جمعرات, جولائی 05, 2012

یاسر عرفات کی موت پلونیئم زہر کے باعث واقع ہوئی؟

یاسر عرفات
سوٹزرلینڈ میں قائم ریڈیو فزکس کے انسٹی ٹیوٹ کے مطابق فلسطینی صدر مرحوم یاسر عرفات کے ذاتی استعمال کی اشیاٴ کا تجزیہ کرنے پر اِن میں ’پلونیئم‘ نامی تاکباری زہر کے عنصر کا پتا چلا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ کے ترجمان ڈرسی کرسچین نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ عرفات کے ذاتی استعمال کی اشیاٴ میں ’حیرت ناک‘ طور پرپلونیئم کے ذرات کی 210 تہہ کی موجودگی کا پتا لگا ہے۔ تاہم، اُنھوں نے اِس بات پر زور دیا کہ تجزیاتی علامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عرفات کی طبی رپورٹیں پلونیئم کی 210 سطح کی حقیقت سےمطابقت نہیں رکھتیں۔

انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر فرانسواں بش نے الجزیرہ ٹیلی ویژن کو بتایا کہ اِس بات کی تصدیق کا واحد طریقہ آیا فلسطینی راہنما کو، جن کا 2004ء میں انتقال ہوا تھا، پلونیئم زہر دیا گیا تھا، یہی رہ گیا ہے کہ اُن کی قبر کھود کر اُن کے جسم کے متعلقہ اعضا کا لیباریٹری ٹیسٹ کیا جائے۔

عرفات کی بیواہ سوہا نے الجزیرہ کو بتایا کہ وہ اُن کی باڈی کے ٹیسٹ کا مطالبہ کریں گی، جو مغربی کنارے کے قصبے رملہ میں مدفون ہیں۔

عرفات جنھوں نے چار دہائیوں تک آزادی فلسطین کی تنظیم کی قیادت کی تھی، اور جنھیں نوبیل امن انعام سے نوازا گیا تھا، اُن کی موت 75 برس کی عمر میں ہوئی تھی جس سے قبل وہ کئی ہفتوں تک طبی امداد کے لیے پیرس کے ایک اسپتال میں داخل رہے۔

نجی معاملات کو سیغہٴ راز میں رکھنے سے متعلق قوانین کا حوالہ دیتے ہوئےفرانسیسی حکام نے فوتگی کی وجوہات کے بارےمیں کچھ نہیں بتایا، جس کے باعث اُن کی موت سے متعلق خدشات نے جنم لیا تھا۔

بتایا جاتا ہے 2006ء میں لندن میں سابق روسی جاسوس الیگزینڈر لیٹی ننکو کی موت پلونیئم کے باعث ہوئی تھی جِن کے لیے کہا جاتا ہے کہ اُنھیں دانستہ طور پر زہر دیا گیا تھا۔

یاسر عرفات کی موت پلونیئم زہر کے باعث واقع ہوئی؟

مہدی حسن کا مزار تعمیر کرنے کا فیصلہ

مہدی حسن
شہنشاہ غزل کے نام سے اپنی ایک الگ پہچان اور ایک اعلیٰ مقام رکھنے والے مہدی حسن بے شک اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن فن کی دنیا میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ وہ کسی ایک ملک، کسی ایک سرزمین اور کسی ایک خطے کی پہچان نہیں تھے بلکہ دنیا میں جہاں جہاں بھی موسیقی بستی ہے، مہدی حسن وہاں کے باسی تھے۔ وہ اپنی مدھ بھری آواز کے ذریعے دلوں میں اترنے کا فن جانتے تھے۔

وہ اس حوالے سے بھی نہایت خوش نصیب رہے کہ ان کی زندگی میں بھی اوران کی موت پر بھی۔ ۔دنیا بھر میں جس قدر انہیں خراج تحسین پیش کیا، اتنا شاید ہی اب تک کسی اور پاکستانی فنکار کو ملا ہو۔

ان کے انتقال کو تین ہفتے ہونے کو آئے مگر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اور یہ سلسلہ تادیر جاری رہے اس کے لئے کراچی میں مہدی حسن کا مقبرہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان کی آخری قیام گاہ پر مزار بنانے کا تصور بلدیہ عظمیٰ کراچی کا پیش کردہ ہے۔ اس ادارے کے ایڈمنسٹریٹر محمد حسین سید نے مزار کی ڈیزائنگ کے لئے ملک بھر کی تعمیراتی فرموں سے تجاوز طلب کرلی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا ڈیزائن منتخب کیا جائے گا جس میں مہدی حسن کا فن نمایاں ہوگا۔

انہوں نے عوام اور ملکی اداروں کو ڈیزائننگ کے لئے اپنے اپنے آئیڈیاز پیش کرنے کی دعوت دی ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم اجلاس بھی ہوچکا ہے جس میں بلدیہ کے اعلیٰ افسران بھی شریک ہوچکے ہیں۔

محمد حسین سید کا کہنا ہے کہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں غیرمعمولی خدمات انجام دینے والی شخصیات کو یاد رکھنا اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنا زندہ قوموں کی نشانی ہے۔ شہنشاہ غزل مہدی حسن کے مزار کی تعمیر کا فیصلہ اسی تناظر میں کیا گیا ہے۔

مزار کے ڈیزائن کیلئے باقاعدہ اشتہارات بھی دئیے جارہے ہیں اور ایک ایسے ڈئزائن کو ترجیح دی جائے گی جس میں مہدی حسن کی موسیقی کے لئے فنی خدمات اوران کی شخصیت کی موثر انداز میں عکاسی ہوسکے۔

پہلے، دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والے ڈیزائن کو قیمتی انعامات، سر ٹیفکیٹ اور شیلڈ سے نوازا جائے گا جبکہ ڈیزائنر کا نام مزار کی عمارت پر کندہ کیا جائے گا۔ حتمی ڈیزائن کا فیصلہ مہدی حسن کے لواحقین کے ساتھ باہمی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
 

جرمن روزنامہ بِلڈ کے 60 سال، ایک اور تاریخ رقم ہوگئی

یورپ کے سب سے بڑے اخبار جرمن روزنامہ بِلڈ نے اپنی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر چار کروڑ دس لاکھ کاپیاں تقسیم کرکے ایک تاریخ رقم کردی ہے۔

ساٹھ برس پورے ہونے پر روزنامہ بِلڈ کا خصوصی شمارہ شائع ہوا، جو ہفتے کو گھروں میں مفت پہنچایا گیا۔ بِلڈ نے اُن دو لاکھ پتوں پر ہفتے کو اخبار کی مفت کاپی نہیں بھجوائی، جنہوں نے خصوصی طور پر ایسا کرنے کے لیے کہا تھا۔

کسی اخبار کے خصوصی اشاعت کی اس قدر بڑے پیمانے پر مفت تقسیم کے حوالے سے یہ ایک ریکارڈ ہے۔ بِلڈ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چار کروڑ دس لاکھ کاپیاں اوپر نیچے رکھی جائیں تو ڈیرھ سو کلومیٹر (95 میل) بلند مینار بن جائے گا۔

یورپ کے سب سے بڑے اخبار کے طور پر اس کے قارئین کی تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد ہے اور روزانہ اس کی 30 لاکھ کاپیاں فروخت ہوتی ہیں۔ اس کی فی جِلد قیمت ستّر یورو سینٹ ہے اور اس کا شمار دُنیا کے انتہائی مضبوط اخباروں میں ہوتا ہے۔

قارئین کی تعداد کے لحاظ سے صرف جاپانی اخبار ہی اس سے آگے ہیں۔ بِلڈ جرمنی میں ایکسل اشپرنگر کی جانب سے شائع کیا جاتا ہے۔ اس کا پہلا شمارہ 24 جون 1952ء کو شائع ہوا تھا۔

بھارت کی طویل ترین شاہراہ، ’ہنوز دلی دور است‘

بھارتی شہر بالیا میں دریائے گنگا کے کنارے گندم کے لہلاتے کھیتوں کے قریب بوسیدگی کا شکار ایک افتتاحی پتھر چار سال سے زائد عرصے سے طویل ترین شاہرہ کا منصوبہ شروع ہونے کا منتظر ہے۔ مگر یہ انتظار تمام ہوتا نظر نہیں آتا۔

آٹھ لین پر مشتمل بھارت کی اس طویل ترین ایکسپریس وے نے ملک کی ایک انتہائی غریب اور آبادی کے لحاظ سے گنجان آباد ترین ریاست اترپردیش کو ملکی دارالحکومت نئی دہلی سے ملانا ہے۔ اس کی کُل لمبائی 1050 کلومیٹر بنتی ہے۔ گنگا ایکسپریس وے کے حامیوں کے مطابق یہ شاہراہ نہ صرف اترپردیش کی قسمت بدلنے میں معاون ہوگی بلکہ سفر کی طوالت کم ہوجانے کے باعث دو کروڑ سے زائد لوگوں اور علاقائی صنعت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

تاہم اس شاہراہ کی تعمیر کی راہ میں بہت سے مشکلات حائل ہیں۔ اس سڑک کی نذر ہونے والی زمینوں کے مالک کسانوں کی مخالفت کے علاوہ ایک بھارتی عدالت کی طرف سے ماحولیات کو پہنچنے والے متوقع نقصانات کے حوالے سے ایک درخواست پر 2009ء میں جاری کردہ حکم امتناعی بھی اس شاہراہ کی تکمیل کے راستے میں حائل ہے۔

اس شاہراہ کے حوالے سے مشاورت فراہم کرنے والے ادارے ’بین ایک کمپنی‘ سے تعلق رکھنے والے گوپال شرما کے مطابق، ’’یہ ان منصوبوں میں سے ایک ہے جو علاقے کا ترقیاتی نقشہ ہی بدل کر رکھ سکتے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو اپنی وہ زمینیں فروخت کرنے پر کیسے راضی کیا جائے جنہیں ان کے آباؤ اجداد کئی صدیوں سے آباد کیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ ان زمینوں کے عوض مالی فائدہ حاصل کرنے کی بجائے اپنا روایتی لائف اسٹائل جاری رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

بھارت کی طویل ترین شاہراہ، ’ہنوز دلی دور است‘

مبینہ گستاخ اسلام مظاہرین کے ہاتھوں قتل

پاکستان میں پولیس نے کہا ہے کہ ہزاروں مشتعل افراد نے قرآن کی بے حرمتی کے الزام میں ایک شخص کو تشدد کرکے ہلاک کرنے کے بعد اُس کی لاش کو نذر آتش کردیا۔

یہ واقعہ بہاولپور ضلع کے ایک دور دراز قصبے احمد پور شرقیہ میں منگل کو پیش آیا جب مظاہرین نے اُس پولیس تھانے پر ہلہ بول دیا جہاں یہ مبینہ گستاخ اسلام زیر حراست تھا۔

مقامی پولیس افسر محمد اظہر گجر کے بقول تھانے میں تعینات محافظوں نے ہجوم کو روکنے کی کوشش کی جس پر مظاہرین مزید مشتعل ہوگئے۔ احتجاج میں شامل افراد پولیس کی کئی گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور اہلکاروں کو زخمی کرنے کے بعد زیر حراست شخص کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس پولیس افسر نے بتایا کہ مقتول پر قصبے کے لوگوں نے قرآن کے صفحات پھاڑ کر زمین پر پھینکنے کا الزام لگایا تھا جس کے بعد اسے پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔

خیبر ایجنسی: این جی او کی اہلکار ہلاک

فریدہ آفریدی کا شمار اپنے علاقے کی چند تعلیم یافتہ خواتین میں ہوتا تھا
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم ایک مقامی غیرسرکاری تنظیم سویرا کی خاتون منیجر کو مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔

سرکاری اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کی صبح خیبر ایجنسی کے علاقے جمرود تحصیل میں پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ مقامی غیر سرکاری تنظیم سویرا کی ایچ آر منیجر فریدہ آفریدی اپنے گھر سے پشاور کے علاقے حیات آباد میں واقع اپنے دفتر جارہی تھیں کہ راستے میں ہی نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے ان کو ہلاک کردیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے حملہ آور دو تھے جو قتل کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق سویرا تنظیم کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ فریدہ کو کچھ عرصے سے نامعلوم افراد کی طرف سے ٹیلی فون پر قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں لیکن انہوں نے ان دھمکیوں کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا بلکہ وہ اکثر اوقات کہا کرتی تھیں کہ شاید یہ ان کے خاندان کے کچھ افراد ہیں جو ان پر ویسے ہی دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ابھی تک کسی تنظیم نے ان کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

سویرا تنظیم قبائلی علاقوں میں خواتین کی تعلیم و تربیت کے لیے سرگرم ادارہ ویمن لیڈ کا حصہ بتائی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ خیبر ایجنسی میں اس سے پہلے بھی غیرسرکاری تنظیموں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن بھی شامل ہیں۔

فریدہ آفریدی قبائلی علاقوں میں خواتین کی تعلیم و تربیت اور حقوق کے لیے سرگرم غیرسرکاری تنظیم سویرا کی ایچ آر منیجر تھیں۔

ان کا تعلق سویرا تنظیم کے بانی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ چوبیس سالہ فریدہ آفریدی جمرود کے ایک پسماندہ علاقے غنڈی مندتو کلی سے تعلق رکھتی تھیں۔

بتایا جاتا ہے کہ فریدہ کو بچپن ہی سے خواتین کی حقوق کے لیے کام کرنے کا شوق تھا اور یہی وجہ ہے کہ وہ سکول کے زمانے سے سویرا تنظیم سے منسلک ہوگئی تھیں۔

انہوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے جینڈر سٹڈیز میں ماسٹر ڈگری حاصل کی تھی۔

فریدہ کا شمار اپنے علاقے کی چند تعلیم یافتہ خواتین میں ہوتا تھا۔

قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے وہ باقاعدہ پردے میں دفتر آتی جاتی تھیں اور ان کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی۔


خیبر ایجنسی: این جی او کی اہلکار ہلاک

ڈاکٹر آفریدی کا سی آئی اے کا اثاثہ ہونے سے قیدِ تنہائی تک کا سفر

ڈاکٹر شکیل آفریدی
دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سابق رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت میں معاونت کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی، جو ایک وقت پر امریکی سی آئی اے کا اثاثہ تھے، اب قید تنہائی میں وقت گزارنے پر مجبور ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنے ایک تبصرے میں لکھا ہے کہ پاکستان میں کم ہی ایسی جیلیں ہیں جہاں اتنی تنہائی ہو جتنی کہ اس جیل میں ہے جس میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رکھا گیا ہے۔

شکیل آفریدی نے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ساتھ تعاون کیا تھا جس کے نتیجے میں امریکی افواج پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ایک خفیہ آپریشن کر کے بن لادن کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہوئی تھیں۔

چند ماہ قبل پاکستان کی ایک عدالت نے ’غداری‘ کے الزام میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو 33 سال قید کی سزا سنا دی تھی۔

ڈاکٹر آفریدی کو ایک ایسی جگہ رکھا گیا ہے جہاں جیل کے سپاہیوں پر بھی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ صرف انتہائی قابل اعتماد افسران ہی ڈاکٹر آفریدی سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر آفریدی کو اس درجے کی سکیورٹی اس لیے دی گئی ہے کہ پاکستان کے شدت پسند افراد اور حلقے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا بدلہ شکیل آفریدی سے لے سکتے ہیں۔

جیل کی چار دیواری کے باہر شکیل آفریدی پاکستان کے بہت سے افراد کے لیے امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی نفرت کی ایک علامت کا نام بھی ہیں۔ ایک ایسا شخص جس نے بن لادن کو مروانے میں امریکا کا ساتھ دیا۔

دوسری جانب امریکی حکام پاکستان پر زور ڈال رہے ہیں کہ وہ ڈاکٹر آفریدی کو ان کے خلاف مقدمے کی آزادانہ کارروائی کی سہولت دے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی بیشتر تنظیمیں بھی یہی مطالبہ کررہی ہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر آفریدی کے بھائی جمیل آفریدی کا کہنا ہے، ’میرے بھائی کو یقین ہے کہ انہیں جلد چھوڑ دیا جائے گا۔ ایک دعا ہے جو حضرت یونسؑ اس وقت مانگا کرتے تھے جب انہیں ایک مچھلی نے نگل لیا تھا۔ ڈاکٹر آفریدی یہی دعا مانگتے ہیں‘۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی پاکستان اور امریکا کے درمیان خراب تر ہوتے ہوئے تعلقات کی بھینٹ چڑھتے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ گزشتہ برس مئی میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ہی سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے، تاہم یہ تعلقات اس وقت مزید خراب ہوگئے جب گزشتہ برس نومبر میں نیٹو افواج کے ایک فضائی حملے میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ افغان سرحد کے قریب پیش آیا تھا۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں اب تک بہتری کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

ڈاکٹر آفریدی کا سی آئی اے کا اثاثہ ہونے سے قیدِ تنہائی تک کا سفر

بدھ, جولائی 04, 2012

بھارتی دلہن کے لیے خصوصی بیت الخلاء کا افتتاح

اتر پردیش کی ایک نئی نویلی دلہن پریانکا بھارتی اس وقت سسرالی گھر چھوڑ کر اپنے میکے چلی گئی، جب اسے یہ پتہ چلا کہ رفع حاجت کے لیے اسے کھلے کھیتوں میں جانا پڑے گا۔

خبر رساں ادارے اے یف پی کے مطابق وِشنو پور کے علاوہ چند ہی دنوں میں یہ ڈرامہ قریبی دیہات میں بھی مشہور ہوگیا۔ دونوں خاندانوں کے بڑوں نے لڑکی کو سسرال واپس جانے کے لیے بہت سمجھایا لیکن لڑکی کا کہنا تھا کہ کھیتوں میں رفع حاجت کے لیے جانا اس کے لیے انتہائی شرمناک بات ہے۔

اس کہانی کے منظر عام پر آنے کے بعد ایک فلاحی تنظیم سُلبھ نے اس بھارتی دلہن کے لیے ایک بیت الخلاء کی تعمیر کا ارادہ کیا اور اب بڑھی ہی دھوم دھام سے اس لیٹرین کا افتتاح کیا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں دلہن نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر دلہن پریانکا بھارتی کا کہنا تھا، ’’میری ضد تھی کہ میں اُس گھر میں نہیں رہ سکتی، جہاں مجھے ڈر لگا رہے کہ لوگ مجھے رفاہ حاجت کے وقت دیکھ سکتے ہیں‘‘۔

پریانکا بھارتی کے اس احتجاج کو بھارت کی بڑی فلاحی تنظیموں میں شمار ہونے والی آرگنائزیشن سُلبھ نے قابل تعریف قرار دیا ہے۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ اس طرح کے احتجاج کو عوامی صحت کو فروغ دینے کے طریقے متعارف کروانے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

بیت الخلاء کے افتتاح کے موقع پر اس تنظیم کی طرف سے دلہن کو دو لاکھ روپے کا انعام بھی دیا گیا ہے۔ فلاحی تنظیم کی انتظامیہ کا کہنا تھا، ’’ہم نے پریانکا اور دیگر دو خواتین کو انعام کے طور پر دو دو لاکھ روپے دیے ہیں۔ یہ واقعی حوصلے کی بات ہے کہ بیت الخلاء نہ ہونے پر سسرال میں رہنے سے انکار کردیا جائے“۔

سلبھ اب تک بھارت کے غریب دیہاتیوں کو 1.2ملین ٹوائلٹ فراہم کرچکی ہے۔ اس تنظیم نے اعتراف کیا کہ پریانکا اور اس کے اہلخانہ کے لیے تعمیر کردہ ٹوائلٹ پر ایک ہزار ڈالر خرچ ہوئے ہیں تاہم تیس ڈالر سے کم رقم میں بھی ایک سادہ ڈیزائن والا ٹوائلٹ تعمیر کیا جاسکتا ہے۔

بھارت کے دیہی ترقی کے وزیر جے رام رمیش نے حال ہی میں کہا تھا، ’’یہ شرم کی بات ہے کہ 60 سے 70 فیصد عورتیں بیت الخلاء نہ ہونے کی وجہ سے کھلی جگہوں پر رفع حاجت کرنے پر مجبور ہیں“۔ انہوں نے مزید فنڈز کی فراہمی اور اس مسئلے سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا۔

دو ہزار گیارہ کی مردم شماری کے مطابق بھارت کے تقریباً 131 ملین خاندانوں کے پاس اپنے احاطے میں لیٹرین کی سہولت نہیں ہے۔ آٹھ ملین کے قریب بھارتی ’پبلک بیت الخلاء‘ استعمال کرتے ہیں جبکہ 123 ملین افراد رفع حاجت کے لیے کھلی جگہوں یا پھر کھیتوں کا استعمال کرتے ہیں۔


بھارتی دلہن کے لیے خصوصی بیت الخلاء کا افتتاح

مالی کے شمالی حصے ٹمبکٹو ميں شدت پسند مسلمانوں نے اولياء کے مزيد پانچ قديم مزارات کو توڑ پھوڑ ديا ہے

انصاردين کے جنگجو
شدت پسند تين ماہ قبل ٹمبکٹو اور مالی کے بقيہ شمالی حصے پر قبضہ کرچکے ہيں۔ وہ ان قديم مزارات کو شرک کی علامت سمجھتے ہيں، جہاں قبر پرستی کی جاتی ہے۔ پچھلے دو دنوں ميں وہ سات قبروں کو تباہ کرچکے ہيں۔

ٹمبکٹو ايک قديم صحرائی گذرگاہ اور علم کا مرکز چلا آرہا ہے۔ اُسے ’333 اولياء کا شہر‘ کہا جاتا ہے۔ مالی کی حکومت اور عالمی برادری نے قديم مزارات کی تباہی پر شديد صدمے کا اظہار کيا ہے۔ بين الاقوامی فوجداری عدالت کی وکيل استغاثہ فاتو بنسودا نے ڈاکار ميں خبر ايجنسی اے ايف پی کو انٹرويو ديتے ہوئے کہا: ’’ان مجرمانہ سرگرميوں ميں ملوث افراد کو ميرا پيغام يہ ہے کہ وہ اب مذہبی عمارات کی توڑ پھوڑ کا سلسلہ روک ديں۔ يہ ايک جنگی جرم ہے اور ميرا دفتر اس کی تحقيقات کرے گا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ مالی بين الاقوامی فوجداری عدالت کے قيام کے منشور پر دستخط کرنے والا ملک ہے جس کی دفعہ نمبر آٹھ کے مطابق حفاظتی اقدامات نہ رکھنے والی سول عمارتوں پر جان بوجھ کر کيے جانے والے حملے ايک جنگی جرم ہیں۔

شدت پسندوں نے ہفتہ کو سدی محمود، سدی مختار اور الفا مويا کی قبريں تباہ کرديں اور اتوار کو انہوں نے چار مزيد مزارات پر حملہ کيا، جن ميں شيخ الکبير کا مزار بھی شامل ہے۔

علاقے کے شہری بے بسی سے يہ سب کچھ ہوتا ديکھتے رہے۔ ايک صحافی نے اپنا نام خفيہ رکھے جانے کی شرط پر بتايا کہ حملہ آور مسلح تھے اور ہم کچھ بھی نہيں کرسکتے تھے ورنہ ہميں يقيناً ہلاک کرديا جاتا۔ اُس نے بتايا کہ چار قبروں کو مکمل طور پر تباہ کرديا گيا اور اُن کے گرد رکھے ہوئے مٹی کے برتنوں اور دوسری چيزوں کو بھی توڑ پھوڑ ديا گيا۔

ٹمبکٹو کی تين قديم مساجد کے اندر بھی اولياء کی قبور ہيں اور شدت پسندوں نے انہيں بھی تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ٹمبکٹو کی تين سب سے بڑی مساجد ميں سے ايک سدی يحيٰی ہے، جو چودھويں صدی ميں تعمير کی گئی تھی۔

انصار دين نامی يہ گروپ دہشت گرد تنظيم القاعدہ سے منسلک گروپوں ميں شامل ہے، جنہوں نے مارچ ميں ہونے والی ايک بغاوت کے نتيجے ميں پيدا شدہ انتشار کے دوران شمالی مالی پر قبضہ کرليا تھا۔

انصار دين کے ترجمان صاندا بوماما نے کہا: ’’خدا واحد ہے۔ جو يہاں کيا جارہا ہے وہ سب حرام ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ وہ مغربی افريقی ممالک کی برادری کے قيام کی کوششوں کے حامی ہيں اور افريقی يونين اور علاقے کے ممالک کی طرف سے اس تنازعے کو پرامن طور پر حل کرنے کی کوششوں کی حمايت کرتے ہيں۔

اُدھر اسلامی تعاون تنظيم نے آج سعودی عرب ميں ايک بيان جاری کيا ہے جس ميں مالی کے باغيوں کے ہاتھوں پندرھويں صدی کی ايک مسجد کی تباہی کی مذمت کی گئی ہے۔ بيان ميں يہ بھی کہا گيا ہے کہ قديم مساجد مالی کے اسلامی ورثے کا حصہ ہيں اور انہيں تباہ کرنے کی اجازت نہيں دی جانی چاہيے۔ تنظيم کے اس بيان ميں تاريخی مقامات کی حفاظت اور اُنہيں برقرار رکھنے کے ليے ضروری اقدامات کا مطالبہ بھی کيا گيا ہے۔

عالمی برادری کو خوف ہے کہ مالی کا وسيع صحرائی علاقہ دہشت گردوں کی ايک نئی پناہ گاہ بن جائے گا۔ شدت پسندوں نے مالی ميں کسی ممکنہ فوجی مداخلت ميں حصہ لينے والے تمام ممالک کو تنبيہہ کی ہے۔

مالی کے شمالی حصے ٹمبکٹو ميں شدت پسند مسلمانوں نے اولياء کے مزيد پانچ قديم مزارات کو توڑ پھوڑ ديا ہے

لندن اولپمکس کے تمغے انتظامی کمیٹی کے حوالے کر دئیے گئے

لندن میں ہونے والے اولپمک اور پیرالمپک کھیلوں کے تمام تمغے انتظامی کمیٹی کے حوالے کر دئیے گئے ہیں۔ سونے، چاندی اور تانبہ کے تمغے گیارہویں صدی میں تعمیر کردہ قلعے میں ٹاور آف لندن میں اولپمکس کے افتتاحی دن یعنی ستائیس جولائی تک محفوظ رکھے جائیں گے۔ اولپمک تمغے برطانوی شاہی ٹکسال میں ڈھالے گئے ہیں۔ تمغوں کی کل تعداد چار ہزار سات سو ہے۔ یہ اولپمک کھیلوں کی تاریخ میں سب سے بڑے تمغے ہیں، ان کا قطر ساڑھے آٹھ سینٹی میٹر ہے، چوڑائی سات ملی میٹر اور وزن چار سو گرام ہے۔ تمغوں کے ایک طرف فتح کی قدیم یونانی دیوی نیکا کی تصویر کندہ ہے۔

سراغرساں آلہ

روسی سائینسدانوں نے ایک ایسا منفرد آلہ بنا لیا ہے جو کسی چیز میں لپیٹے گئے نشہ آور مواد، دھماکے سے پھٹنے والے مواد اور جعلی اشیاء کا سراغ لگا سکتا ہے۔ یہ آلہ برائے فروخت پیش کردیا گیا ہے۔

یہ لیزر آلہ ”سکولکووو“ کے جوہری ٹکنالوجی کے جھرمٹ میں شامل کمپنی ”رام مکس“ کا تیار کردہ ہے۔ ایک ہی وقت میں مختلف انواع کی مشتبہ اشیاء کی شناخت اس طرح ہوگی کہ آلے میں نصب ”کلر سپیکٹر“ یعنی رنگوں کا طیف، چشم زدن میں اس شے کی شناخت کرلے گا۔ چاہے مادہ کیسی شکل میں ہی کیوں نہ ہو مائع، ٹھوس یا پسی ہوئی شکل میں۔ لیکن یہ آلہ دھات کی شناخت میں ممد نہیں ہے۔ مادہ آنکنے کی خاطر بند شے کو کھولنا ضروری نہیں۔ اب مادے سے متعلق حتمی طور پر طے کیے جانے کی خاطر تجزیے کی ضرورت نہیں ہوگی، کمپنی ”رام مکس“ کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر الیکسی ستیبلیو کہتے ہیں، ”ہم نے حقیقتا یہ آلہ اس طرح سے ایجاد نہیں کیا جس طرح دنیا میں ایجاد کے معنی میں لیا جاتا ہے لیکن ہم نے اس میں کچھ منفرد اختراعات ضرور کی ہیں۔ ہم نے اس کی درستگی اس طرح کے بنائے جانے والے دوسرے آلوں کی نسبت بہت بڑھا دی ہے۔ ہم نے اس میں کچھ سود مند اضافے کیے ہیں جیسے لیزر کی کیلیبریشن اور ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ اس میں یہ انتظام بھی کیا گیا ہے کہ یہ رنگوں کے عام طیف کے ساتھ ساتھ دمکنے والے طیف کا تعین بھی کرتا ہے۔ ایسا دنیا کا کوئی اور آلہ نہیں کر پاتا“۔


روس کا بنا یہ آلہ دنیا میں بنائے جانے والے اس قسم کے آلوں کی نسبت قیمت اور حجم میں بھی ممتاز ہے، اس آلے کو بہتر بنا کر پیش کرنے والوں میں سے ایک شخص ایگر کوکوشکن بتاتے ہیں: ”یہ دس ضرب پانچ سنٹی میٹر کا ایک سیاہ مستطیل ڈبہ ہے جسے لیپ ٹاپ، آئی پیڈ یا سمارٹ فون کے ساتھ منسلک کیا جاسکتا ہے۔ بغیر مانیٹر کے اس کا وزن 900 گرام ہے، اس لیے اسے آسانی سے ایک ہاتھ میں تھاما جا سکتا ہے۔ یہ آلہ ایک بٹن دبانے سے کام کرنے لگتا ہے البتہ ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو لیزر کی شعاع کو متعلقہ چیز پر مرکوز کردے، چاہے وہ ہیرا ہو، سیب، دوائی، پانی یا کچھ اور ہو۔ جب متعلقہ شے پر لیزر کی شعاع پڑنے لگے تو انٹر کا بٹن دبا دیا جاتا ہے اور سکرین پر لکھا نمودار ہوجاتا ہے کہ بند شے کی نوعیت کیا ہے اور اس کیمیائی اور ساختیاتی فارمولا کیا ہے۔

استعمال کرنے والا پانچ منٹ میں ہی اسے استعمال کرنا سیکھ سکتا ہے۔ اگر لیزر بیم والا حصہ جل جائے یا خراب ہوجائے تو اسے بدلنے کی خاطر کسی ماہر شخص کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ ہائی ٹیک ہونے کے باوجود یہ آلہ استعمال کیے جانے میں بے حد سادہ ہے، الیکسی ستیبلیوو قائل کن انداز میں کہتے ہیں، ”مثال کے طور پر کسٹمز والوں کو اکثر ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس چیز کے بارے میں جان سکیں جو کوئی شخص لے کر جارہا ہے یا آرہا ہے اور اس کا تطابق بیان کردہ قانون سے کریں۔ ہمارے بنائے گئے آلے کے طفیل کسٹمز والوں کے لیے بہت زیادہ سہولت پیدا ہوجائے گی، انہیں کیمیائی تجزیے اور معلومات کے جھنجھٹ سے نجات مل جائے گی۔ وہ ایک بٹن دبانے سے ہی معلوم کرلیں گے کہ کسی شے میں بند چیز کیا ہے، چینی بورا ہے، کوکین ہے یا کسی قسم کا پھٹنے والا مادہ۔ اس مادے کو تجزیے کی خاطر کہیں نہیں بھجوانا پڑے گا بلکہ اسی مقام پر ہی تعین ہو جایا کرے گا۔ جیسے کہ کوئی شخص کچھ چمکدار پتھر لے کر جا رہا ہے اور کہتا ہے کہ یہ نگینے ہیں لیکن کسٹمز والے اس آلے کے ذریعے ایک سیکنڈ میں معلوم کرلیں گے کہ جنہیں نگینے کہا جارہا ہے وہ اصل میں ہیرے ہیں، چاہے انہوں نے نہ کبھی ہیرے دیکھے ہوں اور نہ ہروں کے بارے میں کچھ جانتے ہوں۔

روس کا یہ آلہ بازار میں بیچی جانے والی نقلی دواؤں کے بارے میں بھی معلوم کرسکتا ہے۔ بس اس کو آنکنے کی خاطر اس آلے کا استعمال کرنا ہوگا۔

اس آلے میں روس اور باہر کے لوگوں نے پہلے ہی دلچسپی لینا شروع کردی ہے اس لیے کمپنی نے طے کیا ہے کہ پانچ سال کے عرصے میں وہ وسیع تعداد میں یہ آلہ بنائیں گے۔


سراغرساں آلہ

روس میں الارم کلاک پروجیکٹ

روس میں ایک دلچسپ پروجیکٹ شروع کیا گیا ہے جس میں دنیا کے کسی بھی ملک میں رہنے والے لوگ حصہ لے سکتے ہیں بشرطیکہ وہ روسی زبان بولنا جانتے ہوں۔

غیرممالک میں اس پروجیکٹ کا کوئی ہم پلہ دوسرا پروجیکٹ نہیں ہے۔ اس کا مقصد ٹیلی فون کے ذریعے لوگوں کو جگانا ہے۔ تمام خواہش مند پروجیٹک کی ویب سائٹ پر درخواست جمع کرا سکتے ہیں کہ انہیں صبح جگایا جائے۔ اپنا نام، جنس، ٹیلی فون نمبر، ایم میل ایڈریس کے بارے میں معلومات فراہم کرکے وقت متعین کردیں جب آپ کو جگانا ہوگا۔ جو لوگ دوسروں کو جگانے میں حصہ لینا چاہیں انہیں سائٹ پر اپنے بارے میں ذاتی معلومات درج کرنے اور وقت بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ فون کب کرسکتے ہیں۔ متعینہ وقت پر خودکار مشین جگانے والے شخص سے رابطہ قائم کرکے اسے جگائے جانے والے کے ساتھ منسلک کردیتی ہے۔ یوں جگانے والا دوسرے کو جگانے کے بارے میں اپنا مشن نہیں بھولے گا۔ مزید برآں کسی کو دوسروں کے فون نمبر نہیں دئے جاتے۔ اگر متعینہ وقت پر آپ کو کوئی جگانا نہ چاہے تو روبوٹ آپ کو فون کرکے جگا دے گا۔

پروجیکٹ کے منتظم گراچِک آجامیان کو اس طرح کی سروس شروع کرنے کا خیال سات سال پہلے آیا تھا جب وہ پڑھتے اور کام کرتے تھے۔ انہیں سونے کے لیے زیادہ وقت نہیں ملتا تھا لیکن انہیں بیدار کرنے میں کوئی بھی الارم کلاک مددگار ثابت نہیں ہوا تھا۔ لیکن جب کسی نامعلوم شخص انہیں فون کرتا تو وہ ضرور جاگ جاتے تھے کیونکہ یہ امکانی گاہک ہوسکتا تھا۔

پروجیکٹ کے منتظم کا خیال ہے کہ فون کی سکرین پر کوئی نامعلوم نمبر دیکھ کر آپ فون کرنے والے پر مثبت اثر ڈالنے کی نادانستہ کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے آپ نیند سے جلد از جلد بیدار ہونے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ نامعلوم شخص کے ساتھ بات چیت کے بعد آپ دوبارہ نہیں سو پائیں گے۔

کسی کو جگانے کے لیے مختلف طریقے سے کام لیا جاتا ہے۔ کوئی شاعری پڑھ کر سناتا ہے تو کوئی گیت گاتا ہے۔

ماہ جون کے شروع میں اس پروجیکٹ کا دورانیہ بڑھا دیا گیا اور زیادہ لوگ شامل ہوگئے۔ اب دنیا بھر میں رہنے والے لوگ اس سروس سے استفادہ کرسکتے ہیں بشرطیکہ انہیں روسی زبان پر عبور ہو۔ تاہم اندازہ ہے کہ آئندہ چند مہینوں میں انگریزی زبان میں بھی اسی قسم کا پروجیکٹ شروع کیا جائے گا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ پروجیکٹ شروع کرنے کے لیے منتظمین کو مقبول ترین روسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ”و کونتاکتے“ (یعنی ”ان کونکیٹک“) کی طرف سے رقم ملی تھی۔ اس سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کی مالی امداد سے شروع کئے جانے والے سماجی پروجیٹکوں کی تعداد چھہ ہے جن میں سے ایک کا مقصد ایک ایسی سائٹ کھولنا ہے جس کے ذریعے لوگ مختلف اشتہارات اور درخواستیں شائع کروا سکیں۔ مزید برآں ایک نئی سائٹ شروع کی جائے گی جس پر مختلف علوم پر مبنی لیکچرز کی ویڈیو ریکارڈنگ نشر کی جائے گی۔

روس میں الارم کلاک پروجیکٹ

شام کے صدر بشارالاسد ایک شرط پر فوری طور پر اقتدار منتقل کیے جانے کی خاطر تیار

شام کے صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ اگر انہیں پورا یقین ہو کہ شام کا بحران حل ہو جائے گا تو وہ اقتدار فوری طور پر منتقل کر دینے کی خاطر تیار ہیں۔ یہ بات انہوں نے ترکی کے اخبار "جمہوریت" کو دیے گئے انٹرویو میں کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ واشنگٹن کے اس مطالبے پر کان نہیں دھرتے کہ انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے کیونکہ امریکہ شام کا دشمن ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ خود غرضانہ مقاصد کی خاطر صدر نہیں بنے بلکہ وہ اپنے ملک کی خدمت کی خاطر صدر بنے ہیں۔ ہفتے کو جینیوا میں ہونے والی کانفرنس کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ان نتائج سے مطمئن ہیں کیونکہ اس کے اعلامیے میں یہ لکھا ہوا ہے کہ شام کے مستقبل کے بارے میں شام کے عوام کو ہی طے کرنا ہے۔

ومبلڈن کوارٹر فائنل: مرے کا مقابلہ فیرر سے

برطانوی کھلاڑی اینڈی مرے نے عالمی نمبر پانچ کھلاڑی ڈیوڈ فیرر کے ساتھ ہونے والے کوارٹر فائنل سے قبل کہا ہے کہ ومبلڈن فائنل ابھی بہت دور ہے۔

رافیل ندال کی شکست کے بعد عالمی نمبر چار کھلاڑی اینڈی مرے کا ومبلڈن جیتنے کی امید بڑھ گئی ہے۔ اگر وہ ومبلڈن جیت جاتے ہیں تو وہ اپنا پہلا گرینڈ سلیم حاصل کریں گے۔

اینڈی مرے نے کہا ’ومبلڈن فائنل میں ابھی دیر ہے اور وہ اس کے بارے میں نہیں سوچ رہے۔ فیرر بہت عمدہ کھیل پیش کررہے ہیں اور مجھے بہت اچھا کھیلنا ہوگا۔‘

اینڈی مرے نے سپین کے فیرر کے خلاف دس میچوں میں پانچ جیتے ہیں لیکن آخری دو میچوں میں مرے کو فیرر کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا بشمول فرنچ اوپن کے کوارٹر فائنل کے۔

فیرر نے اینڈی کو کلے کورٹ پر شکست دی ہوئی ہے اور یہ دونوں کھلاڑیوں کا گھاس کے کورٹ پر پہلا مقابلہ ہوگا۔

اینڈی مرے نے کہا ’میرے لیے فیرر کلے کورٹ پر کھیلنے کا ماہر نہیں ہے۔ وہ گھاس کے کورٹ پر لگاتار نو میچ جیت چکا ہے۔ وہ آسٹریلین اوپن، یو ایس اوپن اور فرنچ اوپن کے سیمی فائنل میں پہنچے اور اب وہ گھاس پر بہتر کھیلنے لگ گئے ہیں۔‘

مرے سے جب پوچھا گیا کہ کیا فرنچ اوپن میں فیرر کے ہاتھوں شکست کا آج کے میچ پر اثر ہوگا تو انہوں نے کہا ’ہم دیکھیں گے کہ اثر ہوتا ہے یا نہیں۔‘

’ٹینس میں کارکردگی ہر ہفتے تبدیل ہوتی ہے۔ ایک ہفتے اچھا کھیلنے والے اگلے ہفتے اچھا نہیں کھیلتے۔ پھچلے سال نووک نے ندال کو کبھی شکست نہیں دی تھی لیکن پھر وہ ندال کو ہرانے لگ گیا۔‘


ومبلڈن کوارٹر فائنل: مرے کا مقابلہ فیرر سے

ومبلڈن کا شاہین دوبارہ مل گیا

لندن میں ومبلڈن گرینڈ سلام ٹینس مقابلوں کے دوران کبوتروں کو میدان سے دور رکھنے میں مدد دینے والا شاہین چوری ہونے کے تین دن بعد مل گیا ہے۔

جمعرات کو روفس نامی اس شاہین کو جنوب مشرقی لندن میں اس کے سفری ڈبے سے چوری کیا گیا تھا۔

اس باز کے مالک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ’روفس کی صحت ٹھیک اور خیریت سے ہے۔ ہمیں اس کے ملنے پر بے انتہا خوشی ہے۔‘

جمعرات کی رات کو روفس چوری ہوا تھا اور جمعہ کی صبح لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے روفس کے سفری ڈبے کے بارے میں اطلاع دی۔

اس سفری ڈبے کو تیار کرنے والے مارٹن انڈروڈ کے مطابق ایک شخص نے انہیں فون کر کے کہا کہ’مجھے ایک ایسی چیز ملی ہے جس کا تعلق آپ سے ہے۔‘

مارٹن انڈروڈ کے مطابق اس وقت تک انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ روفس چوری ہو چکا ہے تاہم اطلاع دینے والا شخص پولیس ملازم یا اس کا تعلق خیراتی ادارے’آر ایس پی سی اے‘ سے تھا۔

لندن پولیس کی ایک ترجمان کے مطابق روفس کو خیراتی ادارے کے جانوروں کے ہسپتال میں حوالے کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق’روفس کی ٹانگ پر معمولی زخم ہے اور اسے دوبارہ کام پر جانے سے پہلے چند روز آرام کرنے کی ضرورت ہوگی۔‘

چار سالہ روفس کو ومبلڈن کے مرکزی سٹیڈیم میں صبح کے وقت تماشائیوں کے آنے سے پہلے کبوتروں کو ڈرانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔


ومبلڈن کا شاہین دوبارہ مل گیا

ماریہ شراپووا کی ومبلڈن میں شکست

پیر کے روز عالمی نمبر ایک روس کی ماریہ شراپووا جرمن کھلاڑی سابین لیسکی سے چھ چار اور چھ تین سے شکست کے بعد ومبلڈن ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی ہیں۔

شراپووا نے ایک ماہ قبل ہی کریئر گرینڈ سلیم مکمل کیا تھا۔

خواتین کھلاڑیوں کی درجہ بندی میں پندرہویں نمبر کی لیسکی نے دو ہزار چار کی ومبلڈن چیمیئن کو پہلی بار مات دی ہے۔ اس سے قبل ان کے بیچ تین میچ ہوچکے ہیں جن میں سے ایک گزشتہ سال کا ومبلڈن سیمی فائنل بھی تھا۔

دوسری جانب چار مرتبہ ومبلڈن کی فاتح سرینا ویلیمز اور دفاعی چیمپیئن پترا کوتووا بھی فتح کے ساتھ ٹورنامنٹ کے اگلے مرحلے میں پہنچ گئی ہیں۔

چار مرتبہ گرینڈ سلیم چیمپیئن کم کیلیئسٹرز جرمنی کی ایجلیق کربر سے چھ ایک، چھ ایک سے ہار گئیں۔ کیلیئسٹرز کا کہنا ہے کہ یہ ان کا آخری ومبلڈن ٹورنامنٹ تھا۔

ادھر مردوں کے مقابلوں میں چھ دفعہ ومبلڈن کے فاتح راجر فیڈرر سات چھ، چھ ایک، چار چھ اور چھ تین سے زیویئر مائلیس کو ہرانے میں کامیاب ہوگئے۔

شراپووا سے پہلے اس سال ومبلڈن کا پہلا غیرمتوقع نتیجہ رافائیل نڈال کی گزشتہ ہفتے چیک ریپبلک کے لوکس روسول سے مات تھی۔


ماریہ شراپووا کی ومبلڈن میں شکست

کولمبو ٹیسٹ: سری لنکا 278 پر پانچ آؤٹ

سری لنکا اور پاکستان کے مابین جاری دوسرے ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز سری لنکا نے اپنی پہلی اننگز میں 278 رنز سکور کیے تھے اور اس پانچ کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔

چوتھے روز کے کھیل میں سری لنکا نے 72 رنز پر ایک وکٹ کے نقصان پر اپنی اننگز دوبارہ شروع کی۔

چوتھے روز کھیل بارش کے باعث میدان گیلا ہونے کی وجہ سے تاخیر سے شروع ہوا۔ سری لنکا کی جانب سے دلشان اور پراناویتانا نے اننگز کا آغاز کیا۔

کلِک میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

دلشان اور سنگاکارا نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 164 رنز کا اضافہ کیا۔ سری لنکا کی دوسری وکٹ 236 کے مجموعی سکور پر گری جب دلشان ایک سو اکیس رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ان کو جنید نے آؤٹ کیا۔

سری لنکا کو اس کے بعد یکے بعد دیگرے نقصان ہوا جب جے وردھنے اور سماراویرا صفر پر آؤٹ ہوئے جبکہ رندیو پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

پاکستان کی جانب سے جنید نے تین اور سعید اجمل اور رحمان نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

سری لنکا کے شہر کولمبو میں کھیلے جانے اس ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن پاکستان نے اپنی پہلی اننگز پانچ سو اکیاون رنز پر ڈکلیئر کردی تھی۔

پیر کو پاکستان نے چھ وکٹوں کے نقصان پر پانچ سو اکیاون رنز پر اننگز ڈکلیئر کی تو اس وقت کپتان مصباح الحق چھیاسٹھ اور عبدالرحمان اٹھارہ رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔

اس سے پہلے اتوار کو میچ کے دوسرے دن کے اختتام پر پاکستان نے پہلی اننگز میں چار وکٹوں کے نقصان پر چار سو اٹھاسی رنز بنائے تھے۔

دوسرے دن کا کھیل بارش کی وجہ سے جلد ختم کردیا گیا تھا اور جب کھیل روکا گیا تو کپتان مصباح الحق انتیس اور اسد شفیق ایک رن بنا کر کریز پر موجود تھے۔

پیر کو میچ کے آغاز پر اسد شفیق دو رنز بنا کر دلشان کے ہاتھوں رن آؤٹ ہو گئے۔

اس کے بعد چھٹی وکٹ وکٹ کیپر عدنان اکمل کی گری جو صرف پانچ رنز بنا کر ہیراتھ کی گیند پر دلشان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔

میچ کے دوسرے روز محمد حفیظ چار رنز کی کمی سے اپنی ڈبل سنچری مکمل نہ کر سکے اور ہیراتھ کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔

اظہر علی ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی تیسری سنچری مکمل کرنے میں کامیاب رہے اور ایک سو ستاون رنز بنانے کے بعد سورج راندیو کی گیند پر کیچ ہوگئے۔

یونس خان نے بتیس رنز اور توفیق عمر نے 65 رنز بنائے۔

سنیچر کو شروع ہونے والے ٹیسٹ میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی تھی۔

تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز میں سری لنکا کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

گال میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں سری لنکا نے پاکستان کو دو سو نو رنز سے شکست دے دی تھی۔

اس سے پہلے پاکستان اس دورے پر سری لنکا سے ایک روزہ میچوں کی سیریز تین ایک سے ہار چکا ہے۔


کولمبو ٹیسٹ: سری لنکا 278 پر پانچ آؤٹ