بدھ, جولائی 11, 2012

کوئل ۔۔ دس ہزار میل پرواز کرنے والا پرندہ

اگر آپ صبح سویرے سیر پر جاتے ہیں تو آپ نے درختوں کے قریب سے گذرتے ہوئے ایک پرندے کی خوبصورت اور سریلی آواز ضرور سنی ہوگی۔ دل کو چھو لینے والی یہ آواز ایک لمحے کے لیے رک پلٹ کر دیکھنے پر مجبور کردیتی ہے۔ یہ خوبصورت آوازایک چھوٹے سے پرندے کوئل کی ہے۔

کوئل اور ہر گھنٹے کے بعد کوئل جیسی آواز نکالنے والے کلاک اب ماضی کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔ زیادہ دور پرے کی بات نہیں ہے کہ باغوں اور پارکوں میں کوئل کی سریلی اور خوبصورت آواز اکثر سنائی دیتی تھی اور بہت سے گھروں کی دیواروں پر ایسے کلاک نظر آتے تھے جن میں ہر گھنٹے کے بعد ایک چھوٹی سی کھڑکی کھلتی تھی اور ایک ننھی سی کوئل اپنی چونچ باہر نکال کر وقت کا اعلان کرتی تھی۔

کوکو کلاک موبائل فونز اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے دیگر گھریلو آلات کی بھینٹ چڑھ چکا ہے، جب کہ آب و ہوا کی تبدیلیاں ہمارے باغوں اور پارکوں کوکوئل کے سریلے نغموں سے محروم کررہی ہیں۔ جنوبی ایشیا میں کوئل کی آبادی میں کتنی کمی واقع ہوئی ہے؟ اس بارے میں مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں لیکن برطانیہ میں ایک حالیہ مطالعے سے پتا چلا ہے کہ 1995ء کے مقابلے میں 2010ء میں اس خوش الحان پرندے کی تعداد آدھی ہوچکی تھی۔

کم ہی لوگوں کو یہ علم ہے کہ کوئل ایک خانہ بدوش پرندہ ہے اور وہ خوراک کی تلاش اور موسموں کی سختیوں سے بچنے کی خاطر ہر سال ہزاروں میل کا سفر کرتا ہے۔ یورپ میں یہ ننھا پرندہ افریقہ سے طویل سفر کے بعد وہاں آتا ہے اور سردیاں شروع ہوتے ہی واپسی کی پرواز شروع کردیتا ہے۔ آپ کو یہ جان کر یقیناً حیرت ہوگی کہ یہ ننھی سی جان ہرسال دس ہزار میل سے زیادہ پرواز کرتی ہے۔ اوراس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ شمالی امریکہ کے سفر کے لیے یہ پرندہ چار ہزار میل کی ایک مسلسل اڑان میں بحیرہ کریبیئن عبور کرتا ہے۔

کوئل یا کوکو کی کئی اقسام ہیں جن کا وزن 15 گرام سے سوا پونڈ تک ہوتا ہے۔ مختلف اقسام کے پروں کی رنگت بھی مختلف ہوتی ہے اور کوئل کی نقل مکانی پر نظر رکھنے والے یورپی تحقیقی ادارے بی ٹو او کے مطابق کچھ اقسام نقل مکانی نہیں کرتیں اور کسی خاص علاقے میں مستقل طور پر رہتی ہیں۔

برطانوی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے، جو گذشتہ ایک سال سے کوئل پر تحقیق کررہی ہے، افریقہ سے برطانیہ پہنچنے والی کوئل کی پرواز کے راستوں کی مستند معلومات اکھٹی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس تحقیق کے لیے پہلی بار جی پی ایس سے مدد لی گئی ہے اور سیٹلائٹ کے ذریعے ان کی پرواز پر نظر رکھ کر ڈیٹا مرتب کیا گیا ہے۔

ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر فل اٹکن سن کا کہنا ہے کہ اپنی تحقیق کے لیے انہوں نے پچھلے سال مئی میں نورفوک کے علاقے سے پانچ نر کوئل پکڑے، اور پھر ایک خصوصی چھوٹے جی پی ایس کو ان کے بازوں کے ساتھ باندھنے کے بعد آزاد کردیا گیا۔ جس کے بعد ان کی پرواز کاریکارڈ مرتب کیا گیا۔

ڈاکٹر اٹکن سن کا کہنا ہے کہ ان پانچ میں سے دو پرندوں نے جن کے نام لاسٹر اور کرس رکھے گئے تھے، خزاں کا موسم شروع ہوتے ہی اپنی واپسی کی پرواز شروع کی اور وہ مختلف راستوں سےاٹلی اور سپین سے گذرتے، بحیرہ روم کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے افریقہ کے صحرائے اعظم میں داخل ہوئے اور سردیوں کے آغاز پر ایک برساتی جنگل میں پہنچ گئے۔ پھر جب موسم بدلنا شروع ہوا تو انہوں نے واپسی کے سفر کا آغاز کیا اور مختلف راستوں سے گذرتے اپریل کے آخر میں برطانیہ میں فورنوک کے اسی علاقے میں پہنچ گئے جہاں سے ایک سال قبل انہیں پکڑا گیا تھا۔

پرندوں پر ایک اور حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 1995ء سے یورپ میں کوئل سمیت پرندوں کی دوسری کئی اقسام کی تعداد مسلسل گھٹ رہی ہے۔ ان میں قمری، فاختہ، بلبل اور ممولے بھی شامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں ہر سال کوئل کے دس ہزار سے بیس ہزار جوڑے گرمیاں گذارنے آتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مادہ کوئل اپنے واپسی کے سفر پر روانگی سے قبل عموماً کوئے کے گھونسلے میں انڈے دیتی ہے۔ اور کوئے کو اس وقت پتا چلتا ہے کہ وہ کوئل کے انڈے سہتا اور اس کے بچے پالتا رہا ہے، جب وہ بولنا شروع کرتے ہیں۔ وہ انہیں گھونسلے سے باہر پھینک دتیا ہے۔ مگر تب تک وہ اڑنے کے قابل ہوچکے ہیں اور پھر گھونسلے سے بے دخل ہونے کے چند ہی ہفتوں کے بعد وہ افریقہ کے لیے اپنی پرواز شروع کردیتے ہیں۔

کوئل کی اقسام اپنے انڈے خود سہتی ہیں اور اپنے بچوں کی پرورش بھی خود کرتی ہیں۔

نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کوئل پرواز کے لیے مختلف راستے اختیار کرتا ہے۔ بالغ پرندے اپنا سفر پہلے شروع کرتے ہیں اور عموماً مارچ کے آخر یا اپریل کے شروع میں برطانیہ پہنچ جاتے ہیں اور پھر جولائی اگست میں ان کی واپسی شروع ہوجاتی ہے۔ جب کہ ان کے بچوں کی پرواز تقریباً ایک ماہ بعد شروع ہوتی ہے۔

صحرائے اعظم عبور کرنے سے پہلے یہ پرندے کچھ عرصہ مغربی افریقہ میں رکتے ہیں اور اپنے قیام کے دوران معمول سے زیادہ خوراک کھاتے ہیں جس سے ان کے وزن اور جسم میں توانائی کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ اپنی اسی توانائی کے بل پر وہ صحرا ئے اعظم عبور کرتے ہیں۔

ڈاکٹر فل اٹکن سن کا کہنا ہے کہ ہمیں پتا چلا ہے کہ غیرمعمولی موسمی تبدیلیاں ان کی ہلاکت کا سبب بن رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیق میں شامل پہلا کوئل افریقی ملک کیمرون سے گذرتے ہوئے سخت موسم کے باعث ہلاک ہوگیا تھا۔

ماہرین کے مطابق کوئل کا اصل وطن افریقہ ہے اور وہ خوراک کی تلاش میں یورپ کا رخ کرتا ہے۔

ڈاکٹر اٹکن سن نے ٹیلی گراف کے ساتھ اپنے انٹرویو میں موسمیاتی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان تبدیلوں کے باعث اس سال فروری کے آخر میں ہی کوئل کی آمد کاسلسلہ شروع ہوگیا تھا، جب کہ ان کی آمد عموماً اپریل اور مئی میں ہوتی ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نر اور مادہ کوئل کی عادات کافی مختلف ہیں۔ برطانیہ میں نر پرندوں کی آمد پہلے شروع ہوتی ہے اور وہ گرمیاں گذارنے کے لیے ایسی جگہوں کا انتخاب کرتے ہیں جہاں انہیں اپنے لیے اچھے جیون ساتھی ملنے کی توقع ہوتی ہے۔ جب کہ مادہ پرندے کئی ہفتوں کے بعد وہاں پہنچنے ہیں اوران کی پرواز کے راستے بھی مختلف ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر اٹکن سن کی ٹیم مادہ کوئل کی پرواز کے راستوں کا نقشہ بنانے کے لیے اس سال ان پر تحقیق کررہی ہے۔

اب کیا کسی کو چاہیں کہ ہم کو تو ان دنوں

وہ سلسلے وہ شوق وہ نسبت نہیں رہی
اب زندگی میں ہجر کی وحشت نہیں رہی

پھر یوں ہوا کہ کوئی اپنا نہیں رہا
پھر یوں ہوا کہ درد میں شدت نہیں رہی

ٹوٹا ہے جب سے اس کی مسیحائی کا طلسم
دل کو کسی مسیحائی کی حاجت نہیں رہی

پھر یوں ہوا کہ ہوگیا مصروف وہ بہت
اور ہم کو یاد کرنے کی فرصت نہیں رہی

اب کیا کسی کو چاہیں کہ ہم کو تو ان دنوں
خود اپنے آپ سے بھی محبت نہیں رہی

یہ ہے تھائی لینڈ کی وزیراعظم

بنکاک، یہ کسی سٹیج ڈرامے کا منظر نہیں بلکہ عقیدت و احترام کا اظہار ہے، تھائی لینڈ کے بادشاہ بھومی بول آدلیا دیج کی 84ویں سال گرہ کے موقع پر منعقد ہونے والی تقریب میں تھائی وزیراعظم ینک لک شنواترا، شہزادی مہا چکری اندھورن کے قدموں میں بیٹھ کر باتیں کررہی ہیں۔ (رائٹرز)

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے 
میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے 

تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ ہمیں 
تمہیں بھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے 

ہمارے پیار سے جلنے لگی ہے اک دنیا 
دعا کرو کسی دشمن کی بددعا نہ لگے 

نہ جانے کیا ہے اس کی بیباک آنکھوں میں 
وہ منہ چھپا کے جائے بھی تو بےوفا نہ لگے 

جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبو 
کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتا نہ لگے 

ہو جس ادا سے میرے ساتھ بےوفائی کر کہ 
تیرے بعد مجھے کوئی بےوفا نہ لگے 

وہ پھول جو میرے دامن سے ہوگیا منسوب 
خدا کرے انہیں بازار کی ہوا نہ لگے 

تم آنکھ موند کے پی جاؤ زندگی قیصر 
کہ ایک گھونٹ میں شاید یہ بدمزا نہ لگے

ہمیں یقین ہے امجد نہیں وہ وعدہ خلاف

کوئی بھی لمحہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا
وہ شخص ایسا گیا پھر نظر نہیں آیا

وفا کے دشت میں رستہ نہیں ملا کوئی
سوائے گرد سفر ہم سفر نہیں آیا

پَلٹ کے آنے لگے شام کے پرندے بھی
ہمارا صُبح کا بُھولا مگر نہیں آیا

کِسی چراغ نے پُوچھی نہیں خبر میری
کوئی بھی پُھول مِرے نام پر نہیں آیا

چلو کہ کوچہ قاتل سے ہم ہی ہو آئیں
کہ نخلِ دار پہ کب سے ثمر نہیں آیا

خُدا کے خوف سے دل لرزتے رہتے ہیں
اُنھیں کبھی بھی زمانے سے ڈر نہیں آیا

کدھر کو جاتے ہیں رستے، یہ راز کیسے کُھلے
جہاں میں کوئی بھی بارِ دگر نہیں آیا

یہ کیسی بات کہی شام کے ستارے نے
کہ چَین دل کو مِرے رات بھر نہیں آیا

ہمیں یقین ہے امجد نہیں وہ وعدہ خلاف
پر عُمر کیسے کٹے گی، اگر نہیں آیا

مجھ میں کچھ تم رہ جاؤ

جاؤ چاند سے مٹی لاؤ

اس کے دو بت بناؤ

اک بُت اپنا، اک بُت میرا

پھر ان کو توڑ ڈالو

پھر شروع سے مٹی گوندھو

اس کے دو بُت بناؤ

اک بُت اپنا، اک بُت میرا

تجھ میں کچھ میں رہ جاؤں

مجھ میں کچھ تم رہ جاؤ

ہم سا جو شکستہ قلب ملا، اُسے دل سے لگا کر چُوم لیا

تعبیر ہو جس کی اچھی سی، کوئی ایسا خواب نہیں دیکھا
کوئی ٹہنی سبز نہیں پائی، کوئی شوخ گلاب نہیں دیکھا

ایسا ہے کہ تنہا پھرنے کا کچھ اتنا زیادہ شوق نہیں
تیرے بعد سو ان آنکھوں نے کبھی جشن ِ مہتاب نہیں دیکھا

ہم ہجر زدہ سودائی تھے، جلتے رہے اپنے شعلوں میں
اچھا ہے کہ توُ محفوظ رہا، تُو نے یہ عذاب نہیں دیکھا

بس اتنا ہوا ہم تشنہ دہن لوٹ آئے بھرے دریاؤں سے
کوئی اور فریب نہیں کھایا، کوئی اور سراب نہیں دیکھا

ہم سا جو شکستہ قلب ملا، اُسے دل سے لگا کر چُوم لیا
اس سے بہتر اس سے بڑھ کر کوئی کارِ ثواب نہیں دیکھا

ایسے کیوں ہوتا ہے؟؟؟

1۔ غلط فون نمبر مل جائے تو لائن مصروف کیوں نہیں ہوتی؟

2۔ کام کرتے ہوئے کوئی اوزار یا سکریو گر جائے تو وہ دور دراز کونے میں ہی کیوں گرتا ہے؟

3۔ سڑک پر گاڑیاں رکی ہوئی ہوں اور لین تبدیل کرنے پر پہلے والی لین کی گاڑیاں کیوں تیز حرکت کرنا شروع کردیتی ہیں؟

4۔ فارغ وقت میں ساتھ دینے کے لئے کوئی بھی دوست میسر کیوں نہیں ہوتا؟

5۔ آپ کسی ایسے شخص کے ساتھ جارہے ہیں جس کے ساتھ خود کو دیکھا جانا پسند نہ کرتے ہوں تو ایسے میں کسی جاننے والے سے ملاقات کا خدشہ کیوں زیادہ ہوتا ہے؟

پنکی پرمانک کو ضمانت مل گئی

بھارت کی خاتون ایتھلیٹ پنکی پرمانک کو، جنہیں عصمت دری اور مرد ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، منگل کو ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے۔

سنہ دو ہزار چھ کے ایشیائی کھیلوں میں طلائی تمغہ حاصل کرنے والی بھارتی ایتھلیٹ پنکی پرمانک کو عصمت دری کے الزام میں گزشتہ ماہ ریاست مغربی بنگال سے رفتار کیا گیا تھا۔

بھارتی ایتھلیٹ پنکی پرمانک پر ایک خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ خاتون نہیں بلکہ مرد ہیں اور انہوں نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے۔ لیکن پرمانک ان تمام الزامات سے انکار کرتی ہیں۔

پنکی کے وکیل توہین رائے نے بتایا ’ڈسٹرک جج نے پنکی کو ضمانت پر رہا کردیا ہے۔ ہمیں اس کے لیے پچاس ہزار روپے بطور مچلکہ کے جمع کرانے ہوں گے۔ ابھی کاغذی کارروائی باقی ہے اس لیے آج جیل سے پنکی باہر نہیں آسکیں گی لیکن کل وہ باہر آجائیں گی۔‘

ضمانت سے قبل کولکتہ میں خواتین کے قومی کمیشن کے نمائندو نے پنکی پرمانک سے جیل میں ملاقات کی تھی۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بعض تنظیمیں پنکی کے لیے مہم چلاتی رہی ہیں اور مرد پولیس افسروں کے لانے لے جانے کے خلاف وہ احتجاج کرتی رہی ہیں۔

خواتین کے کمیشن کی سربراہ سنندا مکھرجی کا کہنا تھا کہ ’پولیس اور جیل حکام نے ان کے حقوق کی پامالی کی ہے۔ انہوں نے پنکی کو مرد کے طور پر درج کر رکھا ہے۔ انہیں پولیس نے کئی بار ہراساں بھی کیا ہے۔ پولیس یہ فیصلہ کیسے کرسکتی ہے کہ وہ مرد ہیں جبکہ ابھی جانچ کی رپورٹ آئی بھی نہیں ہے۔‘

پنکی پرمانک نے دو ہزار چھ کے ایشیائی کھیلوں میں 400 میٹر ریلے ریس میں طلائی تمغہ حاصل کیا تھا وہیں دو ہزار چھ کے میلبرن میں ہوئے کامن ویلتھ کھیلوں میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔

پنکی تین برس پہلے ایتھلیٹکس کی دنیا کو الوداع کہہ چکی ہیں۔

بھارتی ایتھلیٹکس فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اگر پنکی پر عائد الزامات صحیح ثابت ہوجاتے ہیں تو ان سے سارے اعزازات واپس لے لیے جائیں گے۔

پنکی پرمانک کو ضمانت مل گئی

حُسن اسلام

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا؛

”انسان کا بے فائدہ باتوں کو چھوڑ دینا اس کے حُسن اسلام کی (یعنی اچھے مسلمان ہونے کی دلیل) میں سے ہے“۔ 
(اسے ترمذی نے روایت کیا ہے)

ہفتہ, جولائی 07, 2012

راولپنڈی‘ اسلام آباد میں بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا

اسلام آباد (اپنے نامہ نگارسے) راولپنڈی اسلام آباد میں رات گئے بارش ہوئی جس سے موسم خوشگوار ہوگیا، تاہم ملک کے بیشتر علاقوں میں جمعہ کے روز موسم گرم اور خشک رہا۔ ژوب‘ کراچی ڈویژن اور کشمیر میں چند ایک مقامات پر تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔ سب سے زیادہ بارش گڑھی دوپٹہ میں 11 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران راولپنڈی‘ اسلام آباد سمیت بالائی پنجاب‘ بالائی وسطی خیبر پختونخوا‘ زیریں سندھ‘ ڈی جی خان‘ سبی‘ ژوب ڈویژن‘ کشمیر اور گلگت بلتستان میں آندھی اور تیز ہوائیں چلنے کے علاوہ چند ایک مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہے گا۔ گزشتہ روز ملک میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت دالبندین میں 47‘ دادو میں 45 اور بنوں میں 44 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔

جنگ

"Public Service"

I was always confused, when I heard the word "service" used by departments like Intelligence Service, Police Service, Postal Service, Telephone Service, Civil Service, Public Service, Customer Service etc.

Yesterday, I heard two dairy farmers talking. One of them said to the other that he had hired a bull to "service" his cows.

Now I understand what 'service' means and what all those departments are doing to this poor Nation....

میرے خدا مجھے اس کے نصیب میں لکھ دے

میرے وجود کی جاگیر اس نے مانگی ہے

آج خواب کی تعبیر اس نے مانگی ہے

اس کی قید میں رہتی ہوں میں پہلے بھی

نا جانے پھر کیوں زنجیر اس نے مانگی ہے

گمان ہوتا ہے وہ بھول سکتا ہے مجھے

کیوں کہ آج میری تصویر اس نے مانگی ہے

میرے خدا مجھے اس کے نصیب میں لکھ دے

کہ مجھ سے میری تقدیر اس نے مانگی ہے
پروین شاکر

دیر نہ کریں

غلطی تسلیم کرنے
اور
گناہ چھوڑنے میں کبھی
دیر نہ کریں
کیوں کہ
سفر جتنا طویل ہوگا ہے
واپسی اتنی ہی مشکل ہوتی جاتی ہے

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

اے چاند یہاں نہ نکلا کر
بے نام سے سـپنے دکھلا کر
یہاں الٹی گنگا بہتی ہے
اس دیس میں اندھے حاکم ہیں
نہ ڈرتے ہیں نہ نادم ہیں
نہ لوگوں کے وہ خادم ہیں
ہے یہاں پہ کاروبار بہت
اس دیس میں گردے بکتے ہیں
کچھ لوگ ہیں عالی شان بہت
اور کچھ کا مقصد روٹی ہے
وہ کہتے ہیں سب اچھا ہے
مغرب کا راج ہی سچا ہے
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

حبیب جالب

رب رب کردے بڈھے ہوگئے ملا پنڈت سارے

رب رب کردے بڈھے ہوگئے ملا پنڈت سارے
رب دا کھوج کھرا نہ لبھا سجدے کر کر ہارے
رب تے تیرے اندر وسدا وِچ قرآن اشارے
بلھے شاہ رب اونہوں ملدا جہڑا نفس نو مارے

دوستی سانس ہے

  • دوستی موسم نہیں جو اپنی مدت پوری کرے اور رخصت ہوجائے
  • دوستی ساون نہیں جو ٹوٹ کے برسے اور تھم جائے
  • دوستی آگ نہیں جو سلگے بھڑکے اور بجھ جائے
  • دوستی گلاب نہیں جو کھلے اور مرجھا جائے
  • دوستی تو سانس ہے جو چلے تو زندگی اور رکے تو موت بن جائے