہی میں پیدا ہوئے تھے۔ انیل کپور کے والد سریندر کپور بھی یہیں کے رہنے والے تھے۔ وہ اپنے دور کے معروف فلم پروڈیوسر تھے۔

شکست و ریخت
آخر پشاور اتنے مشہور اداکاروں سے مالامال کیوں ہے؟ پشاور میں اتنے مشاہیر کے مکانات کو محفوظ رکھنے کے مطالبات کیے جاتے رہے ہیں۔ دلیپ کمار کے ایک رشتے دار فواد اسحٰق کہتے ہیں، ’دلیپ کمار کے گھر کو محفوظ بنانا چاہیے، تاکہ لوگ دیکھ سکیں کہ ہم پشاوری کیا کچھ کر سکتے ہیں۔‘ لیکن خیبر پختون خوا حکومت کی طرف سے ان کے گھر کو سرکاری تحویل میں لینے کی ایک حالیہ کوشش مکان کی ملکیت کے تنازعے کی وجہ سے ناکام ہو گئی۔ اسی طرح راج کپور کے گھر کو بھی سرکاری تحویل میں نہیں لیا جا سکا۔ بحالی کے کاموں کی ماہر اور صوبائی حکومت کی مشیر فریال علی گوہر نے اس کی وجوہات ’فنڈز کی کمی، اور اس مکان تک رسائی اور سیکیورٹی کے مسائل‘ بتائیں۔


پشاوری پیداوار ممبئی میں
پرتھوی راج کپور
(1906 - 1972)
اداکار اور فلم ساز اور کپور خاندان کے بانی

دلیپ کمار
(1922 -)
نامور اداکار جنھوں نے عشروں تک بالی وڈ پر راج کیا

راج کپور
(1924-1988)
اداکار، ہدایت کار، فلم ساز، شومین، پرتھوی راج کے صاحب زادے

مدھوبالا
(1933-1969)
بالی وڈ کی ملکۂ حسن، جن کا مغلِ اعظم میں انارکلی کا کردار اب بھی دلوں پر نقش ہے

پریم ناتھ
(1926-1992)
مشہور اداکار جن کا خاندان تقسیم کے بعد بھارت منتقل ہو گیا

ونود کھنہ
(1946-)
ستر اور اسی کی دہائیوں کی انتہائی مقبول ہیرو۔ ان کے دو بیٹے بھی فلم انڈسٹری میں ہیں۔

جمعرات, نومبر 29, 2012

کالا باغ ڈیم کے تعمیر کی سفارشات پر عمل کیا جائے، عدالت

کالاباغ ڈیم منصوبے کا مجوزہ مقام - فائل فوٹو
اسلام آباد — پاکستان کی ایک اعلیٰ عدالت نے حکم دیا ہے کہ وفاقی حکومت کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات پر عمل کرے۔

جمعرات کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کالا باغ ڈیم تعمیر نہ کیے جانے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آئین کی شق 154 کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات پر عمل کرنے کی پابند ہے۔ جوڈیشل ایکٹویزم کونسل نامی ایک گروپ کی طرف سے دائر کی گئی ان درخواستوں پر فیصلے کے بعد کونسل کے چیئرمین محمد اظہر صدیق نے بتایا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے 2004ء میں اس ڈیم کی تعمیر کو ضروری قرار دیتے ہوئے اس ضمن میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کا کہا تھا۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اظہر صدیق نے کہا کہ اگر وفاق یا صوبائی حکومت کو کوئی اعتراض ہے تو ’’وہ آئین کے سب آرٹیکل سات کے تحت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات کو لے کر جائے اور اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ان سفارشات کو رد کر دے۔‘‘

1978ء میں میانوالی کے قریب واقع کالاباغ کے مقام پر اس منصوبے پر تعمیر کا آغاز ہوا تھا لیکن 1984ء میں اسے روک دیا گیا۔ تب سے لے کر آج تک ملک کو درپیش توانائی کے شدید بحران کے باوجود سیاسی جماعتوں کے درمیان یہ ایک تنازع کی صورت میں زندہ ہے۔ منصوبے کے مطابق کالا باغ ڈیم کے پانی کا ذخیرہ صوبہ خیبرپختونخوا میں ہو گا جب کہ بجلی کی پیداوار کی تنصیبات صوبہ پنجاب کی حدود میں ہوں گی۔ اس صورتحال میں دونوں صوبوں کے درمیان ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی کی آمدن میں حصے کا جھگڑا بھی موجود ہے۔ اس منصوبے کے حق میں پنجاب کے علاوہ دیگر تینوں صوبوں میں شدید مخالفت پائی جاتی ہے۔ صوبہ خیبر پختون خوا میں برسراقتدارعوامی نیشنل پارٹی کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف ہے جب کہ سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں نے بھی اس منصوبے کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کر رکھی ہیں۔

حکمران جماعت پیپلز پارٹی کا موقف رہا ہے کہ کئی سال پرانے اس منصوبے پر صوبوں میں اختلافات کے باعث آج تک کام شروع نہیں ہوسکا ہے اور اُن کے بقول کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا موجودہ حالات میں مطالبہ کرنا صوبوں میں اس معاملے پر منافرت کا باعث بن سکتا ہے۔

سعودی باشندے کی پرنسپل، ٹیچر اور طالبہ سے شادی

سعودی عرب کے جنوبی صوبہ جازان میں پچاس سال کے ایک سعودی باشندے نے شعبہ تعلیم سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار انوکھے انداز میں اس طرح کیا کہ اس شعبے سے وابستہ ایک ہی سکول کی پرنسپل سمیت ٹیچر اور ایک طالبہ سے شادی رچا لی جبکہ اس کی چوتھی بیوی ایک اور سکول میں کوآرڈینیٹر کے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ 

سعودی اخبار عکاظ کے مطابق چاروں میں سے تین بیویاں جن میں پرنسپل، ٹیچر اور ایک طالبہ ہیں کا تعلق ایک ہی سیکنڈری سکول سے ہے۔ اس معاملے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پرنسپل بیوی اپنی دیگر ٹیچر اور طالبہ کے ساتھ وہی رویہ اختیار کرتی ہے جو دیگر ٹیچرز اور طالبات کے ساتھ اپناتی ہے جبکہ ان چاروں بیویوں کے مابین مثالی ہم آہنگی بھی پائی جاتی ہے۔
 

مری میں برف باری، ملکہ کوہسار نے سفید چادر اوڑھ لی

اسلام آباد: ملکہ کوہسار مری سمیت بالائی علاقوں میں موسم سرما کی پہلی برفباری نے سیاحوں کی توجہ حاصل کرلی جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں ہونے والی بارش نے سردی کی شدت میں اچانک اضافہ کردیا ہے۔

ملکہ کوہسار مری، ایبٹ آباد اور پتریاٹہ سمیت ملک کے دیگر بالائی علاقوں میں موسم سرما کی پہلی برفباری کے بعد سردی نے قدم جمالئے ہیں۔ جس کے بعد برفباری کا نظارہ کرنے کے لئے مختلف علاقوں سے سیاحوں کی بڑی تعداد مری پہنچنا شروع ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ دیر، سوات ، مالم جبہ، مینگورہ اور چترال میں بھی برفباری نے قدرتی نظاروں کو مزید دلکش بنا دیا ہے۔ لاہور اور پشاور سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے ہونے والی بارش نے جہاں سردی کی شدت میں اضافہ کردیا ہے وہیں خشک میوہ جات کی مانگ میں بھی اضافہ ہوگیا۔

کوئٹہ پشین، زیارت، نوشکی اور قلعہ عبداللہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بارش نے جہاں شمال مغربی علاقوں کا موسم سرد کردیا ہے وہیں کراچی سمیت سندھ کے جنوبی علاقوں میں بھی درجہ حرارت کم ہوگیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ برفباری اور بارش کی وجہ سے ملک میں سردی کی شدت میں اضافے کا امکان ہے تاہم میدانی علاقوں میں دھند کا سلسلہ تھم جائے گا۔

پاکستان نے ریمنڈ ڈیوس کے خلاف امریکا کو شواہد فراہم نہیں کئے

اسلام آباد: دو پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو سزا دینے کے لئے امریکی حکومت نے پاکستان سے شواہد مانگے لیکن پاکستانی حکام کی جانب سے شواہد دینے میں سرد مہری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ ایکسپریس نیوز کو دستیاب دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ لاہورمیں سرعام دو پاکستانیوں کو قتل کرنے والے امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کے خلاف امریکی حکومت اپنے ملک میں کارروائی کرنا چاہتی ہے اسی لئے امریکی سفارتخانے نے جون 2011 کو دفتر خارجہ کو خط لکھا جبکہ دوسرا خط 19 ستمبر2012 کو لکھا گیا۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان امریکا کو مرنے والوں کی پوسٹ مارٹم اور آٹپسی رپورٹ، زخموں کی تصاویر، واقعہ میں ملوث کار کی تصاویر، ڈائیاگرامز، سی سی ٹی وی فوٹیج، ویڈیو اور متعلقہ تصاویر فراہم کرے۔ خط میں میڈیا پر اس حوالے سے ہونے والی کوریج کی سی ڈیز یا ڈی وی ڈیز، ریمنڈ ڈیوس اور دیگر افراد کے اسلحے، مرنے والے افراد کے جسم سے نکالی گئی گولیوں کی رپورٹ، جائے وقوعہ سے اٹھائے گئے گولیوں کے خالی خول، ریمنڈ ڈیوس کے زیر استعمال گاڑی کی اندرونی تصاویر، مرنے والوں کے کپڑے اور دیگر متعلقہ اشیاء اور فائرنگ میں ملوث موٹر سائیکل اور کار کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دفتر خارجہ نے نہ تو شواہد فراہم کئے اور نہ ہی امریکی ٹیم کو پاکستان آنے کی اجازت دی۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واقعے کو 2 سال ہونے کو ہیں لیکن دفتر خارجہ اس حوالے سے تعاون نہیں کررہا۔ اس حوالے سے پاکستانی دفتر خارجہ اور وزارت خارجہ نے ایکسپریس نیوز کو ردعمل دینے سے بھی انکارکر دیا۔

عالمی سنوکر، محمد آصف نے اسرائیل کے شاکر روبرگ کو ہرا دیا

صوفیہ…بلغاریہ میں جاری عالمی سنوکر چمپئن شپ میں پاکستان کے محمد آصف نے اسرائیل کے شاکر روبرگ کو شکست دے کر مسلسل چوتھی فتح حاصل کرلی ہے۔ 

ورلڈ سنوکر چمپئن شپ میں محمد آصف نے شاندار فارم کا سلسلہ جاری رکھا، انہوں نے اسرائیل کے شاکرروبرگ کو ایک کے مقابلے میں چار فریم سے ہرا کر ایونٹ میں مسلسل چوتھی کامیابی حاصل کرلی۔ اس طرح وہ گروپ ایچ میں ناقابل شکست رہتے ہوئے ناک آؤٹ راوٴنڈ میں پہنچ گئے ہیں۔ 

پانچ سو باوقار ترین مسلمان شخصیات

اردن کا شاہی مرکز برائے تزویری تحقیقات پانچ سو باوقار ترین مسلمان شخصیات کے ناموں پر مشتمل فہرست منظر عام پر لایا ہے۔ یہ فہرست سن دو ہزار نو سے ہر سال تیار کی جاتی ہے۔ سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ ابن عبدالعزیز کی طرف سے مختلف فلاحی تنظیموں کو ایک ارب چوبیس کروڑ ڈالر دیئے جانے کے پیش نظر ان کا نام اس فہرست میں پہلے مقام پر درج کیا گیا ہے۔

دوسرے مقام پر ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوگان کا نام ہے۔ سن دو ہزار نو میں ایسی فہرست شروع کئے جانے کے بعد اردوگان کو ہر سال پہلے تین مقامات میں سے کوئی مقام حاصل ہوتا ہے۔ رواں سال اردن کے بادشاہ تیسرے مقام پر ہیں، فہرست تیار کرنے والوں نے انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق بڑھانے اور غریبوں کو مدد دینے کے لیے ان کی سرگرمیوں کو بہت سراہا ہے۔ مزید برآں اس فہرست میں کئی روسی مسلمان شامل ہیں جن میں روس کے مفتیوں کی کونسل کے سربراہ شیخ رویل گین الدین، تاتارستان کے سربراہ رستم منی خانوو اور چیچنیا کے سربراہ رمضان کادیروو قابل ذکر ہیں۔

دنیا کی پانچ سو باوقار ترین مسلمان شخصیات کی فہرست تیار