پیر, اکتوبر 22, 2012

چاچا پاکستانی انتقال کرگئے

لاہور: چاچا پاکستانی جو ہر روز لاہور میں واہگہ بارڈر پر پاکستانی پرچم کشائی کی تقریب دیکھنے پہنچتے تھے 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے گھر والوں کے مطابق وہ کچھ دنوں سے بخار میں مبتلا تھے اور ان کے گھر والوں کے پاس ان کا ہسپتال میں علاج کرانے کے لئے پیسے بھی نہیں تھے۔

چاچا پاکستانی کا اصل نام مہر دین تھا اور وہ 1922 میں پیدا ہوئے تھے، ان کے تمام بھائی ہندوستان کی تقسیم کے وقت پاکستان آگئے مگر وہ خود قیام پاکستان کے بعد آئے۔ ان کا پاکستان میں کوئی گھر نہیں اس لئے وہ اپنے بھتیجوں کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کے بھتیجے نے بتایا کہ ہماری پیدائش سے کر اب تک ہم نے انہیں باقائدگی سے واہگہ بارڈر جاتے دیکھا ہے۔ 

چاچا پاکستانی کوفوجی حکومت پسند تھی جبکہ وہ جمہوریت کو زیادہ پسند نہیں کرتے تھے۔ سابق صدر پرویز مشرف نے انہیں عمرہ پر بھی بھیجا تھا۔ چاچا پاکستانی کے بھتیجے نے مزید بتایا کہ چاچا کا کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا اور وہ واہگہ بارڈر پر آنے والے لوگوں سے ملنے والی رقم سے اپنی گزر بسر کیا کرتے تھے۔ چاچا پاکستانی کو رینجرز اور واہگہ بارڈر پر آنے والے مختلف حکام کی جانب سے کئی ایوارڈز اور سرٹیفیکیٹس سے بھی نوازا گیا۔
 
چاچا پاکستانی کو ان کے پسندیدہ سفید اور ہرے پاکستانی جھنڈے میں لپیٹ کر ان کے گاؤں چنداری میں دفن کیا جائے گا۔

یمن: خاتون کو عزت بچانے پر سزائے موت

 یمن کی ایک عدالت نے خاتون شہری رجا حکیمی کو سزائے موت سنائی دی، رجا پر الزام تھا کہ اس نے مبینہ طور پراپنی عصمت دری کی نیت سے گھر میں داخل ہونے والے ایک شخص کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا, رجا حکیمی کو جنوبی صوبے ایب کی ضلعی عدالت نے پہلے دو سال قید کی سزا سنائی جس کے خلاف اپیل کرنے کے نتیجے میں سزا کو بڑھا کر سزائے موت کر دیا گیا، خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے عدالتی فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔

1960ء میں بنایا گیا پرانا کمپیوٹر دوبارہ فعال

برطانیہ میں دو انجینئروں راجر ہومز اور راڈ براو ¿ن نے گزشتہ صدی میں 1960ء کی دہائی میں تخلیق کیا گیا کمپیوٹر دوبارہ فعال کردیا ہے۔ 6 میٹر لمبے اور ساڑھے 6 میٹر چوڑے کمپیوٹر کی مرمت میں 9 سال لگے۔ 

یونیورسٹی آف لندن نے 1962ء میں یہ کمپیوٹر ڈھائی لاکھ پاؤنڈ میں خریدا تھا۔ یہ کمپیوٹر امتحانات کے کاغذات کی جانچ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اور اس کمپیوٹر کے ذریعے سندیں جاری کی جاتی تھیں۔ اب اس پرانے کمپیوٹر کو انہی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مرمت کے لیے کمپیوٹر کے غائب ہونے والے پرزے دوبارہ بنائے گئے ہیں۔ انجنیر مرمت کردہ کمپیوٹر کسی علمی ادارے یا عجائب گھر کے حوالے کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔

پنجاب یوتھ فیسٹیول: پاکستانیوں کے عجیب و غریب ریکارڈ

اگرچہ پاکستان رواں سال اولمپکس مقابلوں میں تو کوئی میڈل نہیں جیت پایا لیکن اب یہ ملک چپاتی بنانے پلگ کی وائرنگ اور اور شطرنج کی بساط بچھانے کے مقابلوں میں عالمی ریکارڈ قائم کرنے کا دعویدار ہوچکا ہے۔

پنجاب یوتھ فیسٹیول کے تحت لاہور میں عجیب و غریب ریکارڈز بنانے کا سلسلہ گزشتہ ہفتے ہفتہ کی رات اس وقت شروع ہوا جب 42 ہزار 813 افراد نے قومی ہاکی سٹیڈیم میں مل کر قومی ترانہ پڑھا۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے 15 ہزار 243 افراد کی جانب سے پڑھا جانے والا قومی ترانے کا ریکارڈ توڑ دیا۔ 

اتوار کو محمد منشا نے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ چپاتی بنانے کا ریکارڈ توڑا۔ انہوں نے تین چپاتیاں بنانے کے لئے آٹا گوندھنے سے پکانے تک تین منٹ 14 سیکینڈ کا وقت لگایا۔

12 برس کی مہک گل نے ایک ہاتھ سے شطرنج کی بساط بچھانے میں صرف 45 سیکنڈ لگائے۔ واضح رہے کہ ایسے ریکارڈز پہلے کبھی گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ کے حکام کی زیر نگرانی نہیں بنائے گئے۔

احمد امین بودلہ نے تین منٹ میں پنچ بیگ پر 616 لاتیں مار کر نیا ریکارڈ قائم کیا۔ اس سے پہلے 612 لاتوں کا ریکارڈ بھی ایک پاکستانی کی جانب سے قائم کیا گیا تھا۔


شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ممکن نہیں: صدر زرداری

پاکستان کےصدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے سے پہلے ملک گیر اتفاق رائے پیدا کرنا انتہائی ضرروری ہوتا ہے جو اب ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخاب کے قریب سیاسی جماعتیں دائیں بازو کے ووٹوں کے حصول کے لیے سرگرداں ہیں اس لیے کسی آپریشن کے لیے مطلوبہ اتفاق رائے ممکن نہیں۔

اتوار کو ایوان صدر میں صحافیوں کی تنظیم سیفما کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں سوات اور جنوبی وزیرستان میں کامیاب آپریشن اسی وجہ سے ہو پائے تھے کہ ان کی حکومت نے ملک میں اتفاق رائے حاصل کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بغیر اتفاق رائے کے کسی آپریشن کا شروع کرنا خطرات سے خالی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو آپریشن شروع کرنے کا مشورہ دے رے ہیں انہیں یہ بھی سوچ لینا چاہیے کہ ملک میں کتنے مدرسے ہیں اور انہیں متحد ہوتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔

ملالہ پر طالبان کے حملے کے حوالے سے صدر زرداری نے کہا کہ حکومت نے ملالہ یوسفزئی کو سکیورٹی کی پیشکش کی تھی لیکن ان کے والد نے سکیورٹی لینے سے انکار کردیا تھا۔ صدر نے کہا کہ اگر ملالہ کے والد سکیورٹی کی پیشکش کو قبول بھی کر لیتے تو بھی ملالہ کی حفاظت کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا سکیورٹی لینے کی صورت میں شدت پسند بڑا حملہ کرتے جس میں ان کی جان بھی جا سکتی تھی۔

انہوں نے کہا جب ایک پولیس اہلکار نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ہلاک کردیا تو اس مقدمے کو چلانے کے لیے حکومت کے لیے وکیل تلاش کرنا مشکل ہوگیا جبکہ دوسری جانب ایک سابق چیف جسٹس نے خود کو قادری کی پیروی کے لیے پیش کردیا۔

انہوں نے کہا کہ چین کے علاوہ دنیا کا کوئی ملک پاکستان کی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ آصف زرداری نے کہا کہ وہ مرحومہ بینظر بھٹو کے ساتھ تھے جب جمہوری طاقتوں نے پاکستان کو امداد کی یقین دہانیاں کرائیں لیکن جب وقت آیا تو ایسی شرطیں عائد کیں جن کو پورا کرنا شاید پاکستان کے بس میں ہی نہیں ہے۔

شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ممکن نہیں: صدر زرداری

افسردگی دور کرنے والی ادویات سے دماغی عارضے کا خدشہ

افسردگی دور کرنے والی ادویات antidepressants کی ایک مخصوص قسم استعمال کرنے والے افراد میں دماغ کے اندر خون رسنے کی بیماری کے شکار ہونے کے خدشات زیادہ ہیں۔

یہ بات کینیڈا کے طبی محققین نے قریب 5 لاکھ افراد پر کی گئی تحقیق کے بعد کہی ہے تاہم بعض طبی ماہرین اب بھی ان ادویات کو محفوظ قرار دیتے ہیں۔ ان ادویات کو SSRIs یعنی Selective Serotonin Reuptake Inhibiors کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کی چند مثالیں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی مانع افسردگی ادویات جیسےfluoxetine ،sertraline ، citalopram اور paroxetine ہیں۔ ان ادویات کے سبب معدے سے خون کے رساؤ کی شکایات تو پہلے ہی کی جاتی تھیں تاہم یہ بعد اب سے پہلے تک یہ بات وثوق کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی تھی کہ آیا SSRIs دماغ میں خون کے رساؤ یعنی hemorrhagic سٹروکس کا بھی باعث بنتی ہے!

اس تحقیق کے لیے کینیڈین طبی محقیقن نے ایسے سولہ سابقہ تحقیقوں کی جانچ کی، جن میں ایسے 5 لاکھ افراد کا جائزہ لیا گیا جن میں سے بعض SSRIs استعمال کررہے تھے اور بعض نہیں۔ مانع افسردگی ادویات کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ ان کا استعمال کرنے والے چالیس تا پچاس فیصد مریضوں میں دماغ کے اندر یا اطراف میں خون کے رساؤ کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

اس تحقیقی دستے میں شامل پروفیسر ڈینیئل ہیکم البتہ کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ اعداد و شمار کافی زیادہ دکھائی دیتے ہیں تاہم کسی ایک مریض کے لیے خطرہ ’بہت ہی کم‘ ہے۔ اس تحقیق میں شامل کیے گئے افراد کی تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ ایک سال سے زائد عرصے تک SSRI استعمال کرنے والے والے دس ہزار مریضوں میں سے محض ایک کو hemorrhagic سٹروکس کا سامنا ہو سکتا ہے۔

پروفیسر ڈینیئل نے ایک اور نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال یہ ثابت نہیں ہوا کہ مانع افسردگی ادویات براہ راست دماغ میں خون کے رساؤ کا سبب بنتی ہیں، ’’یہ ممکن ہے کہ یہ ادویات استعمال کرنے والے افراد دیگر کے مقابلے میں ویسے ہی زیادہ علیل ہوں اور ہوسکتا ہے کہ ان کی ایسی عادات ہوں جو دماغ کے عارضے کا سبب بنتی ہوں۔‘‘ کینیڈین محقیقن نے ان امور پر بھی توجہ مرکوز رکھی مگر ان کے زیر مطالعہ بعض سٹڈیز میں زیر مشاہدہ افراد کی تمباکو نوشی، شراب نوشی یا ذبابیطیس سے متعلق معلومات موجود نہیں تھیں۔ اس بنیاد پر پروفیسر ڈینیئل کہتے ہیں کہ مانع افسردگی ادویات کو محفوظ تصور کیا جاسکتا ہے۔

افسردگی دور کرنے والی ادویات سے دماغی عارضے کا خدشہ

انٹرنیشنل الیون دوسرا میچ بھی ہارگئی

انٹرنیشنل الیون کو اتوار کے روز پاکستان آل اسٹار الیون کے خلاف دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں چھ وکٹوں سے شکست ہوگئی۔ دوسرے میچ میں شاہد آفریدی، ناصر جمشید، سرفراز احمد، وہاب ریاض، انور علی، اور فواد عالم نہیں کھیلے ان کی جگہ سہیل خان، میر حمزہ، فراز احمد، ذوالقرنین حیدر، فیصل اقبال اوراسد شفیق کو میزبان ٹیم میں شامل کیا گیا۔ پاکستان آل اسٹار الیون کی قیادت کرنے والے شعیب ملک نے ٹاس جیت کر انٹرنیشنل الیون کو بیٹنگ دی جس نے نو وکٹوں پر 142 رنز بنائے۔

گیارہویں نمبر پر بیٹنگ کرنے والے نینتی ہیورڈ نے صرف سولہ گیندوں پر چار چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے بیالیس رنز ناٹ آؤٹ کی عمدہ اننگز کھیلی۔ انہوں نے ایڈم سینفرڈ کے ساتھ آخری وکٹ کی شراکت میں ستاون رنز کا اضافہ کیا۔ سنتھ جے سوریا دوسرے میچ میں بھی ناکام رہے اور دوسری ہی گیند پر بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے۔ فراز احمد نے بیس رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں۔ پہلے میچ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے تابش خان نے دو کھلاڑی آؤٹ کئے۔

پاکستان آل اسٹار الیون نے مطلوبہ سکور چار وکٹوں کے نقصان پر سترہویں اوور میں پورا کرلیا۔ عمران نذیر نے 53 رنز سکور کئے جس میں پانچ چھکے اور چار چوکے شامل تھے۔ عمران نذیر اور شاہ زیب حسن نے پہلی وکٹ کی شراکت میں ننانوے رنز کا اضافہ کیا۔ شاہ زیب حسن نے اتنالیس رنز بنائے اسد شفیق تیئس رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔ سٹیون ٹیلر نے تین وکٹیں حاصل کیں۔

انٹرنیشنل الیون دوسرا میچ بھی ہارگئی

پاکستان شاید بالغ ہوگیا!

وہ بھی کیا دن تھے جب شیروانی، وردی اور ٹائی سوٹ والے کالے صاحب گورے حکمرانوں کی استعمال شدہ کرسیوں کا دائرہ بنا کر آپس میں ہی میوزیکل چیئر کھیلتے تھے اور عوام صرف تالیاں پیٹنے یا اپنا ہی خون پینے کا کام کرتے تھے۔ آئین تو تھا نہیں لہذا سارا کام اکڑ بکڑ بمبے بو کے فارمولے پر چلتا تھا۔ کیا زمانہ تھا وہ بھی جب نئی نئی مملکت کے تیسرے گورنر جنرل ( غلام محمد ) کی اتنی دہشت تھی کہ ٹوٹی ہوئی اسمبلی کے سپیکر (مولوی تمیز الدین) کو صرف ایک آئینی پیٹیشن داخل کروانے کے لیے عدالت پہنچنے کی خاطر برقعہ اوڑھ کر سفر کرنا پڑا۔

اور کیسی تھی وہ عدالت بھی جو آئینی اہمیت کا کوئی بھی فیصلہ ’انصاف بعد میں نوکری پہلے‘ کے اصول کے تحت صاحبِ اقتدار کے چہرے کے رنگوں کی روشنی میں کرنے کی عادی تھی۔ مگر جیسے ہی حاکمِ وقت بے اقتدار ہوتا جج شیر ہوجاتے۔ پھر یہی عدالت معزول کو غاصب (یحییٰ خان) قرار دے کر اپنی ہی پیٹھ تھپتھپاتی تھی۔

اور کیا تھی وہ صحافت جو ایک قابض (سکندر مرزا) کی کنپٹی پر پستول رکھ کر اقتدار چھیننے والے دوسرے قابض (ایوب خان) کی حرکت کو انقلاب کہنے پر اور دوسرے قابض سے اختیار لینے والے تیسرے قابض (یحییٰ خان) کے غصب کو انتقالِ اقتدار لکھنے پر مجبور ہوتی تھی۔

اور کیسے تھے وہ سیاستداں جو سیٹی بجتے ہی شراکتِ اقتدار کی خیراتی قطار میں لگنے کی خاطر کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کرنے اور ایک ٹانگ پر کھڑے چلہ کاٹنے پر غیر مشروط آمادہ رہتے تھے۔ اور کیا تھیں عوامی اعتماد سے سرشار وہ منتخب اسمبلیاں جو جرنیلوں اور ان کی مہم جویانہ حکمتِ عملیوں اور ان کے بجٹ کے بارے میں ایک لفظ بھی منہ سے نکالنا ایسے معیوب سمجھتی تھیں جیسے پرانی وضع کی بیوی اپنے شوہر کا نام لینے سے کترائے ۔

زمانہ واقعی آگے بڑھ رہا ہے۔ آج آپ کسی بیکری کے معمولی ملازم کو پیٹ ڈالیں، یا کسی کو غائب کریں، یا لوگوں کو خریدنے بیچنے کا کاروبار کریں، یا کسی بے گناہ بچی پر گولی چلائیں۔ کوئی نا کوئی دیوانہ کہیں نا کہیں سے آپ کو ضرور تاک رہا ہے۔ وہ اگر آپ کے منہ پر نا بھی تھوک پایا تو آپ کے سامنے زمین پر ضرور تھوک دے گا۔ یہ بھی نا کرسکا تو یاد ضرور رکھے گا۔

اور پھر ایک دن ایک شاعر (حبیب جالب) نے کہا میں نہیں مانتا۔ دوسرے دن ایک سیاستدان ( بھٹو) نے کہا میں بھی نہیں مانتا۔ تیسرے دن چند پاگل صحافیوں نے ٹکٹکی پر بندھے ہوئے کہا ہم نہیں مانتے۔چوتھے دن ایک ریٹائرڈ جرنیل ( اصغر خان ) نے کہا میں نہیں مانتا۔ پانچویں دن ایک جج ( افتخار چوہدری ) نے کہا میں نہیں مانتا۔ چھٹے دن ہر ہما شما کہنے لگا میں نہیں مانتا اور ساتویں دن یہ راز ہر جانب آشکار ہوگیا کہ بادشاہ کے کپڑے نہیں ہیں۔ بادشاہ بھی ننگا ہوسکتا ہے۔۔۔ وہ ننگا ہے۔۔۔ ننگا ہے۔۔۔۔

اور پھر یوں ہوا کہ میڈیا پہلے آزاد اور پھر بدتمیز ہوگیا۔ پھر عدلیہ نے بھی دل پکڑا اور حاضر جناب کا طوق لوہار کی طرف اچھال دیا۔ اس کے بعد سیاست دانوں نے بھی دائیں بائیں دیکھا اور پھر ایک دوسرے کا کچا چٹھا کھولنا شروع کیا اور پھر ہر ایرے غیرے کو بھی معززینِ گذشتہ و حالیہ کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت ہوگئی۔ آج طویلے میں کوئی گائے ایسی نہیں جو مقدس ہو۔ ہر وہ سانڈ جو ہر راستے پر بگٹٹ دوڑنے کا عادی ہے۔ وہ بھی جان گیا کہ اس کے نوکیلے سینگوں پر کسی کا بھی ہاتھ کبھی بھی پڑ سکتا ہے۔

گزرے جمعہ کو پاکستان میں ماضی کو کٹہرے میں کھڑا کرکے قابلِ سزا قرار دینے کی روایت بھی پڑ گئی تاکہ حال اور مستقبل کو بھی کان ہوجائیں۔ یوں پاکستان بلا آخر 65 برس بعد ہی سہی قانونی بلوغت کے دور میں داخل ہوگیا۔

پاکستان شاید بالغ ہوگیا!

بھارت میں عورتوں کی عصمت دری

ہریانہ میں گذشتہ سال عصمت دری کے 733 واقعات درج ہوئے لیکن بہت سے واقعات درج ہونے سے رہ جاتے ہیں۔ بھارت کے دارالحکومت دلی سے متصل ریاست ہریانہ کا ایک روایتی گاؤں ڈبرا ہے جس کی گلیاں تنگ ہیں اور کھلی نالیاں ہیں وہاں کے مکانات اینٹ اور گارے کے بنے ہوئے ہیں۔ بچے دھول میں کھیلتے ہیں اور مرد کنارے بیٹھے بیڑی اور حقہ پیتے رہتے ہیں۔ حالانکہ اس غریب کسان قصبے میں زیادہ لوگ باہر سے نہیں آتے ہیں لیکن ایک مکان کے باہر دو پولیس والے پہرے پر کھڑے ہیں اور اندر ایک سولہ سالہ لڑکی بیٹھی ہے۔ اس کے گرد کئی دوسری خواتین موجود ہیں۔ اس لڑکی کے لیے ہی وہاں پولیس کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ چھہ ہفتے قبل وہ گلیوں سے گزرتی ہوئی کام پر جا رہی تھی جب کچھ لوگوں نے اس کو اغواء کر لیا تھا۔

اس نے کسی قسم کے احساسات کا اظہار کیے بغیر سپاٹ لہجے میں کہا کہ ’وہ لوگ مجھے گھسیٹ کر کار میں لے گئے اور میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی او مجھے ندی کے کنار ے لے گئے اور سات لوگوں نے باری باری میری عصمت دری کی اور باقی دیکھتے رہے۔‘ اس کی مصیبت وہیں ختم نہیں ہوئی۔ ان لوگوں نے اس واقعے کو اپنے موبائل فون پر ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کیا اور اس سخت گیر سماج میں اسے پھیلا دیا۔ لڑکی کے چچازاد بھائی نے کہاکہ’ان کے والد نے شرم کے مارے زہر کھا لیا۔ ہم لوگ انہیں ہسپتال لے گئے لیکن اس وقت تک کافی دیر ہو چکی تھی اور ہم انہیں نہی بچا سکے۔‘ اب تک نو مبینہ حملہ آور اور اغوا کرنے والے گرفتار ہو چکے ہیں لیکن ابھی بھی کچھ لوگ فرار ہیں۔
خواتین کے خلاف پورے بھارت میں عصمت دری اور جنسی استحصال کے واقعات ہوتے ہیں لیکن ہریانہ ان میں الگ اس لیے ہے کہ وہاں سماج کا رویہ اس کے تئیں مختلف ہے۔ بھارت کے دارالحکومت دلی کے قریب اس علاقے میں ابھی بھی مردوں کی اجارہ داری ہے۔ دیہی ضلع جند میں ایک گاؤں کی ایک پنچایت جاری ہے۔ ایک بڑے سے ہال میں معمر حضرات چارپائی پر بیٹھے حقہ پی رہے ہیں اور ان میں کوئی بھی خاتون نہیں ہے۔ جیسا کہ صدیوں سے ہوتا آیا ہے وہ لوگ سماجی امور، خواتین اور حالیہ عصمت دری پر فیصلہ دیں گے۔ 

گاؤں کے ایک بزرگ سریش کوتھ نے کہاکہ’میں آپ کو عصمت دری کی اصل وجہ بتاتا ہوں۔ آپ دیکھیں اخباروں اور ٹیلی ویژن پر کیا دکھایا جا رہا ہے۔ نصف عریاں خواتین۔ یہ چیزیں ہیں جو ہمارے بچوں کو خراب کر رہی ہیں۔ آخر کار یہ بھارت ہے کوئی یورپ تو نہیں۔‘

ایسی تنقید بھی ہو رہی تھیں جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کھاپ برادری پنچایت ہے جس میں سارے مرد ہیں اور یہ سماجی اور سیاسی طور کافی مضبوط ہیں۔ 

عصمت دری کا شکار ڈبرا کی لڑکی نے کہا کہ لڑکیوں نے اس واقعے کے بعد ڈر سے سکول جانا چھوڑ دیا ہے اور وہ بہت زیادہ خوفزدہ ہیں۔



بھارت میں عصمت دری عام کیوں؟

اتوار, اکتوبر 21, 2012

دنیا کا سب سے بڑا انسانی جھنڈا بنانے کی ریہرسل

گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے لئے دنیا کا سب سے بڑا انسانی جھنڈا بنانے کی فل ڈریس ریہرسل کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔ سپورٹس بورڈ پنجاب کا کہنا ہے کہ ریہرسل کے دوران اکیس ہزار بچوں نے شرکت کرکے عالمی ریکارڈ برابر کردیا ہے۔

نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں مختلف سکولز کے پچیس ہزارطلبہ بائیس اکتوبر کو دنیا کا سب سے بڑا انسانی جھنڈا بنا کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔ فل ڈریس ریہرسل میں اکیس ہزار طلبہ نے شرکت کی۔ سپورٹس بورڈ پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل عثمان انور نے کہا کہ ان بچوں نے ریہرسل میں ہی چین اور ہانگ کانگ کا اکیس ہزار کے انسانی جھنڈے کا ریکارڈ برابر کردیا ہے۔

جھنڈا بنانے والے طلبہ انتہائی پر جوش دکھائی دیئے۔ اس موقع پر سٹیڈیم میں موجود طالبات کا کہنا تھا کہ پنجاب یوتھ فیسٹیول کے ذریعے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا ہے۔ اور مختلف نئے عالمی ریکارڈز کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان کا تاثر بہتر ہوگا۔
 

اداکار عامر خان کی فریضہ حج کے لئے روانگی

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بالی ووڈ اداکار عامر خان اپنی والدہ زینت حسین کے ساتھ حج کریں گے۔ فلم دھوم تھری کی شوٹنگ کرنے کے بعد وہ جمعرات کو بھارت واپس آئے اور فلم ”تلاش“ کے میوزک لانچ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عامر خان کا کہنا تھا کہ میں فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے حجاز مقدس جارہا ہوں اور نومبر کے پہلے ہفتے میں وطن واپس آؤں گا.

بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ عامر خان نے بتایا کہ ان کی والدہ کی خواہش تھی کہ اس سال وہ فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے حجاز مقدس جائیں لہٰذا میں بھی ان کے ہمراہ سعودی عرب جارہا ہوں۔

ایک بھارتی جریدے کے مطابق عامر خان جمعہ کی شام اپنی والدہ کے ہمراہ چودہ دن کے لئے حج کی سعادت حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب روانہ ہوگئے۔

پاکستان سٹارز الیون نے انٹرنیشنل سٹارز کو ہرا دیا


کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ٹی 20 میچ میں پاکستان سٹارز الیون نے انٹرنیشنل سٹارز الیون کو 84 رنز سے شکست دیدی، انٹرنیشنل سٹارز الیون 223 رنز کے ہدف کے تعاقب میں مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹ پر 138 رنز بنا سکی، شاہ پور زردان 42 رنز بنا کر نمایاں بیٹسمین رہے، پاکستان سٹارز کے بولر تابش خان نے ہیٹ ٹرک کی۔ 

میچ میں انٹرنیشنل سٹارز الیون شروع ہی سے مشکلات کا شکار رہی، کپتان سنتھ جے سوریا پہلے ہی اوور میں 10 رنز بنا کر انور علی کی گیند پر شاہد آفریدی کے ہاتھوں کیچ ہوکر واپس پویلین لوٹ گئے۔ محمد شہزاد 14 اور سٹیون ٹیلر 15 رنز بنا کر وہاب ریاض کا شکار بنے۔ پاکستان سٹارز الیون کے تابش خان نے ریکارڈو پاول 5، جرمین لاسن 0 اور تھاندی شبالالا کو 0 پر بولڈ کرکے اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔ انٹرنیشنل سٹارز الیون کے 42 رنز بنانے والے ٹاپ سکورر شاہ پور زردارن کو میچ کے آخری اوور میں شاہد آفریدی نے آؤٹ کیا، انہوں نے اننگز میں 3 چھکے اور 3 چوکے لگائے۔ پاکستان سٹارز الیون کی جانب سے تابش خان نے 25 رنز کے عوض 3، وہاب ریاض نے 2، آفریدی اور انور علی نے ایک ایک وکٹ لی۔

42813 پاکستانیوں نے قومی ترانہ پڑھ کا ورلڈ ریکارڈ قائم کردیا


لاہور … نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں 42 ہزار 813 افراد نے ایک ساتھ قومی ترانہ پڑھنے کا ورلڈ ریکارڈ قائم کردیا، گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے پاکستان کو سرٹی فکیٹ دے دیا۔ لاہور کے نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے نمائندے گیرتھ ڈیوز نے اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 42 ہزار 813 پاکستانیوں نے ایک ساتھ قومی ترانہ پڑھ کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اردو میں کہا کہ آپ نے ورلڈ ریکارڈ بنا دیا۔ گیرتھ ڈیوز نے بتایا کہ اس سے قبل بھارت میں 15 ہزار افراد نے ایک ساتھ قومی ترانہ پڑھا تھا۔ پنجاب سپورٹس بورڈ کے زیر اہتمام یوتھ فیسٹیول کی افتتاحی تقریب میں ہزاروں افراد نے ایک ساتھ قومی ترانہ پڑھا۔ تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، معروف سنگر علی ظفر، کھلاڑیوں، طلباء و طالبات سمیت مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

اے لوگو! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے





دنیا میں راہ گیر کی طرح زندگی بسر کرو






ذوالحجہ کے پہلے عشرہ میں نیکیوں کی فضیلت

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ

ذوالحجہ کے پہلے عشرہ میں نیکیوں کی فضیلت سے متعلق حدیث کا مطالعہ کریں اور اس موقع سے خوب خوب فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں، کہ اللہ کو ان دنوں میں کیے گئے نیک اعمال دیگر کسی بھی دن میں کیے گئے نیک اعمال سے زیادہ پسند نہیں، سوائے اس مجاہد کے جو جہاد کے لئے گیا اور شہید ہوا۔ آج پیر 5 ذوالحجہ ہے، یہ آفر چند دنوں کے لئے ہے۔ اللہ تعالٰی کی رضا کے لئے زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کریں۔



ہفتہ, اکتوبر 20, 2012

نوکیا لومیا 800: مکمل ری ویو

نوکیا کی جانب سے کم و بیش ایک سال قبل متعارف کروایا جانا والا پہلا ونڈوز فون لومیا 800 بالآخر پاکستان پہنچ ہی گیا۔ کمپنی کی جانب سے اس فون کو پاکستان میں اتنی دیر سے ریلیز کرنے کی کیا منطق ہے ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ لیکن اس غلطی کا بھاری خمیازہ یقیناً انہیں بھگتنا پڑے گا کیونکہ اب تو نوکیا کے جانب سے ونڈوز 8 سے مزین نئے لومیا فونز، 820 اور 920 بھی متعارف کروا دیے گئے ہیں جو ایک دو ماہ کے اندر دنیا بھر میں دستیاب ہونگے (شاید پاکستان میں اتنی جلدی نہ ملیں)۔ خیر نوکیا کی دوسری غلطی کہ اس فون کی قیمت پاکستانی مارکیٹ میں لگ بھگ 40 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے جو کہ کچھ زیادہ ہے۔
 
کچھ عرصہ قبل نوکیا کی جانب ری ویو کے لیے ہمیں یہ سمارٹ فون موصول ہوا، فون کے فیچرز اور اس کی خوبیوں / خامیوں کے حوالے سے ہماری کیا رائے ہے؟ ملاحظہ کیجئے۔

ڈبے میں کیا ہے؟
ڈبے کے سائز کو بہت چھوٹا رکھا گیا ہے، جس میں فون اور دیگر اسیسریز کو اوپر تلے رکھ کر جگہ پر کی گئی ہے۔ ڈبے میں موجود چیزوں کی تفصیل کچھ یوں ہے:
سمارٹ فون
چارجر اورڈیٹا کیبل
ہینڈز فری
ربڑ کور
گائیڈ میٹریل

سمارٹ فون کا ڈیزائن:
نوکیا کی جانب سے اس فون کی تیاری میں میگو ڈیوائس N9 کا ڈیزائن مستعار لیا گیا ہے، ایک ہی پولی کاربونیٹ پلاسٹک کے ٹکڑے سے بنا یہ فون انتہائی خوبصورت اور دلکش ہے۔ آپ چار رنگوں میں چاہے کوئی سا بھی خریدیں ان پر پینٹ نہیں کیا گیا بلکہ اسے اسی رنگ کے پلاسٹک سے بنایا گیا ہے لہذا رنگ اترنے کی فکر سے تو نجات ملی۔ فون میں گوریلا گلاس کا استعمال کیا گیا ہے جو مضبوط اور پائیدار ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین تصویر بھی فراہم کرتا ہے۔ فون خمدار چوکور شکل کا ہے، اس کی لمبائی 116.5 ملی میٹر اور چوڑائی 61.2 ملی میٹر ہے۔ فون کی موٹائی 12.1 ملی میٹر ہے اور اس کا وزن 142 گرام ہے۔

فون کی سکرین کا سائز 3.7 انچ ہے جو کہ 480×800 پکزل ریزولیوشن فراہم کرتی ہے۔ سامنے کی جانب سکرین کے علاوہ نوکیا لوگو، ایرپیس سپیکر ،لائیٹ سنسر اور تین ٹچ بٹن نصب کیے گئے ہیں۔ فون کی پشت 8 میگا پکزل کیمرہ اور ڈول ایل ای ڈی فلیش لائیٹ سے مزین ہے۔ فون کی دائیں جانب والیوم کیز، پاور بٹن اور کیمرہ بٹن نصب ہے جبکہ بائیں جانب بالکل خالی ہے۔ فون کے اوپر 3.5 ملی میٹر ہیڈ فون جیک، مائیکرو یو ایس بی پورٹ اور مائیکرو سم کارڈ سلوٹ موجود ہے جبکہ فون کی نچلی سطح سپیکر اور مائیکروفون سے مزین ہے۔ سپیکر فون نچلی جانب نصب ہونے کی وجہ سے جب آپ کوئی ویڈیو دیکھ رہے ہوں تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ آواز کہیں اور سے آرہی ہے، اسی لیے نوکیا کی جانب سے دیگر ماڈلز میں سپیکر کی جگہ تبدیل کر لی گئی ہے۔
 
گو کہ فون کا ڈیزائن بہت ہی دلکش اور پائیدار ہے لیکن فون کی سکرین اور پولی کاربونیٹ باڈی دونوں ہی پر انگلیوں کے نشانات بہت جلد پڑ جاتے ہیں، لہذا آپ کو فون استعمال کرتے وقت اس کی صفائی کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔ یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ فون میں عام سم کی بجائے مائیکرو سم کا استعمال ہوتا ہے جس کے لیے یا تو آپ کو نئی ”چھوٹی سم“ خریدنا ہوگی یا پھر اپنی موجودہ سم کاٹ کر چھوٹی کرنا ہوگی۔

ہارڈوئیر کی تفصیلات:
فون میں 1.4GHz سنگل کور پراسیسر کا استعمال کیا گیا ہے اور اس کی ریم 512MB ہے۔ اس فون میں Adreno 205 گرافکس چپ نصب ہے جس کی بدولت آپ اس پر تھری ڈی گیمز باآسانی کھیل سکتے ہیں۔ گو کہ مارکیٹ میں آج کل ڈول کور اور کواڈ کور پراسیسرز کے حامل سمارٹ فون بھی دستیاب ہیں لیکن چونکہ لومیا 800 کو خاص طور پر ونڈوز فون 7.5 کے لیے بنایا گیا لہذا سنگل کور پراسیسر اور 512 MB کے ریم کے باوجود فون کی رفتار بہت تیز ہے اور آپ کو کسی قسم کا lag محسوس نہیں ہوتا۔

فون کی میموری 16GB ہے ، چونکہ ونڈوز فون 7.5 میں میموری کارڈ سپورٹ شامل نہیں لہذا نوکیا کی جانب سے اس فون میں میموری کارڈ سلوٹ نہیں رکھی گئی۔ ایک عام صارف کے لیے 16GB کچھ کم ہے کیا؟

فون میں 8 میگا پکزل کیمرہ نصب ہے جس میں Carl Zeiss لینز استعمال کیا گیا ہے، اس کے ساتھ ڈول ایل ای ڈی فلیش لائیٹ بھی نصب ہے جو اندھیرے میں تصاویر اتارنے میں مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ لوڈشیڈنگ کے وقت روشنی فراہم کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اس فون کا کیمرہ رزلٹ بہت خوب ہے اور علیحدہ سے کیمرہ بٹن ہونے کی وجہ آپ کو تصاویر اتارنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی، بس بٹن دبائیں اور کیمرہ خودکار فوکس کے ذریعے اعلی تصویر اتار دے گا۔ ساکن تصاویر اتارنے کے ساتھ ساتھ یہ کیمرہ 720p ہائی ڈیفینیشن ویڈیوز بنانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ فون میں سامنے کی جانب کوئی کیمرہ نصب نہیں لیکن آپ سکائپ پر پشت والا کیمرہ استعمال کرسکتے ہیں۔
 
فون میں 1450mAh بیٹری استعمال کی گئی ہے جو آپ کو نارمل استعمال پر 2 دن تک کا بیک اپ فراہم کرتی ہے، لیکن اگر آپ زیادہ گیمز کھیلنے یا وائی فائی انٹرنیٹ استعمال کرنے کے شوقین ہیں تو دیگر سمارٹ فونز کی طرح یہ بمشکل ایک دن ہی چلے گی۔ ایک ہی پلاسٹک کے ٹکڑے سے بنا ہونے کے باعث آپ فون کی بیٹری کو تبدیل نہیں کرسکتے۔
کال کوالٹی کے حوالے سے فون کی کارکردگی بہت اچھی ہے اور آپ انتہائی شور میں بھی باآسانی کالز کرسکتے ہیں۔ فون وائی فائی، بلیوٹوتھ، ایف ایم ریڈیو، جی پی ایس، ایکسیلرومیڑ اور لائیٹ سنسرز سے بھی مزین ہے۔

سافٹوئیر اور انٹرفیس:
نوکیا لومیا 800 مائیکروسافٹ ونڈوز فون 7.5 جسے عرف عام میں مینگو کا نام دیا جاتا ہے سے مزین ہے۔ فون کے انٹرفیس میں ٹائلز کا استعمال کیا گیا ہے جن میں بہت سے ٹائلز ساکن اور کچھ متحرک ہوتی ہے جیسے تصاویر کا سلائیڈ شو، فیس بک اور ٹوئیٹر اپڈیٹس، موسم کا حال وغیرہ۔ اگر آپ اس سے قبل ونڈوز فون استعمال کرچکے ہیں تو یقیناًآپ کو اس فون میں کچھ نیا نہیں ملے گا۔

دیگر موبائل فون آپریٹنگ سسٹمز کی نسبت ونڈوز فون 7.5 بہت ہی عمدہ اور جانب نظر سافٹ وئر ہے، خاص کر اگر آپ اینڈرائیڈ صارف ہیں تو یقیناً آپ اینڈرائیڈ کی سست رفتار سے بہت تنگ ہوں گے، اس کے مقابلے میں ونڈوز فون بہت تیز ہے اور آپ کو کسی قسم کا lag محسوس نہیں ہوگا۔ آپ فیس بک، ٹوئیٹر، دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس، اپنی ای میلز اور دوستوں کی جانب سے موصول ہونے والے پیغامات ایک ہی جگہ موصول کر سکتے ہیں۔ ہوم سکرین پر موجود متحرک ٹائلز آپ کو ہر نئے اپڈیٹ سے باخبر رکھتی ہیں۔ فون میں موجود مائیکروسافٹ آفس کی مدد سے آپ کسی بھی وقت ورڈ، ایکسل اور پاورپوائیٹ کی نئی فائلز تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ کلاؤڈ پر موجود اپنی پرانی فائلز بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ فون میں ایکس باکس لائیو کی سہولت بھی موجود ہے جس کی مدد سے آپ اپنے دوستوں کے ساتھ گیمز کھیل سکتے ہیں اور اپنے سکور شئیر کر سکتے ہیں۔ آپ مارکیٹ پلیس سے بہت سی گیمز، گانے اور ویڈیوز بھی خرید سکتے ہیں اور انہیں لائیو ٹائلز بھی بنا سکتے ہیں تاکہ صرف ایک ٹچ پر آپ کا پسندیدہ گانا چل پڑے۔
 
جہاں ونڈوز فون 7.5 ایک منفرد اور دلکش سافٹ وئر ہے وہیں اس میں بہت سی خامیاں بھی ہیں، جیسے عام طور پر آپ سمارٹ فونز میں ملٹی ٹاسکنگ یعنی ایک ہی وقت میں بہت سی ایپلی کیشنز کھول سکتے ہیں، لیکن اس فون میں یہ سہولت موجود نہیں اور آپ ایک وقت میں صرف ایک ہی ایپلی کیشن استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی طرح دیگر گوگل اینڈرائیڈ اور آئی او ایس کے مقابلے میں ونڈوز فون کے لیے بہت کم ایپلی کیشنز دستیاب ہیں، اور ان کی کوالٹی بھی اتنی اچھی نہیں۔ اگر آپ پہلی بار ونڈوز فون استعمال کررہے ہیں تو یقیناً آپ کو اس بات کا شکوہ بھی رہے گا کہ آپ نہ تو بلیوٹوتھ کے ذریعے فائلز کا تبادلہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس میں کسی قسم کا فائل مینجر موجود ہے۔ کمپیوٹر پر یا اس سے فائلز ٹرانسفر کرنے کے لیے بھی آپ کو مائیکروسافٹ کا سافٹ وئر استعمال کرنا ہوگا جو پہلے فائلز کو کنورٹ کرے گا اور یہ صرف تصاویر، گانے اور ویڈیوز ہی منتقل کرسکتا ہے۔ گو کہ ان میں سے بہت سی خامیوں پر ونڈوز فون کے نئے ورژن 8 میں قابو پالیا گیا ہے لیکن اطلاعات کے مطابق لومیا 800 نئی ونڈوز پر اپگریڈ نہیں ہوسکے گا۔ مگر گھبرائیے مت نوکیا کی جانب سے جلد ہی اس فون کے لیے ونڈوز 7.8 نامی خصوصی ورژن پیش کیا جا رہا ہے جو ونڈوز فون 8 کے بہت سے فیچرز سے مزین ہوگا۔

ہماری رائے:
نوکیا کی جانب سے اس فون کو پاکستان میں پیش کرنے میں تاخیر کی وجہ سے بہت سے صارفین شاید اب اس کی جانب راغب نہ ہوسکیں، سونے پر سہاگہ نوکیا کی جانب سے اس فون کی قیمت بھی بہت زیادہ مقرر کی گئی ہے جس کی وجہ بہت سے لوگ جو یہ فون خریدنا چاہ رہے ہونگے وہ بھی کشمکش کا شکار ہیں۔ بلاشبہ فون کا ڈیزائن بہت ہی عمدہ اور دلکش ہے، اس کی مضبوطی اور پائیداری اور ہارڈوئیر فیچر بھی بہت اعلی ہیں۔فون کی اہمیت کو کم کرنے والی چیز اس کا سافٹ وئر ہے، امید ہے کہ ونڈوز فون 7.8 میں اس کمی پر بڑی حد تک قابو پالیا جائے گا۔ اگر آپ نوکیا کے مداح ہیں تو یقیناً یہ فون آپ کے لیے بہت موزوں ہے۔

نوکیا لومیا 800: مکمل ری ویو